logo logo
AI Search

آیت میں لا لکھا ہو تو وقف کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

آیت کے اختتام پہ گول دائرہ میں {لا} لکھا ہو تو وہاں وقف کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

آیت کے اختتام پرجو گول دائرہ ہوتا ہے، اگر اس کے اوپر ”لا“ لکھا ہو، تو وہاں پر وقف کرنا جائز ہے، البتہ! بغیر وقف کیے ملا کر پڑھنا بہتر ہے۔ اور اگر آیت کے درمیان میں "لا" لکھا ہو، تو پھر ملا کر پڑھنا ہی ضروری ہے، وقف کرنا، ناجائز ہے۔

فیضان تجوید میں ہے"           ۙ: اسی کو آیتِ لا کہتے ہیں، یہاں وقف قبیح نہیں ہے، بلکہ آیت ہونے کی وجہ سے وقف جائز ہے، البتہ بوجہ محلِ وقف نہ ہونے کے وصل بہتر ہے۔" (فیضان تجوید، ص 116، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اسی میں ہے "لا: یہ ’’لاَوَقْفَ عَلَیْہِ‘‘ کا مُخَفّف ہے۔ یہ وقف قبیح کی علامت ہے، یہاں ملا کر پڑھنا ضروری ہے کیونکہ ایسی جگہ وقف کرنے سے قباحت لازم آئے گی۔ اسی وجہ سے اس پر وقف ناجائز ہے۔" (فیضان تجوید، ص 116، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سرفراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5297
تاریخ اجراء: 29 صفر المظفر 1448ھ / 13 اگست 2026ء