بلند آواز سے ذکر افضل ہے یا آہستہ؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بلند آواز سے ذکر کرنا بہتر ہے یا آہستہ آواز میں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ذکرِ الٰہی کی دونوں صورتیں یعنی آہستہ اور بلند ، قرآن و سنت سے ثابت ہیں، البتہ افضل کیا ہے، تو فرد، وقت اور حالت کے اعتبار سے دونوں ہی افضل ہوتے ہیں، لہذا اُس شخص کے لیے آہستہ ذکر کرنا افضل ہے، جسے خود میں دکھاوے اور ریاکاری کا ڈر ہو یا جہاں بلند آواز سے کسی نمازی کی عبادت، مریض کی تکلیف یا کسی سوتے ہوئے شخص کی نیند میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو اور اس کے برعکس اگر ریاکاری کا خطرہ نہ ہو اور دوسروں کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچ رہی ہو، تو بلند آواز سے ذکر یا تلاوت کرنا مستحب بلکہ کئی حکمتوں کی صورت میں افضل اور بہتر ہے۔
سوال میں منقول آیات کو معتبر تفاسیر کے ساتھ اور ذکرِ جہری کے استحباب کے متعلق دیگر کلام نیچے بالترتیب دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔
سوال میں منقول پہلی آیت اور اُس کی تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ- اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ (55)﴾ ترجمۂ کنزالعرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آواز سے دعا کرو۔ بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (پ 08، الأعراف: 55)
یاد رہے کہ یہ آیت دعا کے بارے میں ہے، مطلق ذکر کے بارے میں نہیں، چنانچہ علامہ اسماعیل حقی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1127ھ / 1715ء) لکھتے ہیں: ادعوا اى متضرعين متذللين مخفين الدعاء ليكون اقرب الى الاجابة لكون الإخفاء دليل الإخلاص و الاحتراز على الرياء“ ترجمہ: تم عاجزی، انکساری اور پوشیدہ طریقے سے دعا مانگو، کہ وہ قبولیت کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ دعا کو پوشیدہ رکھنا اخلاص کی نشانی اور دکھاوے سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ (تفسیرروح البیان، جلد 03،صفحہ 177، مطبوعۃ دار الفکر، بیروت)
یونہی مفسر قرآن، علامہ خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 741ھ / 1341ء) لکھتے ہیں: المراد به حقيقة الدعاء هو الصحيح“ ترجمہ واضح۔ (تفسیر الخازن، جلد 2، صفحہ 210، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
مزید لکھا: و الأدب في الدعاء أن يكون خفيا لهذه الآية“ ترجمہ: اِس آیت کے سبب دعا کا ادب یہ ہے کہ وہ آہستہ ہو۔ (تفسیر الخازن، جلد 2، صفحہ 210، مطبوعہ دار الکتب العلمیة، بیروت)
معلوم ہوا کہ آیت مبارکہ میں جس عمل کو آہستہ آواز سے کرنے کا حکم دیا گیا، وہ دعا ہے، مطلق ذکر الہی نہیں۔ آیت کے آخری کلمات﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
”اعتداء فی الدعا“ کا مطلب:
آیت کے آخر میں حد سے بڑھنے سے مراد آواز کی بلندی نہیں ہے، بلکہ جس چیز کو مانگا جا رہا ہے، اُس میں حد سے بڑھنا ہے، مثلاً انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کا مرتبہ مانگنا یا آسمان پر چڑھنے کی دعا کرنا، اسی طرح جو چیزیں محال یا قریب بہ محال ہیں ان کی دعا کرنا، ہمیشہ کے لئے تندرستی اور عافیت مانگنا، ایسے کام کے بدلنے کی دعا مانگنا جس پر قلم جاری ہو چکا مثلاً لمبا آدمی کہے میرا قد کم ہو جائے یا چھوٹی آنکھوں وا لاکہے کہ میری آنکھیں بڑی ہو جائیں، و غیرذلک۔ تقریباً تمام مفسرین نے ”اعتداء“ کے تحت یہی لکھا ہے، جس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ یہاں آواز کی بلندی اور وہ بھی ہر طرح کے ذکر الہی میں ہرگز مراد نہیں، لہذا یہ آیتِ کریمہ تو اِس چیز پر حجت ہی نہیں کہ ذکر بالجہر ممنوع ہے، بلکہ اِس آیت کی مراد ہی مختلف ہے۔
”اعتداء“ کی مراد واضح کرتے ہوئے امام عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 710ھ / 1310ء) اِس آیت کے تحت ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: سيكون قوم يعتدون فى الدعاء و حسن المرء أن يقول اللّٰهم إني أسألك الجنة و ما قرّب إليها من قول و عمل و أعوذ بك من النار و ما قرب الیها من قول و علم ثم قرأ ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ ترجمہ: عنقریب کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے بڑھ جائیں گے۔ انسان کے لیے بس یہ کہنا ہی بہتر ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور ہر اس قول و عمل کا سوال کرتا ہوں، جو جنت کے قریب کر دے، اور جہنم سے اور ہر اس قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو جہنم کے قریب کر دے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾۔ (تفسیر النسفی، جلد 1، صفحہ 574، مطبوعہ دار الکلم الطیب، بیروت)
یونہی سنن أبي داؤد میں ہے: عبد اللہ بن مغفل سمع ابنه يقول: اللّٰهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها، فقال: أي بني، سل اللہ الجنة، و تعوذ به من النار، فإني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: إنه سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور و الدعاء“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کی دائیں طرف سفید محل عطا فرما۔ انہوں نے کہا کہ پیارے بیٹے! اللہ سے صرف جنت کا سوال کرو اور جہنم سے اس کی پناہ مانگو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو پاکی حاصل کرنے اور دعا کرنے میں حد سے بڑھ جائیں گے۔ (سنن ابی داؤد، جلد 01، صفحہ 71، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت)
علامہ نسفی رحمہ اللہ کی نقل کردہ روایت اور سنن ابو داؤد کی روایت میں موجود فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے بالکل واضح کر دیا کہ آیتِ کریمہ میں موجود ”اعتداء“ سے کیا مراد ہے اور آیت کی وہ تفسیر کہ جو خود نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہو، وہ نہایت قابلِ استناد و اعتبار ہوتی ہے، چنانچہ فن علوم القرآن کی معروف کتاب الإتقان في علوم القرآن میں علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 911ھ / 1505ء) نے لکھا: للناظر في القرآن لطلب التفسير مآخذ كثيرة أمهاتها أربعة: الأول: النقل عن النبي صلى اللہ عليه و سلم، و هذا هو الطراز المعلم“ ترجمہ: قرآن مجید کی تفسیر سمجھنے کے خواہش مند کے لیے بہت سے علمی ذرائع ہیں، جن میں سے بنیادی ذرائع چار ہیں۔ پہلا ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے منقول روایات ہیں اور یہی اعلیٰ اور مستند طریقہ ہے۔ (الإتقان في علوم القرآن، جلد 04، صفحۃ 207، مطبوعۃ الهيئة المصرية العامة للكتاب)
دوسری آیت اور اُس کی تفسیر:
ارشاد فرمایا گیا: ﴿وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں۔ (پ 02، البقرة: 186)
یہ آیت بھی سوال ودعا کے متعلق ہے، مطلق ذکر کے متعلق نہیں، چنانچہ اِس کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے صاحبِ ترجیح علامہ ابنِ کمال پاشا حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 940ھ / 1534ء) نےلکھا: رُوي أن أعرابيًّا قال لرسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: أقريبٌ ربُّنا فنناجيَه، أم بعيدٌ فنناديَه؟ فنزلت“ ترجمہ: روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا کہ کیا ہمارا پروردگار ہمارے قریب ہے کہ ہم آہستہ آواز میں التجا کریں یا وہ دور ہے کہ ہم اسے اونچی آواز سے پکاریں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر ابن کمال باشا، جلد 02، صفحۃ 32، مطبوعۃ مکتبۃ الارشاد، اسطنبول)
یونہی تفسیر روح البیان میں ہے: و سبب النزول ما روى ان أعرابيا قال لرسول اللہ صلى اللہ تعالى عليه و سلم أقريب ربنا فنناجيه أم بعيد فنناديه فقال تعالى ايماء الى سرعة اجابة الدعاء منهم ﴿وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ﴾۔ترجمہ واضح ہے۔ (تفسیر روح البیان، جلد 03، صفحہ 296، مطبوعۃ دار الفکر، بیروت)
ذکر بالجہر پر آیت قرآنی سے دلیل:
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا﴾ ترجمہ: پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرلو تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے، بلکہ اس سے زیادہ (ذکر کرو)۔ (پ 02، البقرۃ: 200)
زمانہ جاہلیت میں عرب حج کے بعد کعبہ کے قریب یا جمرات کے قریب کھڑے ہو کر اپنے باپ دادا کے فضائل بلند آواز سے بیان کیا کرتے تھے، چنانچہ اِس آیت میں فرمایا گیا کہ یہ شہرت اور خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں، اس کے بجائے ذوق وشوق کے ساتھ ذکر الٰہی کرو اور اُسی انداز سے کرو، جیسے اپنے آباء کا ذکرکرتے تھے اور وہ لوگ ذکرِآباء بلند آواز سے ہی کیا کرتے تھے، لہذا ذکرِ الہی بھی یونہی کرو، چنانچہ عادتِ اہلِ عرب اور جمہور مفسرین کی رائے نقل کرتے ہوئے امام قرطبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 671ھ / 1273ء) لکھتے ہیں: كانت عادة العرب إذا قضت حجها تقف عند الجمرة، فتفاخر بالآباء، و تذكر أيام أسلافها من بسالة و كرم، و غير ذلك، حتى إن الواحد منهم ليقول: اللّٰهم إن أبي كان عظيم القبة، عظيم الجفنة، كثير المال، فأعطني مثل ما أعطيته، فلا يذكر غير أبيه، فنزلت الآية ۔ ۔ ۔ هذا قول جمهور المفسرين“ ترجمہ: عربوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ اپنا حج مکمل کر لیتے تو جمرات کے پاس کھڑے ہو جاتے اور اپنے باپ دادا پر فخر کرتے اور ان کی بہادری، سخاوت اور دوسرے کارناموں کا ذکر کرتے۔ یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص یوں کہتا کہ اے اللہ! میرا والد بڑے مرتبے اور دسترخوان والا اور بہت مالدار تھا، تو مجھے بھی ویسا ہی عطا فرما، جیسا تو نے اسے عطا فرمایا۔ وہ اپنے باپ کے سوا کسی کا ذکر نہ کرتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مفسرین کی اکثریت کا یہی قول ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جلد 02، صفحہ 431، مطبوعہ دار الکتب المصریۃ، قاھرۃ)
رب کا ذکر، اُسی طرح بلند آواز سے ہونے کا حکم دیا گیا، جیسے آباء کا کرتے تھے، چنانچہ امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 606ھ / 1209ء) لکھتے ہیں: فلما أنعم اللہ عليهم بالإسلام أمرهم أن يكون ذكرهم لربهم كذكرهم لآبائهم“ ترجمہ واضح ہے۔ (تفسير الرازي، جلد 05، صفحہ 333، مطبوعة دار احیاء التراث العربی)
اِسی آیت کے تحت عصرِ حاضر کی معتبر تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے بلند آواز سے ذکر کرنا اور لوگوں کا اکٹھے مل کر ذکر کرنا دونوں ثابت ہوتے ہیں کیونکہ عرب لوگ اپنے باپ دادا کا ذکر بلند آواز سے کرتے تھے اور مجمع میں کرتے تھے۔ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 319، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
احادیث و آثار سے جہری ذکر کا ثبوت:
ذکرِ جہری پر کم وبیش 50 احادیث دلالت کرتی ہیں۔ 25 روایات علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے رسالے نتيجة الفكر في الجهر بالذكر میں جمع فرمائیں اور اُس پر اضافہ کرتے ہوئے اِس تعداد کو علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ نے اپنے نہایت تحقیقی رسالہ سباحة الفكر في الجهر بالذكر میں 50 تک بڑھایا۔ اُن میں سے چند روایات کو نقل کیا جاتا ہے۔
(1) حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں نماز کے فوری بعد بلند آواز سے ذکر ہوتا تھا، چنانچہ ابو عبداللہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:256ھ/870ء) حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی دی گئی خبر کو روایت کرتے ہوئے ناقِل ہیں: ان ابن عباس رضي اللہ عنهما أخبره: أن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة، كان على عهد النبي صلى اللہ عليه و سلم و قال ابن عباس: كنت أعلم إذا انصرفوا بذلك إذا سمعته“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اپنے غلام (ابو مَعبَد حضرت نافِذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ)کو خبر دی کہ لوگوں کے فرض نماز سے فارغ ہونے کے فوراً بعد بلند آواز سے ذکر الہی میں مشغول ہونا، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے عہدِ مبارک سے رائج ہے۔ خود حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: میں جب ذکر کو سنتا تھا، تو جان لیا کرتا تھا کہ لوگ نماز مکمل کر چکے ہیں۔ (صحیح البخاری، جلد 01، باب الذكر بعد الصلاة، صفحہ 168، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
(2) حدیث قدسی میں لوگوں کے درمیان ذکرِ جہری کی فضیلت بیان کی گئی، چنانچہ صحیح البخاری میں ہی ہے: و إن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم“ ترجمہ: اور اگر وہ مجھے کسی گروہ میں یاد کرے، تو میں اسے اُس سے بہتر گروہ میں یاد کرتا ہوں۔ (المرجع السابق، جلد 09، صفحہ 120)
اِس روایت کو نقل کر کے علامہ خیر الدین رملی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: و الذکر فی الملاء لا یکون الا عن جھر وکذا حِلَق الذکر“ ترجمہ: گروہ میں ذکرِ الہی جہر کے بغیر نہیں ہو سکتا، یونہی ذکر کے حلقوں میں بھی جہر ہی ہوتا ہے۔ (الفتاوی الخیریۃ، جلد 2، صفحہ 181، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)
(3) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم وتر کے بعد بلند آواز سے تسبیح پڑھتے، چنانچہ مصابیح السنۃ میں ہے: كان رسولُ اللہ صلى اللہ عليه و سلم إذا سلَّم من الوترِ قال: سبحانَ الملكِ القُدُّوس ثلاثَ مراتٍ يرفعُ في الثالثةِ صَوْتَه“ ترجمہ: جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم وتر کا سلام پھیرتے، تو تین مرتبہ پڑھتے: سبحانَ الملك القُدُّوس“ اور تیسری مرتبہ اپنی آواز مبارک کو بلند فرماتے۔ (مصابيح السنة، جلد 01، صفحہ 445، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت)
اس کے تحت المفاتيح في شرح المصابيح میں ہے: هذا الحديث يدل على أن الذكر برفع الصوت جائز، بل مستحب إذا لم يكن فيه الرياء ليتعلمه الناس، لإظهار الدين و وصول بركة صوت الذكر إلى السامعين و الدور و البيوت و الحيوانات“ ترجمہ: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنا، نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں دکھاوا اور ریاکاری نہ ہو۔ اس طرح ذکر کرنے سے لوگ اس سے سیکھتے ہیں، دین کا اظہار ہوتا ہے اور ذکر کی برکت، سننے والوں، گھروں، مکانوں اور جانوروں تک پہنچتی ہے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، جلد 02، صفحہ 289، مطبوعہ دار النوادر، شام)
(4) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے نماز کے بعد بآوازِ بلند کلمہ طیبہ اور چند اذکار پڑھے، چنانچہ صحیح مسلم میں ہے: كتب معاوية إلى المغيرة: اكتب إلي بشيء سمعته من رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم. قال: فكتب إليه سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول إذا قضى الصلاة: ”لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له، له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير، اللّٰهم لا مانع لما أعطيت و لا معطي لما منعت، و لا ينفع ذا الجد منك الجد۔ ترجمہ واضح ہے۔ (صحیح المسلم، جلد 2، صفحه 96، مطبوعه دار احیاء التراث العربی، بیروت)
(5) صحابہِ کرام کو ذکر کے حلقوں میں شمولیت کا حکم فرمایا، چنانچہ سنن الترمذی میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا. قالوا: وما رياض الجنة؟ قال: حِلَق الذكر“ ترجمہ: جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو، تو وہاں سے خوب فائدہ اٹھایا کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے جواباً فرمایا: ذکر کے حلقے۔ (سنن الترمذی، جلد 05، صفحہ 488، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)
یہاں ذکر الہی کےحلقوں سے مراد ایسے حلقے ہیں، جہاں ذکر اپنے اولین و متبادرمعنی یعنی تسبیح و تکبیر کی شکل میں ہو۔ اِسے غیر بدیہی معنی کی طرف لے جانا، یعنی مذاکرہِ علم وغیرہ مراد لینا، فی نفسہ تو درست ہو سکتا ہے لیکن اولین معنی کا انکار ہرگز نہیں ہوسکتا، کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ بلاضرورت کسی لفظ کو حقیقی اور متبادر معنی سے ہٹانا درست نہیں ہوتا، چنانچہ اِسی حدیث کے تحت ذکر کے بدیہی معنی کو متعین کرتے ہوئے علامہ طیبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا: وأن الذكر هو قوله:سبحان اللہ، والحمد لله، ولا إله إلا اللہ، و اللہ أكبر“ ترجمہ واضح ہے۔ (شرح المشكاة للطيبي، جلد 05، صفحہ 1734، مطبوعہ مکتبۃ نزار)
یہاں یہ بھی وہم نہ ہو کہ حلقہِ ذکر سے ذکرِ جہری کا ثبوت کیسے ہوا، کیونکہ اکٹھے ہو کر آہستہ ذکر ہونا بھی تو ممکن ہے۔ یاد رکھیے کہ ذکر بالجہر کا ثبوت یوں ہوتا ہے کہ اگر ذکر صرف آہستہ ہی کرنا مقصود ہوتا، تو پھر ایک جگہ مجمع اور حلقے کی صورت میں اکٹھے بیٹھنے کا کوئی بھی نمایاں فائدہ باقی نہیں رہتا، کیونکہ اگر سری ذکر ہی کرنا ہوتا تو وہ تو اپنے گھروں میں بھی ہو سکتا تھا، لہذا معلوم ہوا کہ بالترتیب حلقہ بنا کر بیٹھنا اور پھر ذکر کرنا اِسی مقصد سے ہوتا تھا کہ جہراکیا جائے، چنانچہ علامہ لکھنوی رحمہ اللہ نے لکھا: اذا کان الذکر سرا، فلا یظھر للاجتماع فائدۃ معتد بھا“ ترجمہ: جب حلقہ بنا کر بھی ذکر کو سری قرار دیا جائے، تو پھر اکٹھے ہو کر حلقے بنانے اور جمع ہونے کا کوئی معتد بہا فائدہ ظاہر نہیں ہوتا۔ (سباحۃ الفکر فی الجھر بالذکر، صفحہ 65، مطبوعۃ دار السلام)
(6) حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو اِتنی بلند آواز سے ذکر الہی کیا گیا کہ اہلِ مسجد الحرام نے سنا، چنانچہ التبصرۃ لابن الجوزی میں ہے: قال ابن عباس: لما أسلم عمر كبر أهل الدار تكبيرة سمعها أهل المسجد“ ترجمہ واضح ہے۔ (التبصرۃ لابن الجوزی، جلد 01، صفحہ 424، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بيروت)
دو طرح کی روایات میں تطبیق و توفیق:
اگر ذکر بالجہر کے عنوان سے ذخیرہِ حدیث کا بغور مطالعہ کیا جائے تو دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں۔ بہت سی احادیث مثلا ”خیر الذکر الخفی“ وغیرہ میں آہستہ ذکر کو بہتر کہا گیا اور دوسری طرف کم وبیش 50 سے زائد روایات وہ بھی ہیں کہ جو ذکرِ جہری کی دلیل بنتی ہیں۔ چنانچہ شارحین حدیث اور مقاصدِ شرع سے آشنا فقہائے دین نے دونوں روایات میں نہایت خوبصورت تطبیق وتوفیق دی۔ الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ شارحین وفقہاء کی فہرست ہے، جنہوں نے کم وبیش یہی تطبیق بیان فرمائی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آہستہ اور بلند آواز سے ذکر یا تلاوت کرنے کا معاملہ حالات، اشخاص اور نیتوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ آہستہ ذکر کرنا اس شخص کے لیے افضل ہے، جسے خود میں دکھاوے اور ریاکاری کا ڈر ہو یا جہاں بلند آواز سے کسی نمازی کی عبادت ، مریض کے ضرر یا کسی سوتے ہوئے شخص کی نیند میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو۔ اس کے برعکس اگر ریاکاری کا خطرہ نہ ہو اور دوسروں کو کوئی تکلیف بھی نہ پہنچ رہی ہو، تو بلند آواز سے ذکر یا تلاوت کرنا زیادہ افضل اور بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلند آواز سے پڑھنے میں محنت زیادہ ہوتی ہے، اس کی برکت اور فائدہ دوسروں تک بھی پہنچتا ہے، پڑھنے والے کا دل بیدار رہتا اور اُسے یکسوئی میسر آتی ہے، نیند اور سستی دور ہوتی ہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی بیداری اور غفلت سے نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ چنانچہ نیت اور حالات کے مطابق دونوں ہی طریقوں پر عمل کرنا اپنی اپنی جگہ درست اور باعثِ اجر ہے۔
احناف سے علامہ خیر الدین رملی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”الفتاوی الخیریۃ“ میں اور شوافع سے امام شرف الدین نَوَوِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 676ھ / 1277ء) لکھتے ہیں: قال الامام أبو حامد الغزالي و غيره من العلماء و طريق الجمع بين الأحاديث و الآثار المختلفة في هذا أن الإسرار أبعد من الرياء فهو أفضل في حق من يخاف ذلك فإن لم يخف الرياء فالجهر و رفع الصوت أفضل لان العمل فيه أكثر ولأن فائدته تتعدى إلى غيره والمتعدي أفضل من اللازم و لأنه يوقظ قلب القارئ و يجمع همه إلى الفكر فيه و يصرف سمعه إليه و يطرد النوم و يزيد في النشاط و يوقظ غيره من نائم و غافل و ينشطه قالوا فمهما حضره شئ من هذه النيات فالجهر أفضل فإن اجتمعت هذه النيات تضاعف الأجر“ مفہوم بیان ہو چکا۔ (التبيان في آداب حملة القرآن، صفحۃ 105، مطبوعہ دار ابن حزم، بیروت)
اِشکال: بعض افراد ذکر بالجہر کے متعلق یہ اعتراض کرتے ہیں، کہ فقہ حنفی میں بعض معتبر کتابوں میں ذکر بالجہر کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کی تمام عبارتوں کا جواب یہ ہے کہ فقہِ حنفی ہی کی مستند کتابوں میں اور کثیر احادیث میں ذکر بالجہر کومستحب اور کئی صورتوں میں افضل قرار دیا گیا ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، لہٰذا جن کتابوں میں ذکر بالجہر کو حرام کہا گیا، وہ مطلق نہیں ہے بلکہ صرف اُس صورت پر محمول ہے کہ جب وہ ”الجھر الفاحش المضر“ ہو یعنی جسے فقہائے احناف نے ”جہر مفرط“ کہا ہے، یعنی ایسا ذکر جس میں آواز کی شدید بلندی خود کو تکلیف دے یا ایسی بلندی جو دوسروں کی اذیت کا سبب بنے۔ چنانچہ علامہ رملی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: فان قلت صرح في الخانية بأن رفع الصوت بالذكر حرام ۔ ۔ ۔ محمول على الجهر الفاحش المضر“ ترجمہ مفہوماً گزر چکا۔ (الفتاوی الخیریۃ، جلد 2، صفحہ 181، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)
خلاصہ:
جب خوفِ ریا اور اذیتِ غیر نہ ہو، نیز جہر بھی درجہِ اعتدال میں ہو، تو ذکر جہری کرنا افضل ہے، لیکن جب ریا کا شائبہ، کسی سوتے کو تکلیف، نمازی کے اذکار میں خلل یا مریض کو ضرر ہو تو پھر آہستہ ذکر کرنا ہی ضروری ہے۔یہی احادیث مبارکہ میں تطبیق کی صورت اور مقاصدِ شرعیہ اور حکمتِ دینیہ کے موافق ہے۔ امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ہاں دوسرے مسلمانوں کی ایذاء نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے، سوتوں کی نیند میں خلل نہ ہو، نمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہو، کما نص علیہ فی البحر الرائق ورد المحتار وغیرھا۔ جب وقت لوگوں کی نیند کا ہویا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو، مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختار مطلق ہو، کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق مجنون کہیں اور بدمذہب بدعت۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 179، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مزید ایک مقام پر لکھا: ذکر جلی جائز ہے۔ حدمعین یہ ہے کہ اتنی آواز نہ ہو جس سے اپنے آپ کو ایذا ءہو یا کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو تکلیف پہنچے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 182، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-10085
تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1448ھ / 06 جولائی 2026ء