کیا گائے کے گوشت میں بیماری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیا گائے کا گوشت کھانے سے حدیث پاک میں منع کیا گیا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث درست ہے؟ نیز کیا واقعی گائے کے گوشت میں بیماری ہے اور کیا اس حدیث کی رو سے گائے کا گوشت نہیں کھاسکتے؟
جواب
یہ روایت المستدرک للحاکم اور بعض دیگر کتبِ حدیث میں قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے، لیکن اس سے نہ گائے کے گوشت میں یقینی طور پر بیماری کا ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی اس کے کھانے کی شرعی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
اولاً: اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ لہذا اس روایت کی بنیاد پر گائے کے گوشت کو مضر، یا ممنوع قرار دینا درست نہیں۔
ثانیاً: گائے شریعت میں حلال جانور ہے، اس کی حلت سابقہ شریعتوں سے چلی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں حلال چوپایوں کے ضمن میں گائے کا بھی ذکر فرمایا ہے: ﴿وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا۔ (پارہ 8، سورۃ الانعام: 144) اگر گائے کا گوشت اپنی ذات میں مطلقاً نقصان دہ ہوتا، تو شریعت اسے مطلقاً حلال قرار نہ دیتی۔ اس کے مطلق حلال ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بذاتِ خود مضر غذا نہیں۔
ثالثاً: احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرف سے گائے کی قربانی فرمائی۔ اگر گائے کا گوشت فی نفسہٖ مضر ہوتا، یا اس سے اجتناب شرعاً مطلوب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی چیز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل نہ فرماتے۔
رابعاً: گائے کے گوشت کو داء (بیماری) قرار دینے کی بعض علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ گائے کے گوشت کا بیماری ہوناخاص اہلِ حجاز کے حالات اور وہاں کی آب و ہوا کے اعتبار سے تھا۔ حجاز کی آب و ہوا خشک تھی اور گائے کے گوشت میں بھی خشکی غالب ہے، اس کے استعمال سے وہاں کے لوگوں کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اس بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بطورِ طبی رہنمائی اس سے احتیاط کی تلقین فرمائی۔ لہذا یہ عمومی حکم نہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ گائے کے گوشت کو مطلقاً بیماری قرار دینا درست نہیں۔ البتہ بسیار خوری اور بے اعتدالی کی بنیاد پر، یا کسی مخصوص مرض، یا مزاج کے اعتبار سے یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے، لیکن یہ معاملہ صرف گائے کے گوشت کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ بہت سی ایسی غذائیں ہوتی ہیں جو بےاعتدالی کے سبب، یا بعض بیماریوں میں، یا بعض مزاج والوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، حالانکہ وہ بذاتِ خود مفید اور عام لوگوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتیں جیسے فی زمانہ فاسٹ فوڈ، پیزا، برگر، تلی ہوئی چیزیں، بہت میٹھی چیزیں وغیرہا کھانا بھی بہت سے لوگوں کو نقصان دیتاہے۔
امام محمد بن عبد الله حاكم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ المستدرك على الصحيحين میں حدیث روایت کرتے ہیں: حدثني أبو بكر بن محمد بن أحمد بن بالويه، ثنا معاذ بن المثنى العنبري، ثنا سيف بن مسكين، ثنا عبد الرحمن بن عبد اللہ المسعودي، عن الحسن بن سعد،» عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود، عن أبيه، عن النبي صلى اللہ عليه و سلم، قال: عليكم بألبان البقر و سمنانها، و إياكم و لحومها فإن ألبانها و سمنانها دواء و شفاء و لحومها داء هذا حديث صحيح الإسناد، و لم يخرجاه‘‘ ترجمہ: مجھ سے ابوبکر بن محمد بن احمد بن بالویہ نے روایت بیان کی، انہوں نے فرمایا: ہم سے معاذ بن مثنیٰ عنبری نے روایت بیان کی، انہوں نے فرمایا: ہم سے سیف بن مسکین نے روایت بیان کی، انہوں نے فرمایا: ہم سے عبدالرحمن بن عبد اللہ مسعودی نے حسن بن سعد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: تم گائے کے دودھ اور اس کے گھی کو لازم پکڑو، اور اس کے گوشت سے بچو، کیونکہ اس کا دودھ اور اس کا گھی دوا اور شفا ہیں، جبکہ اس کا گوشت بیماری ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ (المستدرك على الصحيحين، کتاب الطب، جلد 4، صفحہ 448، رقم الحدیث: 8232،دار الكتب العلمية – بيروت)
اس روایت کے بارے میں امام محمد بن عبد الله زرکشی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 794ھ) لکھتے ہیں: و قال هذا حديث صحيح و لم يخرجاه قلت بل هو منقطع و في صحته نظر فإن في الصحيح ان النبي صلى اللہ عليه و سلم ضحى عن نسائه بالبقر و هو لا يتقرب بالداء‘‘ ترجمہ: امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے، اور امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔میں (مصنف) کہتا ہوں: بلکہ یہ روایت منقطع ہے، اور اس کی صحت محلِ نظر ہے؛ کیونکہ صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایسی چیز کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل نہیں کرتے جو بیماری ہو۔ (اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة، صفحہ 148،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اس روایت کے بارے میں امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی (متوفی 902ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قلت: بل سنده ضعيف، و المسعودي اختلط و الحديث منقطع‘‘ ترجمہ: میں (امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی) کہتا ہوں: بلکہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، کیونکہ مسعودی آخری عمر میں اختلاط (حافظے میں خرابی) کا شکار ہوگئے تھے، اور حدیث منقطع ہے۔ (الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية، جلد 1، صفحہ 21 - 25، دار الراية للنشر و التوزيع)
گائے کا گوشت کھانے سے بچنے والی بات اہل حجاز کے ساتھ خاص ہے، چنانچہ امام حلیمی رحمۃ اللہ علیہ المنہاج فی شعب الایمان میں لکھتے ہیں: و يحتمل أن يكون قال ذلك، لأن الأغلب عليها البرد واليبس، و كانت تلك البلاد شقة يابسة، فلم يأمن إذا انضم إلى ذلك الهواء أكل لحم البقر أن يزيدهم يبسًا فيتضرروا به. و إما ألبانها فرطبة، و سمنها بارد جيدًا. ففي كل واحد منهما الشفاء من ضرر و اللہ أعلم‘‘ ترجمہ: اور یہ احتمال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ بات اس وجہ سے فرمائی ہو کہ گائے کے گوشت میں غالب صفت ٹھنڈک اور خشکی ہے، اور وہ بلاد (یعنی حجاز) بھی سخت اور خشک تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اندیشہ تھا کہ جب اس (خشک) ہوا کے ساتھ گائے کا گوشت کھانے کا اضافہ ہوگا تو ان میں خشکی مزید بڑھ جائے اور وہ اس سے نقصان اٹھائیں۔ اور جہاں تک اس کے دودھ کا تعلق ہے تو وہ تر (یعنی رطوبت والا) ہے، اور اس کا گھی ٹھنڈا اور عمدہ ہے۔ پس ان دونوں (دودھ اور گھی) میں ہر ایک کے اندر بیماری اور نقصان کا علاج موجود ہے، و اللہ اعلم۔ (المنهاج فی شعب الايمان، جلد 2، صفحہ 31، مطبوعہ دار الفكر، بیروت)
امام حلیمی کی بیان کردہ وجہ کو بہت سے محدثین اور مفسرین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور اسے مستحسن قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام محمد بن عبد الله زركشی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 794ھ) نے التذكرة في الأحاديث المشتهرة میں، امام محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 902ھ) نے المقاصد الحسنة میں، امام عبد الرحمن بن ابی بكر، جلال الدين سيوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 911ھ) نے الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرةمیں، امام محمد طاهر بن علی فتنی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 986ھ) نے تذكرة الموضوعات میں، امام عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1031ھ) فيض القدير شرح الجامع الصغير میں، امام اسماعيل بن محمد عجلونی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1162ھ) نے كشف الخفاء میں، امام اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1127ھ) نے ”روح البيان‘‘ میں نقل فرمایا:
چنانچہ روح البیان میں ہے: و فى الحديث (عليكم بالبان البقر و سمنانها و إياكم و لحومها فان ألبانها و سمنانها دواء و شفاء و لحومها داء) و قد صح ان النبي عليه السلام ضحى عن نسائه بالبقر۔ قال الحليمي هذا ليبس الحجاز و يبوسة لحم البقر و رطوبة لبنها و سمنها فكأنه يرى اختصاصه ذلك به و هذا التأويل المستحسن و الا فالنبى عليه السلام لا يتقرب الى اللہ تعالى بالداء فهو انما قال ذلك فى البقر لتلك اليبوسة‘‘ ترجمہ: اور حدیث میں ہےتم گائے کے دودھ اور اس کے گھی کو لازم پکڑو، اور اس کے گوشت سے بچو، کیونکہ اس کا دودھ اور گھی دوا اور شفا ہیں، جبکہ اس کا گوشت بیماری ہے۔ حالانکہ یہ بات صحیح سند سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواجِ مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ امام حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم حجاز کی خشکی (خشک آب و ہوا) اور گائے کے گوشت کی خشکی، جبکہ اس کے دودھ اور گھی کی تری کی وجہ سے ہے، گویا کہ آپ نے اس کو حکم اسی خاص کیفیت کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے۔ اور یہ اچھی تاویل ہے، ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے کسی بیماری والی چیز کو اختیار نہیں کرتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ بات گائے کے بارے میں اس کی اسی طبی خاصیت (خشکی) کی وجہ سے فرمائی۔ (روح البیان، جلد 3، صفحہ 116، دار الفكر، بيروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ گائے کی حلت (حلال ہونے) کا حکم کس وقت سے جاری ہوا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے بھی اس کا گوشت تناول فرمایا (یعنی اس کا گوشت کھایا) یا نہیں؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: گائے کی حلت شریعت قدیمہ ہے۔ اللہ عزوجل قرآن عظیم میں فرماتاہے:﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَ (24) اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ- قَالَ سَلٰمٌۚ- قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ(25) فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ (26)﴾ دوسری جگہ فرمایا: ﴿بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ﴾۔ یعنی کیا آئی تیرے پاس خبر ابراہیم کے عزت دار مہمانوں کی، جب وہ اس کے پاس آئے بولے سلام، کہا سلام انجانے لوگ ہیں پھر جلد ی کرتا اپنے گھر گیا، سوان کے کھانے کو لے آیا ایک فربہ بچھڑا بھُنا ہوا۔
احادیث سے ثابت ہے کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے قربانی کی، اور قربانی کا گوشت کھانے کا حکم فرماتے، مگر خود حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تناول فرمایا یانہیں، اس بارے میں کوئی تصریح( یعنی واضح طور پر گائے کے گوشت کھانے کا ذکر) حدیث میں اس وقت پیش نظر نہیں، واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 321، 320، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے گائے کی قربانی فرمائی اوراس کے کھانے کھلانے کاحکم فرمایا۔ خود بھی ملاحظہ فرمایا (یعنی خود بھی اس کا گوشت کھایا) یا نہیں، اس کا ثبوت نہیں،دنیا کی ہزاروں نعمتیں ہیں کہ حضور نے قصدا تناول نہ فرمائیں۔ گوشت گاؤ(گائے کے گوشت) کی مذمت میں جو حدیث ذکر کی جاتی ہے، صحیح نہیں (یعنی درجہ صحت پر نہیں)، و اللہ تعالٰی اعلم۔
شہزادہ اعلیٰ حضرت، حجۃ الاسلام مولانا حامدرضاخان علیہ رحمۃ المنّان نے اس پر حاشیہ لكھا کہ حدیثِ مسلم کتا ب الزکوٰۃ کہ بریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے گوشت گاؤ (گائے کا گوشت) صدقہ میں آیا، وہ حضور کے پاس لایا گیا اور حضورسے عرض کیا گیا کہ یہ صدقہ ہے کہ بریرہ کو آیا، فرمایا اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔ اس سے بظاہر تناول فرمانا معلوم ہوتا ہے ۱۲ حجۃ الاسلام حامدر ضا رضی اللہ عنہ۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 321، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
گائے کا گوشت مطلقاً نقصان دہ نہیں بلکہ بعض طبیعتوں کیلئے تو بکری کے گوشت سے بھی زیادہ فائدے مند ہوتا ہے، چنانچہ ملفوظات اعلی حضرت میں ہے کہ حاضرین میں گائے کا گو شت کھانے کا اور اس کے مُضِر (یعنی نقصان دہ) ہونے کا ذکر آیا۔ اس پر (سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے) فرمایا: وہ قطعاً حلال اور نہایت غریب پر ور گو شت (یعنی غریبوں کی استطاعت کے مطابق سستا اور آسانی سے دستیاب گوشت ہے) اور بعض اَمزِ جہ (یعنی طبیعتوں) میں گو شتِ بُز (یعنی بکری کے گوشت) سے نافع تر (یعنی زیادہ مفید) ہے۔ بہتیرے (بہت سے) گو شت کے شوقین اِسے پسند کرتے اور بکری کے گو شت کو بیمار کی خوراک کہتے ہیں اور اس کی قربانی کا تو خاص قرآنِ عظیم میں ارشاد ہے (پ 1، البقرہ: 71) اور خود حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اِس (یعنی گائے) کی قربانی ازواجِ مطہرات (رضی اللہ تعالیٰ عنہن) کی طرف سے فرمائی۔ (ملفوظاتِ اعلی حضرت، صفحہ 68، 67مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1261
تاریخ اجراء: 22 محرم الحرام 1448ھ / 08 جولائی 2026ء