logo logo
AI Search

کسی کی تعظیم کیلئے کھڑے ہونے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کسی کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے سے حدیث پاک میں منع کیا گیا ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی معزز شخص، عالم یا بزرگ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونے کا حکم شرعی کیا ہے؟ بعض احادیث سے بظاہر اس کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، مثلاً نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عجمیوں کی طرح کسی کے لیے بطورِ تعظیم کھڑے ہونے سے منع فرمایا ہے، یونہی مشکوۃ شریف کی روایت کے مطابق صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اسے پسند نہیں فرماتے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان ممانعت والی احادیث کی روشنی میں قیام تعظیمی کا اصل حکم کیا ہے؟ نیزممانعت پر دلالت کرنے والی ان احادیث کا درست مفہوم اور توجیہ کیا ہے؟

جواب

دینی شخصیت مثلاً صالح عالم دین، مشائخ کرام، اساتذہِ علم دین، والدین اور نیک حکمران کی تعظیم اور عزت کے لیے کھڑا ہونا، جائز بلکہ مستحب عمل ہے۔روایات اور آثارِ صحابہ سے ایسا قیام ثابت ہے۔ جہاں تک سوال میں جن دو روایات کی طرف اشارہ ہے، کہ جن میں بظاہر تعظیماً کھڑے ہونے کو ناپسند قرار دیا گیا، وہ دونوں حدیثیں اور اُن کے متعلق شارحینِ حدیث کی بیان کردہ تفصیلات و توجیہات درج ذیل ہیں۔

پہلی حدیث:

مشکوۃ المصابیح میں ہے: خرج رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم متكئا على عصا فقمنا فقال: لا تقوموا كما يقوم الأعاجم يعظم بعضها بعضا“ ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم ایک لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے، تو ہم کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم اس طرح کھڑے نہ ہوا کرو، جس طرح عجمی ایک دوسرے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ (مشكاة المصابيح، جلد 3، صفحہ 1332،مطبوعہ المکتب الاسلامی، بیروت)

حدیث مبارک میں أعاجم سے مراد اُس زمانے کے فارسی اور رومی تھے۔ وہ لوگ اپنے سلاطین کے آگے محض ان کے مال اور منصب کی خاطر کھڑے ہوتے تھے، لہذا اِس روایت میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے عجمیوں کی طرح مال ومنصب کی وجہ سے قیام سے منع فرمایا ہے، چنانچہ اِسی روایت کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: أي: لماله و منصبه و إنما ينبغي التعظيم للعلم و الصلاح“ ترجمہ: (ایسے کھڑے نہ ہو، جیسے فارسی اور رومی) مال اور عہدے کی وجہ سے (کھڑے ہوتے ہیں)، جبکہ تعظیم تو صرف علم اور نیکی کی وجہ سے ہونی چاہیے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2974، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، لبنان)

صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کو نفسِ قیام میں اُن سے مشابہت کی وجہ سے منع کیا گیا، ورنہ اُن کا قیام مال ومنصب کی خاطر نہیں تھا، بلکہ وہ تو خالص نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم کرنے والے تھے، چنانچہ اِسی شرح میں ہے: فإنهم لا شك أنهم إنما قاموا لله و تعظيما لرسول اللہ“ ترجمہ: اس میں تو کسی طرح کا شک نہیں کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ مصرف رضائے الہی اور تعظیم مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2974، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، لبنان)

اِسی اعاجم والی حدیث کے تحت  شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان  میں ہے: و المرادبالأعاجم: فارس و الروم۔ ۔ ۔ و فيه: النهي عن قيام الغلمان و الأتباع على رأس متبوعهم الجالس لغير حاجة؛ لأنه من أفعال المتكبرين، و أما القيام للوالد و الفضلاء إذا دخلوا فليس من هذا، دلت عليه الأحاديث“ ترجمہ: اعاجم سے مراد فارس اور روم کے لوگ ہیں۔ اس حدیث میں خدام اور متبعین کے اپنے بیٹھے ہوئے پیشوا کے سامنے بلا ضرورت کھڑے رہنے کی ممانعت ہے، کیونکہ یہ متکبرین کا انداز ہے، البتہ والد یا بزرگوں اور اہل علم کے آنے پر ان کے احترام میں کھڑے ہونا، اس ممانعت میں شامل نہیں ہے، کیونکہ دیگر احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔ (شرح سنن أبي داؤد لابن رسلان، جلد 19، صفحہ 585، مطبوعہ دار الفلاح، مصر(

دوسری حدیث:

سنن الترمذی میں ہے: لم يكن شخص أحب إليهم من رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، و كانوا إذا رأوه لم يقوموا لما يعلمون من كراهيته لذلك“ ترجمہ: صحابہ کرام کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ کوئی بھی پیارا نہیں تھا، اس کے باوجود وہ جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اس بات کو ناپسند فرماتے ہیں۔ (جامع الترمذی، جلد 04، صفحہ 466، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)

شارحینِ حدیث نے کراہیت کی تین وجوہات بیان کی ہیں۔ (1) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم عاجزی فرماتے ہوئے اِس قیام کو ناپسند کرتے تھے۔ (2) متکبرین کے انداز کی مخالفت کرتے ہوئے آپ اِس قیام کو ناپسند فرماتے تھے۔ (3) جب دو افراد کے مابین محبت بروجہ  کامل ہو، تو اُس محبت کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف انداز میں اظہار کی حاجت بھی نہیں رہتی، نیز دونوں کے درمیان تکلفات اٹھ جاتے ہیں کہ تکلفات باقی رہنا ایک قسم کی اجنبیت پر دلیل ہے، لہذا آپ اِن تکلفات کو ناپسند جانتے تھے۔

پہلی وجہ یعنی عاجزی کے متعلق شرح المصابيح لابن الملك میں ہے: إنما كره صلى اللہ عليه و سلم أن يقام له للتواضع“ ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے محض عاجزی کی وجہ سے اپنے لیے کھڑے ہونے کو ناپسند فرمایا تھا۔ (شرح المصابيح لابن الملك، جلد 05، صفحہ 184، مطبوعہ ادارة الثقافة الاسلامية)

دوسری وجہ یعنی متکبرین کے انداز سے بچنے کے متعلق مرقاۃ المفاتیح میں ہے:تواضعا لربه و مخالفة لعادة المتكبرين و المتجبرين، بل اختار الثبات على عادة العرب في ترك التكلف في قيامهم وجلوسهم، و أكلهم و شربهم، و لبسهم و مشيهم، و سائر أفعالهم وأخلاقهم، و لذا روي: «أنا و أتقياء أمتي برآء من التكلف“ ترجمہ: (نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا اپنے لیے قیام کو ناپسند فرمانا) اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور متکبر و جابر لوگوں کے طریقے کی مخالفت کے لیے تھا، بلکہ آپ نے عربوں کے اُسی سادہ طریقے پر قائم رہنے کو ترجیح دی، جس میں اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، چلنے پھرنے اور اپنے تمام کاموں اور عادات میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی تھی۔ اسی لیے روایت میں آتا ہے کہ میں اور میری امت کے پرہیزگار لوگ تکلف سے پاک ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2974، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، لبنان)

تیسری وجہ یعنی ترکِ تکلفات کے متعلق الكاشف عن حقائق السنن  میں ہے: لعل الكراهية للمحبة و الاتحاد الموجب لرفع التكلفة والحشمة، يدل على قوله: ((لم يكن شخص أحب إليهم من رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم)؛قال الشيخ أبو حامد: مهما تم الاتحاد خفت الحقوق فيما بينهم مثل القيام و الاعتذار و الثناء؛ فإنها و إن كانت من حقوق الصحبة لكن في ضمنها نوع من الأجنبية والتكلف. فإذا تم الاتحاد، انطوى بساط التكلف بالكلية، فلا يسلك به إلا مسلك نفسه؛ لأن هذه الآداب الظاهرة عنوان الآداب الباطنة و صفاء القلب، و مهما صفت القلوب استغنى عن تكلف إظهار ما فيها. فالحاصل أن القيام و تركه بحسب الأزمان و الأحوال و الأشخاص

 ترجمہ: (آپ کی) ناپسندیدگی کی وجہ وہ محبت اور گہرا تعلق تھا، جو آپسی تکلف کو ختم کر دیتا ہے، جس کی دلیل یہ جملہ ہے کہ صحابہ کرام کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کوئی بھی پیارا نہ تھا۔ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: جب بھی آپس میں دلی تعلق اور باہم اتحاد کامل ہو جاتا ہے، تو باہمی حقوق کے ظاہری تقاضے، مثلاً کھڑے ہونا، معذرت کرنا اور تعریف کرنا، کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ اگرچہ یہ چیزیں حقوقِ صحبت سے ہیں، لیکن ان میں ایک طرح کی بیگانگی اور تکلف کا عنصر پایا جاتا ہے، لیکن جب کامل قلبی وابستگی اور اتحاد ہو جائے، تو بساطِ تکلف بالکل لپٹ جاتی ہے اور انسان دوسرے کے ساتھ وہی برتاؤ کرتا ہے، جو اپنے ساتھ کرتا ہے، کیونکہ یہ ظاہری آداب دراصل باطنی ادب اور دل کی صفائی کا پتہ دیتے ہیں اور جب دل صاف ہو جائیں، تو دل کی بات کو تکلف سے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ کسی کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا یا نہ ہونا، زمانوں، حالات اور افراد کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ (الكاشف عن حقائق السنن، جلد 10، صفحہ 3067، مطبوعہ مكتبة نزار)

یونہی شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1052ھ / 1642ء) لکھتے ہیں: قد سبق أن هذه الكراهية لم تكن للنهي، بل لرفع التكلف و صفاء المحبة، فالقيام يختلف بحسب الأزمان و الأحوال و الأشخاص“ ترجمہ: پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ یہ ناپسندیدگی کسی ممانعت کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ تکلف کو دور کرنے اور خالص محبت کی وجہ سے تھی، لہذا کھڑا ہونا مختلف زمانوں، حالات اور شخصیات کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔ (لمعات التنقیح، جلد 08، صفحہ 58، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)

تعظیماً قیام کا ثبوت:

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے حضرت سیدہ فاطمہ کےلیےاور آپ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے لیے تعظیماً قیام فرمایا، چنانچہ سنن أبی داؤد میں ہے: كانت إذا دخلت عليه قام إليها، فأخذ بيدها، و قبلها، و أجلسها في مجلسه، و كان إذا دخل عليها قامت إليه فاخذت بيده فقبلته، و أجلسته في مجلسها“ ترجمہ: حضرت سیدہ فاطمہ زہرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی بارگارہ میں حاضر ہوتیں، تو حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم قیام فرماتے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا ہاتھ پکڑتے، اُسے چومتے اور اُنہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے اور یونہی جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے جاتے، تو آپ تعظیماً کھڑی ہوجاتیں، آپ کا دستِ مبارک تھامتیں، اُسے چومتیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 07، صفحہ 506، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت)

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے قیام کا حکم دیا، چنانچہ صحیح البخاری میں ہے: أن أهل قريظة نزلوا على حكم سعد، فأرسل النبي صلى اللہ عليه و سلم إليه، فجاء، فقال: قوموا إلى سيدكم“ ترجمہ: جب بنو قریظہ نے حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حکم پرہتھیار ڈال دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے آپ کے پاس (آپ کو بلانے کے لیے) اپنا نمائندہ بھیجا۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردارکے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ (صحیح البخاری، جلد 08، صفحہ 59، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)

اِس روایت کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: في الحديث إكرام أهل الفضل من علم أو صلاح أو شرف بالقيام لهم إذا أقبلوا، هكذا احتج بالحديث جماهير العلماء. و قال القاضي عياض: القيام المنهي تمثلهم قياما طول جلوسه، و قال النووي: هذا القيام للقادم من أهل الفضل مستحب، و قد جاءت أحاديث ولم يصح في النهي عنه شيء صريح، و قد جمعت كل ذلك مع كلام العلماء عليه في جزء و أجبت فيه عما يوهم النهي عنه“ ترجمہ: اس حدیث میں اہل علم، صالحین اور شرف  دینی رکھنے والوں کے آنے پر ان کے احترام میں کھڑے ہونے کا ثبوت ملتا ہے اور علماء کی اکثریت نے اسی حدیث سے حجت پکڑی ہے۔ قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جس کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ جب تک کوئی بڑا بیٹھا رہے، لوگ اس کے سامنے مسلسل کھڑے رہیں۔ امام نووی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ کسی معزز شخصیت کے آنے پر کھڑے ہونا مستحب ہے، اس بارے میں احادیث مروی ہیں اور اس کی ممانعت میں کوئی واضح اور صحیح بات ثابت نہیں ہے۔ میں نے ان تمام احادیث کو علماء کے اقوال سمیت ایک رسالے میں جمع کر دیا ہے اور اس میں ان تمام شبہات کے جوابات دیے ہیں جن سے بظاہر ممانعت کا وہم ہوتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2972، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، لبنان)

حضرتِ طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے قیام کیا، چنانچہ صحیح البخاری میں ہے:قال ابن مسعود علمني النبي صلى اللہ عليه وسلم التشهد وكفي بين كفيه وقال كعب بن مالك دخلت المسجد فإذا برسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فقام إلي طلحة بن عبيد اللہ يهرول حتى صافحني و هنأني“ ترجمہ: حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے مجھے تشہد سکھائی اور میری ہتھیلی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی۔ حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے ، میری طرف خوشی سے لپکے، مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ (صحیح البخاری، جلد08، صفحہ 59، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)

الغرض! جو شرعاً مستحق تعظیم ہے، اُس کے لیے کھڑے ہونا، جائز بلکہ مستحب ہے اور جن روایات سے ممانعت ظاہر ہوتی ہے، اُن کا خاص محمل ہے۔ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: يجوز بل يندب القيام تعظيما للقادم إلخ أي إن كان ممن يستحق التعظيم قال في القنية: قيام الجالس في المسجد لمن دخل عليه تعظيما، و قيام قارئ القرآن لمن يجيء تعظيما لا يكره إذا كان ممن يستحق التعظيم، وفي مشكل الآثار القيام لغيره ليس بمكروه لعينه إنما المكروه محبة القيام لمن يقام له، فإن قام لمن لا يقام له لا يكره. قال ابن وهبان أقول: وفي عصرنا ينبغي أن يستحب ذلك أي القيام لما يورث تركه من الحقد و البغضاء و العداوة لا سيما إذا كان في مكان اعتيد فيه القيام، و ما ورد من التوعد عليه في حق من يحب القيام بين يديه كما يفعله الترك والأعاجم

 ترجمہ: آنے والے کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا، جائز بلکہ مستحب ہے، یعنی اگر وہ ایسا شخص ہو جو احترام کا حقدار ہو۔ القنیۃ میں ہے کہ مسجد میں بیٹھے ہوئے شخص کا آنے والے کے احترام میں کھڑا ہونا اور تلاوت کرنے والے کا کسی آنے والے کی تعظیم میں کھڑا ہونا، مکروہ نہیں ہے، بشرطیکہ آنے والا تعظیم کا مستحق ہو۔ اور مشکل الآثار میں ہے کہ کسی کے لیے کھڑا ہونا بذاتِ خود ناپسندیدہ نہیں ہے، بلکہ ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ جس کے لیے کھڑا ہوا جا رہا ہے، وہ خود اپنے لیے کھڑے ہونے کو پسند کرتا ہو، لہذا اگر کوئی ایسے شخص کے لیے کھڑا ہو جائے، جو اس کی چاہت نہیں رکھتا، تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ علامہ ابن وہبان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہمارے دور میں اس طرح کھڑے ہونے کو مستحب قرار دینا چاہیے، کیونکہ اسے چھوڑنے سے دلوں میں کینہ، بغض اور دشمنی پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں کھڑے ہونے کا رواج بن چکا ہو اور اس معاملے میں جو وعید آئی ہے وہ اس شخص کے لیے ہے، جو اپنے سامنے لوگوں کے کھڑے رہنے کو پسند کرتا ہو، جیسا کہ ترک اور دیگر غیر عرب لوگ کرتے ہیں۔ (ردالمحتار مع درمختار، جلد 21، کتاب الحظر والإباحۃ، صفحہ 498، مطبوعہ دار الثقافۃ و التراث، دمشق)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
فتویٰ نمبر: FSD-10070
تاریخ اجراء: 13 محرم الحرام 1448ھ / 29 جون 2026ء