logo logo
AI Search

اللّٰہ تعالیٰ کے نور ہونے کا ثبوت

بسم اللہ الرحمن الرحيم

اللہ عزوجل کے نور ہونے کا ثبوت اور اس کے منکر کاحکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

(1) اللہ عزوجل کا نور ہونا کہاں سے ثابت ہے؟

(2) نیز جو اللہ عزوجل کے نور ہونے کا انکار کرے اس کے لئے کیا حکمِ شرعی ہے؟

جواب

(1) قرآن و احادیث میں اللہ تعالیٰ پر نور کا اطلاق فرمایا گیا ہے۔

اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 35)

صحیح مسلم میں ہے ”عن عبد اللہ بن شقيق، قال: قلت لأبي ذر، لو رأيت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم لسألته فقال: عن أي شيء كنت تسأله؟ قال: كنت أسأله هل رأيت ربك؟ قال أبو ذر: قد سألت، فقال: «رأيت نورا» ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو دیکھتا تو ان سے سوال کرتا، تو حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: تم کس بارے میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے سوال کرتے؟ تو انہوں نے عرض کی، میں ان سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟تو حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: میں نے یہ سوال حضور علیہ الصلاۃ و السلام سے کیا تھا تو آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے جواباً ارشاد فرمایا تھا: میں نے نور دیکھا۔ (صحیح مسلم، ص 86، حدیث 178، مطبوعہ بيروت)

اسی طرح کی دوسری روایت یہ ہے ”عن أبي ذر، قال: سألت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، هل رأيت ربك؟ قال: «نور أنى أراه» ترجمہ: حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:اللہ عزوجل نور ہے،میں نے اسے دیکھا تھا۔ (صحیح مسلم، ص 86، حدیث 178، مطبوعہ بيروت)

صحیح بخاری میں ہے ”عن ابن عباس: كان النبي صلى اللہ عليه و سلم إذا قام من الليل يتهجد، قال:  اللّٰهم لك الحمد، أنت نور السموات و الأرض و من فيهن، و لك الحمد“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم جب رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو یوں کہتے اے اللہ! تیرے لئے حمد ہے،تو آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے، ان کا نور ہے اور تیرے لئے حمد ہے۔ (صحیح بخاری، ص 1156، حدیث 6317، مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: نور کا اطلاق نفس ذات پر بھی ہے” اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے) بلکہ حقیقۃً نور وہی ہے ”فان النور ھو الظاھر بنفسہ والمظھر لغیرہ کما قال الامام حجۃ الاسلام الغزالی (کیونکہ نور بنفسہٖ ظاہر اور غیر کو ظاہر کرنے والا ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام غزالی نے کہا)۔ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 650، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(2) اس حوالے سے کچھ تفصیل ہے:

(الف) عرف عام میں نور ایک کیفیت ہے، کہ نگاہ پہلے اس کا ادراک کرتی ہے، اور اس کے واسطے سے، دوسری قابل دید اشیاء کا ادارک کرتی ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے، نور ایک عرض و حادث ہے، اور اللہ تعالی اس سے پاک ہے۔

حکم: اگر اس معنی کے اعتبار سے، اللہ تعالی سے نور کی نفی کرے، تو بالکل درست ہے۔

(ب) نور کا ایک معنی ہے کہ وہ جوخود ظاہر ہو، اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔ اس معنی کے اعتبار سے، حقیقۃ نور اللہ تعالی ہی ہے، اور قرآن واحادیث میں اسی معنی کے اعتبارسے، اس پر نور کا اطلاق فرمایا گیا ہے۔

حکم: اس معنیٰ کے اعتبارسے جو اللہ تعالی سے نور کی نفی کرے، تو اس کا نفی کرنا، کفر ہے کہ اس میں اس کے ظاہربنفسہٖ اور مظہر لغیرہٖ  ہونے کا انکار ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے نور عرف عامہ میں ایک کیفیت ہے کہ نگاہ پہلے اسے ادراک کرتی ہے اور اس کے واسطے سے دوسری اشیائے دیدنی کو ۔ ۔ ۔ ۔ نور بایں معنی ایک عرض و حادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ ۔ محققین کے نزدیک نوروہ کہ خود ظاہر ہو اور دوسروں کا مظہر، ۔ ۔ بایں معنی اللہ عزوجل نور حقیقی ہے بلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اور آیۃ کریمہ، اللّٰہ نور السمٰوٰت و الارض (اللہ تعالٰی نور ہے آسمانوں اور زمین کا) بلاتکلف و بلا دلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے، فان اللہ عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت و الارض و من فیھن و سائر المخلوقات (کیونکہ اللہ عزوجل ہی بلاشبہ خود ظاہر ہے او راپنے غیر یعنی آسمانوں، زمینوں، ان کے اندر پائی جانے والی تمام اشیاء اوردیگر مخلوقات کو ظاہر کرنے والا ہے)۔ (فتاوی رضویہ، ج 30، ص 665، 664، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی 
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری 
فتویٰ نمبر: GRW-956
تاریخ اجراء: 04 صفر المظفر 1445ھ / 22 اگست 2023ء