حدیث میں عورت کو فتنہ کیوں کہا گیا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حدیث پاک میں عورت کو فتنہ کہنے کی وجہ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا ایسی کوئی حدیث ہے، جس میں عورت کو فتنہ کہا گیا ہو، اگر ہے، تو وہ حدیث بمع شرح بیان فرما دیجئے۔
جواب
جی ہاں! حدیث پاک میں عورت کو مرد کے لیے فتنہ قرار دیا گیا ہے، اور یہاں فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان ہے، کہ کئی طبیعتیں ان کی طرف مائل ہوتی ہیں، اور ان کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہوجاتی ہیں، اور ان کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور دشمنی میں سعی کرتی ہیں۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ نیک عورت کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے دنیا کا سب سے بہتر سامان قرار دیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
ما ترکت بعدي فتنةً أضرّ علی الرجال من النساء
ترجمہ: میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نقصان دہ نہیں چھوڑا۔ (صحیح البخاري، صفحہ 960، حدیث: 5096، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:
(فتنۃ) ای امتحاناً و بلیۃً (اضر علی الرجال من النساء) لان الطباع کثیراً تمیل الیھن و تقع فی الحرام لاجلھن، و تسعی للقتال و العداوۃ بسببھن
ترجمہ: فتنہ سےمراد آزمائش اور امتحان ہے۔ مردوں کے لئے سب سے بڑھ کر نقصان دہ عورتیں ہیں، کیونکہ طبیعتیں ان کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتی ہیں ان کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور ان کے سبب دشمنی و جھگڑے کی کوشش کرتی ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 5، صفحہ 2044، مطبوعہ: بیروت)
اس حدیث پاک کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دنیا میں مردوں کے لیے عورتیں بڑے فتنہ کا باعث ہیں کہ عورت کے سبب آپس کی عداوت، لڑائی جھگڑے بلکہ خونریزی بہت ہوگی، عورت ہی حب دنیا کا ذریعہ ہے اور حب دنیا تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ مِنْ بَعْدِیْ فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضور (صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ میں عورتوں کے فتنہ کا ظہور صحابہ کرام (علیہم الرضوان) پر نہ ہوا کہ وہ حضرات نور مصطفوی سے بہت منور تھے بعد میں اس کا ظہور ہوا آج بھی عورتوں کی وجہ سے فساد و قتل و خون بہت ہورہے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں کہ زمین میں پہلا قتل عورت کی وجہ سے ہوا کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو اقلیما عورت کی وجہ سے مارا۔ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 5، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
الدنیا متاع و خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ
ترجمہ: دنیا متاع ہے اور دنیا کا بہترین متاع نیک بیوی ہے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 554، حدیث: 1467، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے
قوله عليه السلام: ما تركت بعدي فتنة أضر على الرجال من النساء» لكن المرأة إذا كانت صالحة تكون خير متاعها، و لقوله - عليه الصلاة و السلام -: الدنيا كلها متاع، وخير متاعها المرأة الصالحة
ترجمہ: حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کا فرمان: (میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر کوئی فتنہ نقصان دہ نہیں چھوڑا۔) لیکن عورت جب نیک ہو تو وہی دنیا کا بہترین سامان ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ دنیا متاع ہے اور اور دنیا کا بہترین متاع نیک بیوی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 1، صفحہ 47، مطبوعہ: بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4748
تاریخ اجراء: 28 شعبان المعظم1447ھ / 17 فروری2026ء