logo logo
AI Search

کیا قرآن کی تلاوت کے لیے وضو ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن پاک کی تلاوت کے لیے وضو کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

قرآن پاک کی تلاوت عبادت مقصودہ ہے یا غیر مقصودہ؟ اگر یہ عبادت مقصودہ ہے تو کیا اس کے لئے وضو ضروری ہو گا؟

جواب

قرآن پاک کی تلاوت عبادت مقصودہ ہے۔ نیز یہ ایسی عبادت مقصودہ ہے، جو بغیر وضو کے بھی ہوسکتی ہے، اگرچہ بہتر، افضل اور ادب یہی ہے کہ باوضو تلاوت کی جائے۔ ہاں قرآن پاک کو بے وضو چھونا بالکل جائز نہیں ہے۔

فتاوی رضویہ میں ہے ”محدث بحدثِ اکبر خواہ اصغر نے قرآن عظیم چھُونے یا جنب نے مسجد میں جانے کے لئے تیمم کیا، تیمم صحیح ہو جائے گا لیکن اُس سے نماز رَوا، نہ ہوگی کہ مسِ مصحف یا دخولِ مسجد فی نفسہٖ کوئی عبادتِ مقصودہ نہیں بلکہ عبادتِ مقصودہ تلاوت و نماز ہیں اور یہ اُن کے وسیلے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 556، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں عبادت مقصودہ جو بلاطہارت درست ہے، اس کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

”او مقصودۃ تحل بدون الطھارۃ کقراءۃ القرآن للمحدث“

ترجمہ: یا وہ ایسی عبادت مقصودہ ہو، جو بغیر طہارت درست ہوجاتی ہو، جیسے محدث کے لیے تلاوت قرآن ۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 1، صفحہ 129، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4646
تاریخ اجراء:20رجب المرجب1447ھ/10 جنوری2026ء