تقلید کی تعریف اور شرعی حیثیت کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تقلید کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ تقلید کیوں ضروری ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ تقلید کی تعریف اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے یعنی یہ واجب ہے یا فرض ہے یا حرام ہے؟ اور جس شخص نے مسائل کو دلیل سے جانا ہو اس پر تقلید واجب ہے یا حرام؟
جواب
شرعی لحاظ سے تقلید کی تعریف یہ ہے:
”( التقليد) وهو العمل بقول الغير من غير حجة“
یعنی: کسی کے قول پر دلیل طلب کیے بغیر عمل کرلینا۔ (تیسیر التحریر، جلد 1، صفحہ 26، مطبوعہ بیروت )بالفاظِ دیگر یوں سمجھیے کہ کسی مجتہد امام کے قول کو اس اعتماد پر اختیار کرنا کہ اس نے قرآن و سنت اور دیگر دلائلِ شرعیہ سے صحیح مسئلہ اخذ کیا ہے، تقلید کہلاتا ہے۔
جہاں تک تقلید کی شرعی حیثیت کا معاملہ ہے، تو یاد رہے کہ شرعی احکام تین طرح کے ہیں: (1) عقائد، مثلاً اللہ پاک کی وحدانیت، نبوت و رسالت، حشر، جنت، دوزخ وغیرہا، ان میں کسی کی تقلید جائز نہیں۔ (2) وہ احکام جو صراحتاً قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، اجتہاد کو اس میں دخل نہ ہو، مثلاً پانچ نمازیں، ان کی رکعتیں، رمضان کے روزے، وغیرہا، ان میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں۔ (3) وہ احکام جو صراحتاً قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہوں یا مختلف احکام منقول ہوں اور ان میں متعین حکم اجتہاد و استنباط کر کے اخذ کیا جائے، ان میں غیر مجتہد پر مجتہد کی تقلید کرنا واجب ہے۔
تقلید واجب ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ ہر مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ اس کا کوئی بھی عمل قرآن و سنت کے تقاضوں کے منافی نہ ہو، ایسے میں روز مرہ کے پیش آمدہ مسائل میں ہر شخص میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ از خود قرآن و حدیث سے مسائل و احکام کا استنباط کرسکے کہ کون سی چیز جائز ہے، کون سی ناجائز؟ کس چیز کا کرنا ضروری ہے اور کس سے بچنا لازم؟ کون سا عمل مستحب ہے اور کون سا مکروہ؟ کون سا حلال، تو کون سا حرام ؟، لہٰذا جو مسائل قرآن و سنت میں صراحتاً مذکور نہ ہوں، بلکہ انہیں قرآن و سنت وغیرہ ادّلہ شرعیہ میں اجتہاد و استنباط کر کے اخذ کیا جائے، ان مسائل میں مجتہد کی تقلید واجب ہے کہ اس کے بغیر شریعت پر عمل کرنا بہت مشکل ہے، کیونکہ اصل مقصود شریعت پر عمل کرنا ہے اور یہ جس پر موقوف ہے وہ بھی ضروری ہے، اس کو مثال سے یوں سمجھیے کہ نماز فرض ہے، لیکن اس کے لیے وضو شرط ہے، تو وضو بھی ضروری ہوا اور وضو پانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، تو پانی کا حصول بھی ضروری ہوا، جبکہ پانی کا حصول ممکن ہو۔ یونہی نماز کے لئے سِترِ عورت (بدن کے مخصوص حصے کا چھپانا ) ضروری ہے اور ستر عورت لباس سے ہوگا، تو لباس کا حصول بھی ضروری ہے، جبکہ ممکن ہو، اسی طرح شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے، لیکن یہ تقلید کے بغیر نہیں ہو سکتا، لہٰذا تقلید بھی ضروری ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ تقلید کے بغیر شریعت پر عمل کیوں ممکن نہیں، تو اس کی متعدد وجوہات ہیں، مثلاً:
(1) ناسخ و منسوخ:
قرآن و حدیث میں بعض ایسے احکام موجود ہیں، جو آپس میں مختلف ہیں، ایک ناسخ ہے اور دوسرا منسوخ، مثلاً جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کی عدت قرآنِ مجید میں ایک مقام پر ایک سال بیان کی گئی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ)
ترجمۂ کنزالعرفان: اور جو تم میں مرجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے لئے (انہیں گھروں سے) نکالے بغیر سال بھر تک خرچہ دینے کی وصیت کرجائیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 240 )
اور دوسرے مقام پر چار ماہ دس دن بیان ہوئی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا)
ترجمہ کنز العرفان: اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ ( سورۃ البقرۃ، آیت 234)
یونہی بہت سی احادیث میں بعض احکام ناسخ اور بعض منسوخ ہیں، مثلاً نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا اور نہ پڑھنا ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں دونوں طرح کی روایات موجود ہیں، بعض میں ثبوت ہے اور بعض میں اس کا ترک و ممانعت موجود ہے اور ایسے مسائل درجنوں سے بھی زائد ہیں تو جب قرآن و سنت میں ناسخ و منسوخ دونوں موجود ہیں، تو کون سا حکم قابلِ عمل ہے اور کون سا نہیں ؟ یہ پہچان عام آدمی کے لیے بہت مشکل ہے، صرف مجتہد ہی شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے کہ اب کون سا حکم نافذ العمل ہے، لہٰذا اس کی تقلید ضروری ہے۔
(2)غیر مصرح اور نو پید مسائل:
قرآن و حدیث میں ہر مسئلہ صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا، بلکہ بہت سے مسائل ایسے ہیں، جن کا حکم قرآن و سنت سے اصول اخذ کر کے اجتہاد و استنباط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے، مثلاً کتا کھانا حلال ہے یا حرام ؟ ہاتھی کھانے کا کیا حکم ؟ طوطا کھانے کا حکم ؟ یونہی ہمارے ہاں موجود سینکڑوں قسم کی کھانے، پینے، پہننے اور روز مرہ استعمال کی اشیا وہ ہیں، جن پر کوئی صریح آیت یا حدیث موجود نہیں، لیکن ان کا استعمال ہمارے ہاں کیا جاتا ہے، تو ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟ اس کا درست فیصلہ غیر مجتہد نہیں کر سکتا، لہٰذا مجتہد کی تقلید کرنی پڑے گی۔
(3)نصوص میں تعارض:
بعض آیات و احادیث میں بظاہر تعارض موجود ہے، مثلاً قرآنِ پاک میں ہے: (وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ) ترجمہ کنز العرفان: اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ۔ (سورۃ الانعام، آیت119)
اور حدیثِ پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ایسے جانور کے بارے میں پوچھا گیا جس پر جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا، تو فرمایا:
كلوه فان تسمية اللہ تعالى في قلب كل امرء مسلم
یعنی اس کو کھالو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ (اصول الشاشی، کشف الاسرار ) یہاں ایک طرف وحی متلو اور دوسری طرف وحی ِ غیر متلو ہے، تویہ فیصلہ صرف مجتہد ہی کر سکتا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا حکم ترجیح پائے گا ؟ عام شخص اس تعارض کا حکم نہیں جان سکتا۔
(4) دلائل میں توفیق و تطبیق:
احادیثِ طیبہ میں بعض ایسی ہیں جو بظاہر آپس میں معارض و مخالف ہیں، لیکن در حقیقت ان میں تعارض نہیں، بلکہ ان میں تطبیق و توفیق ہو سکتی ہے، مثلاً ایک حدیث میں ہے: "لا عَدْوی" یعنی بیماری اڑ کر دوسرے کو نہیں لگتی۔(صحیح بخاری، 7 /126، ط: مصر) اور دوسری حدیث پاک میں ہے:
"فرّمن المجذوم فرارک من الاسد"
(مسند احمد، 15 /449، ط: موسسۃ الرسالہ)
یعنی: جذام والے سے اس طرح بھاگ جس طرح شیر سے بھاگتا ہے۔ ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض ہے، کیونکہ پہلی حدیث مرض کے متعدی ہونے یعنی اڑکر لگنے کی نفی کرتی ہے، جبکہ دوسری بظاہر اس کو ثابت کرتی ہے، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیسے کی جائے گی؟ اور اس ظاہری تضاد کو کیسے ختم کیا جائے گا؟ موافقت کیا ہوگی؟ یہ کام عام آدمی کے لیے ناممکن ہے، لیکن مجتہد اصول ِ شرع کی روشنی میں اس کو حل کر سکتاہے، لہٰذا مجتہد کی تقلید کرنا ہوگی۔
(5) تعددِ معنیٰ:
قرآن و حدیث میں کچھ الفاظ ایسے استعمال ہوئے ہیں، جن کے مختلف معنیٰ ہو سکتے ہیں اور ہر معنیٰ کے اعتبار سے حکم بھی مختلف ہو تاہے، مثلاً قرآن مجید میں ہے:
(وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ)
یعنی طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین قروء (حیض ) تک روکے رکھیں۔ (سورۃ البقرہ، آیت 228)
قروء سے مراد پاکی کے دن بھی ہوتے ہیں اور ناپاکی یعنی حیض کے دن بھی اور ان میں سے ایک معنی دوسرے معنی کے بالکل خلاف ہے، یہاں کون سا معنیٰ مراد ہوگا؟ اور کس دلیل کی بنیاد پر ؟ ایک معنی کو دوسرے معنی پر ترجیح دینا عام آدمی کے بس کی بات نہیں کہ جو عربی تک پڑھنا نہیں جانتا، وہ ایسی علمی ابحاث میں کیا فیصلہ کرے گا، یقیناً یہ کام مجتہد ہی کر سکتا ہےاور عام شخص اس کی تقلید کرے گا۔
(6) ظاہر معنیٰ مراد نہ ہونا:
بعض احادیث ایسی ہیں، جن میں الفاظ کے ظاہری معنیٰ مراد نہیں ہوتے، بلکہ مراد کچھ اور ہوتی ہے، مثلاً صحیح بخاری میں ہے: ”ان المؤمن لا ينجس“ یعنی: مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری، 1 / 65، ط: مصر) اگر اس حدیثِ پاک کے ظاہری معنیٰ مراد لیے جائیں، تو مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان جنبی شخص چونکہ ناپاک نہیں ہوتا، تو وہ مسجد میں بھی جا سکتا ہے، قرآنِ پاک کو بھی پڑھ اور چھو سکتا ہے، طواف بھی کر سکتا ہے، وغیرہا۔ حالانکہ کوئی بھی صاحبِ علم اسے درست نہیں کہتا، کیونکہ یہاں حدیثِ پاک کے ظاہری معنیٰ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس پر حدث طاری ہوتا ہے، مگر ایسا ظاہری ناپاک نہیں ہوتا کہ کسی چیز کو چھوئے، تووہ ناپاک ہو جائے۔ تو یہ تحقیق کہ کس لفظ کے ظاہری معنیٰ مراد نہیں ہوں گے؟ اور ظاہری معنیٰ کی جگہ کیا مراد ہوگا؟ اور اس مراد لینے کی وجہ؟ اور اس پر دلیل؟ یہ کام عام آدمی کبھی نہیں کر سکتا، بلکہ اسے ہمیشہ مجتہد کی پیروی کی حاجت رہے گی۔
(7)احادیث میں صحت و ضعف:
کثیر احکامِ شرعیہ کی اصل احادیثِ طیبہ ہیں، بلکہ جو احکام صراحتاً قرآنِ مجید میں بیان ہوئے ہیں، ان کی بھی تفسیر و توضیح احادیث سے ہوتی ہے، مگر کون سی حدیث فنی اعتبار سے صحیح ہے، کون سی حسن یا ضعیف یا موضوع ہے، ان کی پہچان، اسناد کی تحقیق، اسماء الرجال، جرح و تعدیل کے اصول، پھر کس درجے کی حدیث سے دین کا کون سا مسئلہ اخذ ہو سکتا ہے ؟ کس سے عقائد کا ثبوت ہو سکتا ہے؟ کس سے فقہی احکام اور کون سی حدیث صرف فضائل میں قابلِ عمل ہوگی، وغیرہا تمام تر امور عام آدمی کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے مجتہد امام کی تقلید کرنا ضروری ہے، ورنہ شریعتِ مطہرہ پر عمل تو کجا گمراہی کے گہرےگڑھے میں جا گرنے کا قوی اندیشہ ہے، بلکہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ لوگوں نے ائمہ کی تقلید چھوڑ کر براہِ راست قرآن و سنت کو سمجھنا چاہا، تو خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنے متبعین کو بھی کر دیا۔
(8)لغتِ عرب کی باریکیاں:
قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے لیے اس کو صحیح طور پر سمجھنا ضروری ہے اور اس کی درست تفہیم اولاً ظاہری عبارت کے سمجھنے پر موقوف ہے، جس کے لیے عربی زبان کے قواعد و ضوابط، اسلوب اور لب و لہجے کی پہچان وغیرہ بہت سی چیزوں میں مہارت ہونا بہت ضروری ہے اور یہ چیزیں مختلف علوم و فنون، مثلاً علم نحو، صَرف، بلاغت، اصطلاحات و معانی وغیرہا میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں۔ عام شخص جو عربی زبان نہیں جانتا، صرف اپنی زبان میں ترجمہ پڑھ سکتا ہے، وہ از خود قرآن و حدیث کو سمجھ کر کیسے شریعت پر عمل کر سکتا ہے ؟ لازماً اس کو تقلید کرنی پڑے گی۔
(9) بنیادی علوم سے ناواقفی:
قرآن و حدیث کی درست تفہیم کے لیے صرف لغتِ عرب پر مہارت بھی کافی نہیں، ورنہ تو ہر عربی النسل یا عربی بولنے و سمجھنے والا شخص خود ہی قرآن و حدیث سے مسائل اخذ کر کے دین پر عمل کر لیتا، لیکن ایسا نہیں ہو تا، بلکہ ضروری ہے کہ لغتِ عرب پر مہارت کے ساتھ ساتھ بہت سے علوم و فنون مثلاً تفسیر و اصولِ تفسیر، حدیث و علومِ حدیث، اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ، اشباہ و نظائر، بلاغت، فلسفہ وغیرہا میں بھی کمال مہارت ہو اور عامی شخص ان چیزوں سے واقف نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے لیے مجتہد کی تقلید ہی ضروری ہے۔
(10) تقویٰ کی ضرورت:
اجتہاد کے لیے صرف معلومات کافی نہیں، بلکہ تقویٰ، دیانت، عدالت، ظاہری و باطنی طہارت وغیرہ بھی بہت ضروری ہے، ہمارا زمانہ فتنوں اور نفس پرستی کا زمانہ ہے، لوگ اپنی خواہش کے مطابق دلائل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو بات آسان اور حسبِ منشا ملی اس کو حکم شرعی و فتویٰ بنا کر پیش کر دیتے ہیں، اگر ہر شخص از خود قرآن و سنت سے استدلال کرنے لگ جائے، تو نفس کی پیروی بڑھ جائے گی اور زمانے میں فساد برپا ہوگا، لیکن مجتہد امام کی تقلید ان سب چیزوں سے محفوظ رکھتی ہے، لہٰذا تقلیدِ امام ضروری ہے۔
(11)ماہر کی ضرورت:
عقلی و دنیاوی اعتبار سے دیکھیں تو ہر شعبے میں ماہر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، میڈیکل، قانون، انجینئرنگ وغیرہ ہر کام کے ماہر افراد کی رہنمائی لی جاتی ہے، پھر قدم اٹھایا جاتا ہے، تو عقل کا تقاضا ہے کہ اسی طرح دینی، شرعی اور فقہی معاملات میں بھی ہر شخص کو دین کا امام بنانے کی بجائے ان حضرات کی تشریحات کو اختیار کیا جائے جنہوں نے ساری زندگی قرآن و سنت کی خدمت میں صرف کی اور صدیوں تک بلکہ قیامت تک پیش آنے والے مسائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے قرآن و سنت میں غور و فکر کر کے جامع اصول مرتب کیے اور امت کی آسانی کے لیے فقہی ضوابط اخذ کیے۔ ان سب کو چھوڑ کر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانا، شرعی و عقلی ہر اعتبار سے غیر معقول ہے۔
خلاصہ کلام: مذکورہ بالا وجوہات کو سمجھنے کے بعد کوئی عقل مند شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ائمہ مجتہدین کی پیروی کو چھوڑ دیا جائے اور از خود قرآن و سنت کو سمجھا جائے، بلکہ ذی شعور یہی فیصلہ کرے گا کہ مجتہد کی تقلید کرنے میں ہی دین و دنیا کی سلامتی ہے، کیونکہ شریعت پر عمل ضروری ہے اور یہ عمل مجتہد کی تقلید کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا مجتہد کی تقلید ضروری ہے، غیر مجتہد کی تقلید جیسے ہمارے ہاں کچھ لوگ چار کتابیں پڑھ کر اپنے آپ کو حجت سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں، ان کی تقلید حرام ہے۔
تقلید لازم ہونے کی اہم وجہ:
قرآن و سنت سے از خود استدلال نہ کرنے اور تقلید کے ضروری ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ امت کے پیشوا، مُقتدیٰ اور بہترین زمانے والوں کا عمل ہے اور ان کے بعد ساری امت اسی طریقے پر چلتی آئی ہے، تفصیل درج ذیل ہے:
(1) صحابہ کرام علیہم الرضوان کا عمل:
سب سے بڑھ کر یہ کہ نبی پاک ﷺ کے صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی، لیکن سارے فقیہ و مجتہد نہیں تھے، سب اپنے در پیش مسائل میں خود ہی قرآن و سنت سے استدلال کر کے عمل نہیں کرتے تھے، حالانکہ یہ حضرات لغتِ عرب کے بہت اچھے جاننے والے تھے، ان کی زبان اور لب و لہجے میں قرآنِ پاک نازل ہوا، اس کے باوجود یہ فقہاء و مجتہد صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اپنے مسائل میں رہنمائی لیا کرتے تھے اور جو حکمِ شرعی معلوم ہوتا اس پر عمل کرتے تھے، یعنی مجتہد صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تقلید کیا کرتے تھے، تو جب اتنی بلند پایہ ہستیاں کہ جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أصحابي كالنّجومِ فبأيهم اقتديتم اهتديتم"
یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مثل ہے، جس ایک کی بھی پیروی کر لو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔ وہ سب کے سب خود قرآن و حدیث سمجھ کر عمل نہیں کرتے تھے، تو ہمارے زمانے کے لوگ کہ جو ترجمے کے بھی محتاج ہیں، وہ کیسے تقلید سے آزاد ہو سکتے ہیں، لہٰذا انہیں مجتہد کی تقلید کرنا بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔
(2) امت کا تعامل:
ہمیشہ سے امت کے اولیا ء، صوفیاء، اتقیاء، غوث، قطب، ابدال، علماء و صالحین، مفسرین اور جلیل القدر محدثین جیسے امام اعمش، امام عبد الرزاق، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، وغیرہم علیہم الرحمۃ کہ جو علوم و فنون کے پہاڑ اور لاکھوں احادیث کے حافظ تھے، یہ سب کے سب مقلد تھے اور ائمۂ مجتہدین کی تقلید کرتے آئے ہیں، کسی نے بھی نہیں کہا کہ مجھے لاکھوں احادیث آتی ہیں، لہٰذا مجھے تقلید کی حاجت نہیں۔ بلکہ محدثین کا عمل کیا تھا، ملاحظہ کیجیے:
چنانچہ محدثین کے امام، جلیل القدر تابعی، خادمِ رسول حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد، حضرت امام سلیمان اعمش تابعی رضی اللہ عنہ سے کسی نے کچھ مسائل پوچھے، اس وقت ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی وہاں حاضر تھے، امام اعمش رضی اللہ عنہ نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم علیہ الرحمۃ سے پوچھے، تو امام اعظم علیہ الرحمۃ نے فوراً جواب دے دیا، امام اعمش علیہ الرحمۃ نے کہا: یہ جواب آپ نے کہاں سے اخذ کیے ہیں؟ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے فرمایا: انہی حدیثوں سے جو میں نے آپ ہی سے سنی ہیں، پھر تمام احادیث سند کے ساتھ سنا دیں۔ امام اعمش رضی اﷲ تعالی عنہ نے کہا:
"حسبك ماحدثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بھذہ الاحادیث یا معشر الفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھاالرجل اخذت بکلاالطرفین"
یعنی: بس کیجئے جو حدیثیں میں نے آپ کو سودن میں سنائیں، آپ نے گھڑی بھر میں مجھے سنا دیں، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں پر یوں عمل کرتے ہیں، اے گروہِ فقہا! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ پنساری ہیں (یعنی دوائیں پاس ہیں مگر ان کا طریقہ استعمال تم مجتہدین جانتے ہو) اور اے ابوحنیفہ! تم نے تو حدیث و فقہ دونوں کو تھام لیا۔ (الخیرات الحسان، الفصل الثلاثون فی سندہ، صفحہ 144، مطبوعہ کراچی)
معلوم ہوا کہ جب پوری امت کا عمل تقلید پر ہے، جو خود ایک قوی دلیل ہے، تو چودہ سو سال بعد آ کر کوئی شخص چار کتابیں پڑھ کر کیسے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھے تقلید کی حاجت نہیں، بلکہ بہر صورت تقلید کرنا واجب ہے۔
جہاں تک اس سوال کا معاملہ ہے کہ جو شخص مسائل کو دلیل سے جانتا ہو اس پر تقلید واجب ہے یا حرام؟ تو جواب یہ ہے کہ مسائل کو دلیل سے جاننا دو اعتبار سے ہوتا ہے:
(1) کسی شرعی مسئلہ کے صرف ایک دو یا چند دلائل سے واقف ہوجانا، جو اس حکم پر اطمینان کا فائدہ دیں، جیسے نماز میں سورہ فاتحہ کے واجب ہونے کے متعلق چند احادیث کی معلومات ہونا۔
(2) کسی شرعی مسئلہ کے ماخذ سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی اصولی حیثیت ظاہر، نص، مفسر، محکم، عام، خاص، مطلق، مقید وغیرہ سے واقف ہونا، پھر اس دلیل کی معرفت کے ساتھ ساتھ اس کے معارض دلائل سے بھی اتنی ہی تفصیل سے واقف ہونا، پھر اگر وہ ماخذ حدیث ہے، تو اس کے تمام طرق اور رجالِ سند کی مکمل تفصیلی معرفت کے ساتھ علتِ خفیہ قادحہ کی پہچان اور متعارض روایت کے درجہ اور محمل سے واقف ہونا۔ تو جس شخص میں یہ اور دیگر کثیر ضروری خصوصیات ہوں، وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوتا ہے، اس کے لیے تقلید حرام ہے لیکن ایسا دوسرا شخص نہایت نادر و نایاب ہے۔
اس کے برعکس اول الذکر شخص جو صرف حکم شرعی کی دلیل سے اپنے اطمینان قلب کی حد تک واقفیت رکھتا ہے اس کے لیے مجتہد کی تقلید واجب ہے، ایسا شخص صرف ظاہرِ دلیل کو جان لینے سے مجتہد قرار نہیں پائے گا، بلکہ اس پر تقلید واجب ہی رہے گی، کیونکہ دلائل کا تعارض سمجھنا، ناسخ و منسوخ کی پہچان، عام و خاص، مطلق و مقید کی تطبیق ائمہ کے استدلال کے دقائق یہ سب اس کے بس کی بات نہیں۔
امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اجتہاد کے لیے اوّلا آٹھ ضروری علوم بیان کیے پھر ان کا حصر تین علوم میں کیا، چنانچہ لکھتے ہیں:
”فهذه هي العلوم الثّمانية التي يستفاد بها منصب الاجتهاد، ومعظم ذلك يشتمل عليه ثلاثة فنون: علم الحديث وعلم اللّغة وعلم أصول الفقه“
یعنی: یہ آٹھ علوم ہیں جن سے منصبِ اجتہاد حاصل ہوتا ہے اور ان کا زیادہ تر حصہ تین فنوں میں شامل ہے: علم حدیث، علم لغت اور علم اصول فقہ۔ (المستصفی، صفحہ 344، مطبوعہ بیروت)
عامی شخص کے تقلید کیے بغیر صحیح حدیث کو شرعی مسئلہ کی دلیل مان کر عمل کرنے کے متعلق امام شرف الدین نَوَوِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 676ھ/1277ء) لکھتے ہیں:
”لیس معناہ ان کل واحد رای حدیثا صحیحا...عمل بظاھر الحدیث فانما ھذا فیمن له رتبۃ الاجتھاد فی المذھب علی ما تقدم من صفته او قریب منه وشرطه ان یغلب علی ظنه ان الشافعی رحمه الله تعالیٰ علیہ لم یقف علی ھذا الحدیث او لم یعلم ھذا صفته وھذا انما یکون بعد مطالعۃ کتب الشافعی کلھا ونحوھا من کتب اصحابه الآخذین عنه واشبھھا وھذا شرط صعب قل ان یتصف به من الآخرین“
یعنی: یہ ہرگز درست نہیں کہ کوئی بھی شخص صحیح حدیث دیکھے اور اس کے ظاہر پر عمل کرنے لگے، کیونکہ ایسا کرنے کی اجازت تو اس شخص کے لیے ہے کہ جو مجتہد فی المذہب کے مرتبہ پر فائز ہو (جیسے احناف میں امام ابو یوسف و امام محمد رحمھما اللہ تعالی) اور وہ یہ غالب گمان رکھے کہ جس حدیث کی صحت کو جان کر میں امام کے قول کو چھوڑ کر اس حدیث پر فتویٰ دے رہا ہوں اس حدیث کا امام کو علم نہ ہوا یا ان کے زمانے میں اس کی صحت ثابت نہ ہوئی تھی اور یہ اجازت یعنی حدیث کے ظاہر پر عمل کرنے کی تب ہوگی جب امام اور ان سے اخذ کرنے والے اصحاب کی تمام کتب کا بغور مطالعہ کیا ہو اور یہ بہت مشکل شرط ہے، متاخرین میں ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ (المجموع شرح المهذب، جلد 1، صفحہ 64، مطبوعہ بیروت)
حاصلِ کلام: بیان کردہ دلائل و وجوہات سے واضح ہوا کہ غیر مجتہد شخص کے لیے تقلیدِ فقہاء لازم و ضروری ہے، قرآن و حدیث کا صحیح فہم، نصوص میں تضاد و تعارض کا حل، نفس کی پیروی سے حفاظت، شریعت کے اصول کے مطابق عمل، یہ سب صرف تقلید کے ذریعے ہی ممکن ہے، بغیر تقلید کے شریعت پر عمل کرنا عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل اور خطرناک ہے۔ اسی لیے شریعتِ اسلامیہ نے تقلید کو لازمی قرار دیا تاکہ ہر مسلمان آسانی کے ساتھ شریعت پر عمل پیرا ہو سکے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9804
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم 1447 ھ / 18 فروری 2026 ء