معافی مانگنے والے کو معاف کرنا ضروری ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اگر کوئی شخص معذرت کرے تو اسے معاف کرنا لازم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ”جس سے کوئی معذرت کرے اور وہ اسے قبول نہ کرے، تو اسے میرا حوض کوثر نصیب نہیں ہو گا۔“ تو شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اگر کوئی معذرت کرے، تو کیا اسے ہر صورت میں معاف کرنا لازم ہے، اگرچہ اس نے ناقابلِ معافی غلطی کی ہو؟ سائل: ذوالفقارعطاری (فتح جنگ)
جواب
جب کوئی اپنی غلطی سے معذرت کرے تو اس کی معذرت قبول کرکے، اسے معاف کردینا شرعاً لازم ہے، اگر بلا عذرِ شرعی معاف نہ کیا تو حدیث پاک میں بیان کردہ وعید کا مستحق ہو گا، البتہ اگر کوئی عذرِ شرعی ہو، جیسے کوئی شخص کسی کی کوئی چیز غصب یا چوری کر لے اور پھر وہ واپس کیے بغیر معافی مانگے یا کسی کی معذرت قبول کرنے سے برے کام پر اس کی حوصلہ افزائی یا شرانگیزی میں اس کی مدد ہوگی، تو اس صورت میں معاف نہ کرنے پر کوئی شرعی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
یہاں دو باتیں مزید ذہن نشین رکھنا ضروری ہے، پہلی بات یہ کہ اوپر جو بیان کیا گیا ہے، یہ ایک اصولی حکم ہے، اس حکم کو کسی خاص صورت پر منطبق کرنا کسی مفتی کے مشورے کے بغیر بہت مشکل ہے، اس لئے متعین صورت کا حکم پوچھنا ہو تو اس کی تفصیل بتا کر حکم معلوم کیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ معاف کرنے کا مطلب ہے کہ سابقہ غلطی پر اس سے کوئی بدلہ نہ لیا جائے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس سے ملنے ملانے کے تمام تعلقات بحال ہوجائیں گے کیونکہ تعلقات رکھنے، نہ رکھنے کے احکام کی اپنی تفصیل اور اپنے اصول ہیں، انہیں اسی تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔
حدیث پاک میں ہے:
”ومن اعتذر إلى أخيه المسلم من شيء بلغه عنه فلم يقبل عذره لم يرد علي الحوض“
ترجمہ: جو اپنے مسلمان بھائی سے، اپنی طرف سے پہنچنے والے کسی معاملہ میں معذرت کرےاور وہ اس کی معذرت قبول نہ کرے ، تو اسے میرے پاس حوض کوثر پر حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔ (المعجم الاوسط ، ج 6، ص 241، حدیث6295، دار الحرمین، قاہرہ)
ایک اورحدیث پاک میں فرمایا گیا:
”و من أتاه أخوه متنصلا فليقبل ذلك منه محقا كان أو مبطلا، فإن لم يفعل لم يرد علي الحوض“
ترجمہ: جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کرنے آئے، تو وہ اس کی معذرت قبول کرلے، چاہے وہ سچی معذرت کررہا ہو یا جھوٹی، اگر اس نے ایسا نہ کیا، تو وہ میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں آئے گا۔(المستدرک علی الصحیحین، ج 4، ص 170، الحدیث 7258، دار الكتب العلمية، بيروت)
کوئی معذرت کرنے آئے تو اس کی معذرت قبول کرنا لازم ہے، جیساکہ امام ابن حبان رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں:
”فالواجب على العاقل إذا اعتذر إليه أخوه لجرم مضى، ولتقصير سبق، أن يقبل عذره ويجعله كمن لم يذنب؛ لأن من تنصل إليه فلم يقبل، أخاف أن لا يرد الحوض على المصطفى صلى الله عليه وسلم.ومن فرط منه تقصير في سبب من الأسباب يجب عليه الاعتذار في تقصيره إلى أخيه“
ترجمہ: عقلمند شخص پر لازم ہے کہ جب اس کا بھائی کسی گزشتہ جرم یا کسی سابقہ کوتاہی پر اس سے معذرت کرنے آئے، تو وہ اس کی معذرت قبول کر لے اور اسے ایسا سمجھے جیسے اس نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، کیونکہ جو کسی سے معذرت کرے اور وہ اس کی معذرت قبول نہ کرے، تو مجھے اندیشہ ہے کہ ایسے شخص کو نبی کریم صلى الله عليہ وسلم کے حوضِ کوثر پر حاضر ی نصیب نہ ہوگی۔ نیز جس شخص سے کسی وجہ سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے، تو اس پر لازم ہے کہ اپنی اس کوتاہی پر اپنے بھائی سے معذرت کرے۔ (روضة العقلاء ونزهة الفضلاء، ص 183، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایسے شخص کے بارے میں سوال ہوا جو کئی حرام کاموں کا مرتکب ہوا، جس میں اللہ و رسول (عزوجل وصلی ا للہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کے ساتھ لوگوں کا حق بھی متعلق تھا، پھر بعد میں نادم ہوکر توبہ کی اور لوگوں سے بھی معافی مانگی، لیکن کچھ لوگوں نے اس کی معافی قبول نہیں کی، تو آپ علیہ الرحمہ نے اس کے بارے میں جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہ متعدد لوگ محض خطا وظلم پرہیں۔ مسلمان بھائی کی توبہ قبول کرنی واجب ہے۔۔۔ حدیث شریف میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اتاہ اخوہ متنصلا فلیقبل ذٰلک منہ محقا کان او مبطلا فان لم یفعل لم یرد علی الحوض، رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔“ (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 608-609، ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ "فتاوی رضویہ" میں سفرِ ِحج کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”(حج کو )چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں۔ حدیث میں ہے کہ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے، واجب ہے کہ قبول کر لے، ورنہ حوض کوثر پر آنا نہ ملے گا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 732، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس مسلمان کے سامنے اس کا بھائی اپنی خطاء کی معافی چاہے، تو اس پر لازم ہے کہ خطا معاف کردے، ورنہ حدیث میں نہ معاف کرنے والے کے بارے میں جو وعید آئی ہے، اسکامستحق ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، ج 4، ص 21، مکتبہ رضویہ، کراچی)
بلاعذر شرعی معاف نہ کرنے کی صورت میں حدیث پاک میں بیان کردہ وعید کا مستحق ہوگا، جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ایک اور مقام پر ہے: ”جس سے اس کا بھائی معافی چاہے گا اور وہ بلا عذرِ شرعی معاف نہ کرے گا، تو حدیث میں فرمایا کہ اسے روز قیامت حوض کوثر پر میرے پاس حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 7، ص 195، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
کن وجوہات کی بنا پر معذرت قبول نہ کرنے پر مؤاخذہ نہیں ہوگا؟ اس حوالے سے علامہ ابو عبد اللہ شمس الدین الغرناطی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی896ھ) فرماتے ہیں:
”إذا أدى هذا القبول إلى الصفح فيما لا يسمح الأغضاء عنه سقط اعتباره، قال الحكماء اقبل العذر وإن كان مصنوعا إلا أن يكون مما أوجبت المروءة قطعة أو يكون في قبوله تشجيعه على المكروه أو عونه على الشر، فإن قبول العذر فيه إشراف في المنكر.قلت وكذا حيث لا يكون هناك عذر والجناية مستحقة الجزاء“
ترجمہ: اگر معذرت قبول کرنے سے ایسی بات کو درگزر کرنالازم آتا ہو، جسے نظر انداز کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو، تو پھر اس معذرت کا اعتبار نہیں رہتا۔ حکماء فرماتے ہیں کہ معذرت قبول کر لو، اگرچہ وہ بناوٹی ہی کیوں نہ ہو، البتہ اگر مروّت و شرافت اس سے تعلق ختم کرنے کا تقاضا کرتی ہو، یا اس کی معذرت قبول کرنے سے برے کام پر اس کی حوصلہ افزائی یا شرانگیزی میں اس کی مدد ہوگی، تو پھر معذرت قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسی صورت میں معذرت قبول کرنا گویا برے کام میں تعاون کرنا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اسی طرح اس صورت میں بھی معذرت قبول نہیں کی جائے گی، جہاں کوئی عذر موجود نہ ہو اور جرم ایسا ہو جو سزا کا مستحق ہو۔ (بدائع السلك في طبائع الملك، ج 1، ص 452، وزارۃ الاعلام، العراق)
کسی کی کوئی چیز غصب کی، تو اسے واپس کیے بغیر معافی مانگنے پر معاف کرنا لازم نہیں، جیساکہ فقیہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”زید نے اگر و اقعی حارث کی زمین غصب کی ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو اگر زید غصب کی ہوئی زمین واپس کرے اور زمین سے نفع حاصل کرنے کا تاوان دے، پھر حارث سے زمین غصب کرنے کی معذرت کرے اور حارث نہ معاف کرے ، تو بیشک اس وعید کا مستحق ہو گا، جو حدیث شریف میں مذکور ہے اور اگر زید حارث کو ارضِ مغصوبہ واپس نہ کرے اور زمین کی منفعت کا تاوان بھی نہ دے اور حارث سے معافی نہ مانگے، تو نہ معاف کرنے کی صورت میں حارث پر شرعاً کوئی مؤاخذہ نہیں۔“ (فتاوی فیض الرسول، ج 2، ص 420، شبیر برادرز، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7729
تاریخ اجراء: 12 رمضان المبارک1447 ھ/2مارچ 2026ء