منافق کے متعلق چند سورتیں یاد نہ کرنے پر حدیث پاک
بسم اللہ الرحمن الرحیم
منافق کے متعلق چند سورتیں یاد نہ کرنے پر ایک حدیث کی وضاحت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سورۃ توبہ کے فضائل میں یہ روایت موجود ہےکہ :” حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق سورہ ہود، سورہ براءت ، سورہ یٰس ، سورہ دخان اور سورہ نبا کو یاد نہیں کرے گا۔“ اس سے کیا مراد ہے؟
جواب
یہاں مراد یہ ہے کہ منافق ان آیات میں غور و فکر کر کے ان میں بیان کردہ احکام و حدود کی پاسداری کرنے پر قادر نہیں ہوگا اور جو شخص ان کو یاد کر کے احکام پر عمل کرتا رہے گا تو اس کا خاتمہ ایمان پرہوگا۔ان شاء اللہ عزوجل
حسن التنبہ میں ہے:
”وروى الطبراني في "الأوسط" عن علي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - "المنافق لا يحفظ سورة هود، وبراءة، ويس، والدخان، وعم يتساءلون" ۔ لا يحفظها متدبرا لها حافظا لحدودها، فربما وجد في حفاظ القرآن من جمع كثيرا من خصال المنافقين، اللهم إلا أن يقال: إن من حفظ تلك السور فلا يتركهن أن يختم له بالإيمان“
یعنی امام طبرانی نے ”معجم الاوسط“ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ، فرمایا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: منافق سورۂ ہود، سورہ براءت (سورۂ توبہ)، سورۂ یٰس، سورۂ دخان اور سورۂ عم یتساءلون یاد نہیں کرے گا۔ یعنی وہ انہیں اس طرح یاد نہیں کرے گا کہ ان میں غور و فکر کرے اور ان کی حدود (احکام) کی حفاظت کرے۔ ورنہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قرآن کے بعض حافظوں میں منافقین کی بہت سی خصلتیں جمع ہو جاتی ہیں۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو شخص ان سورتوں کو یاد کر لے اور انہیں نہ چھوڑے (یعنی ان پر عمل اور مداومت رکھے)، تو اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ (حسن التنبہ،جلد9، صفحہ 302، مطبوعہ:دارالنوادر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2393
تاریخ اجرا: 25جمادی الاخریٰ 1447ھ / 17 دسمبر 2025ء