کیا ننگے سر تلاوت قرآن کرسکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ننگے سر تلاوت کرنے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ننگے سر قرآن پاک کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟
جواب
ننگے سر قرآن کریم کی تلاوت فی نفسہ جائز ہے، البتہ! مستحب اور ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ باوضو، قبلہ رو، پاک صاف اچھے کپڑے پہن کر، اور سر ڈھانپ کر قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔ البتہ! ننگے سر پڑھنے سے خشوع وخضوع مقصود ہو، تو اسی طرح بہتر ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
"رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم و يستقبل القبلة"
ترجمہ: جب کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت کرنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ سب سے اچھی حالت میں ہو، اچھے کپڑے پہنے، عمامہ باندھے اور قبلہ کی طرف منہ کرے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 5، صفحہ 316، مطبوعہ: کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے۔۔۔ چلنے اور کام کرنے کی حالت میں بھی تلاوت جائز ہے، جبکہ دل نہ بٹے، ورنہ مکروہ ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 551، 550، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی امجدیہ میں ہے ”ننگے سر تلاوت میں حرج نہیں جبکہ قلت ادب سے نہ ہو، اور اگر خشوع و تذلل مقصود ہے تو بہتر ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 205، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4813
تاریخ اجراء: 17رمضان المبارک1447ھ/07 مارچ 2026ء