نبی یا ولی کے لیے علم غیب ماننا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآن میں ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تو نبی یا ولی کے لیے علم غیب ماننا کیسا ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن میں ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، قرآن میں آیا ہے: ﴿قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللَّهُ﴾(النمل: 65) لہٰذا کسی نبی یا ولی کے لیے علمِ غیب ماننا درست نہیں جبکہ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبیوں اور ولیوں کو بھی غیب کا علم ہوتا ہے۔ کیا اہل سنت کا عقیدہ آیتِ قرآنی کے برخلاف ہے؟
جواب
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا وہ بے مثل کلام ہے جس میں دنیا و آخرت کے ہر طرح کے مسائل کا حل موجود ہے۔ اللہ کریم نے اسے﴿تِبیانًا لِکُلِّ شَیء﴾ یعنی ہر چیز کا واضح بیان قرار دیا ہے۔ اس کے کلام الٰہی ہونے کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ اور ان کے معانی و مفاہیم میں کسی قسم کا اختلاف، تضاد یا تناقض نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ اگر معانی میں کسی درجے کا بھی تضاد ہو تو اس سے قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے پر حرف آتا ہے، لہٰذا قرآنِ مجید کی کسی بھی آیت کا وہ مفہوم جو دوسری آیات کے خلاف ہو، بالکل باطل اور مردود ہے، اور یہی عدمِ مطابقت اس کے غلط ہونے کی واضح دلیل ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ ایک مسلمان کے لیے قرآن مجید کی ہر ہر آیت اور اس کے احکامات کو ماننا ضروری ہے۔ کلام الٰہی کی کچھ آیتوں کو ماننا اور کچھ کا انکار کرنا یہودیوں کا طرز عمل ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے مذمت فرمائی ہے۔
اس کے بعد مسئلہ ”علمِ غیب“ کو دیکھیے: جب ہم قرآنِ کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس حوالے سے دو طرح کی آیات سامنے آتی ہیں۔ ایک وہ جن میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب و مقرب بندوں، بالخصوص انبیائےکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو غیبی علوم عطا فرمانے کا ذکر فرماتا ہے۔ دوسری وہ آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور آیت۔بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ پہلی قسم کی آیات سے صرف نظر کرلیتے ہیں اور دوسری قسم کی آیات کا ایسا معنی و مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے آیتوں کے مفاہیم میں شدید تضاد محسوس ہوتا ہے، یہ طریقہ ہرگز درست نہیں۔
اوپر ذکر کردہ اصول کے مطابق، نفی والی آیات کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جس کی وجہ سے اس میں اور دیگر آیات میں کسی قسم کا تضاد پیدا نہ ہو۔ اور وہ صحیح مفہوم یہ ہے کہ ان آیات میں جس علم کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، یعنی علمِ ذاتی۔ اسی کو علمِ حقیقی، علمِ قدیم اور علمِ محیط بھی کہا جاتا ہے، اس میں کسی کی عطا کا کوئی دخل نہیں، یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے۔ اگر کوئی شخص غیر اللہ (خواہ نبی ہو یا ولی) کے لیے اس طرح کا ذاتی علم ایک ذرّے کے برابر بھی ثابت مانے، تو وہ کفر کا مرتکب ہو کر دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
رہا وہ علمِ غیب جسے مسلمان انبیاء و اولیاء کے لیے مانتے ہیں، تو وہ اپنی تمام وسعت کے باوجود خالص، اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہوتا ہے، ذاتی نہیں ہوتا۔ لہٰذا مذکورہ آیت کا درست مفہوم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کا حقیقی اور ذاتی علم نہیں رکھتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ اگر اس آیت کا یہ مفہوم نہ لیا جائے تو قرآنِ کریم کی ان متعدد آیات سے تطبیق ممکن نہیں رہے گی جن میں انبیاء کو علمِ غیب عطا کیے جانے کا ذکر ہے، اور جیسا کہ بیان ہو چکا، ہر وہ مفہوم جو قرآن کی دیگر آیات سے متصادم ہو، ناقابلِ قبول اور غیر معتبر ہے۔
اب بالترتیب جزئیات ملاحظہ ہوں:
قرآن کریم کی آیات باہم تناقض و تضاد سے منزہ ہیں۔ اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا﴾ترجمہ کنز العرفان: ’’تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘ (سورۃ النساء، آیت 82)
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی۔‘‘ (سورۃ الکھف، آیت 01)
مزید ایک اور مقام پر ہے: ﴿قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’عربی زبان کا قرآن جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں تاکہ وہ ڈریں۔‘‘ (سورۃ الزمر، آیت 28)
امام عبد اللہ بن احمد نسفی متوفی 710ھ مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں: ﴿وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا﴾ والمراد نفی الاختلاف و التناقض عن معانیہ و خروج شیئ منہ من الحکمۃ“ ترجمہ: (اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی) اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے معانی میں کسی قسم کا اختلاف اور تضاد نہیں ہے، اور اس میں سے کوئی چیز بھی حکمت سے خالی نہیں۔ (مدارک التنزیل، ج 02، ص 3، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام المفسرین سیدنا فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں:”القسم الثاني: أن يكون كونه أحسن الحديث لأجل المعنى، وفيه وجوه: الأول: أنه كتاب منزه عن التناقض، كما قال تعالى: ﴿ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا﴾ ومثل هذا الكتاب إذا خلا عن التناقض كان ذلك من المعجزات “ترجمہ: دوسری قسم یہ ہے کہ قرآن سب سے بہترین کلام معنی (مضمون) کے اعتبار سے ہے، اور اس کی چند صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ کہ یہ کتاب (قرآن) تضاد سے پاک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے اور ایسی کتاب جب تضاد سے خالی ہو تو یہ خود ایک معجزہ ہونے کی دلیل ہے۔ (التفسیر الکبیر، ج26، ص 442، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
کسی آیت کا ایسا مفہوم جو تناقض کی طرف لے جائے، ناقابل قبول ہے۔ عظيم مفسر علامہ ابو حفص سراج الدین عمر بن علی دمشقی المعروف ابن عادل متوفی 775ھ اپنی تفسیر اللباب میں لکھتے ہیں:”إنما يجوز تأويل كلام الله بما لا يؤدي إلى وقوع التناقض والركاكة فيه“ترجمہ: بلاشبہ کلام اللہ کا صرف ایسا معنی و مفہوم بیان کرنا ہی جائز ہے جو کہ اس میں تناقض اور رکاکت کی طرف نہ لے جائے۔ (اللباب فی علوم الکتاب، ج17، ص 109، دار الكتب العلميہ، بيروت / لبنان)
کچھ آیتوں کو ماننا اور کچھ سے انکار کردینا، یہودیوں کا طریقہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’تو کیا تم اللہ کے بعض احکامات کو مانتے ہو اور بعض سے انکار کرتے ہو؟‘‘ (سورۃ البقرۃ، آیت 85)
صراط الجنان میں ہے: ”بنی اسرائیل کا عملی ایمان ناقص تھا کہ کچھ حصے پر عمل کرتے تھے اور کچھ پر نہیں اور اس پر فرمایا گیا کہ کیا تم کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت کے تمام احکام پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور تمام ضروری احکام پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔۔یاد رہے کہ عظمت ِ توحید کو ماننا لیکن عظمت ِ رسالت سے انکار کرنا بھی اسی زُمرے میں آتا ہے کہ کیا تم کتاب کے کچھ حصے کو مانتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کرتے ہو۔“ (صراط الجنان، ج01، ص 176، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و مقرب بندوں کو علم غیب عطا فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’اور (اے عام لوگو!) اللہ تمہیں غیب پر مطلع نہیں کرتا البتہ اللہ اپنے رسولوں کو مُنتخب فرما لیتا ہے جنہیں پسند فرماتا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران، آیت179)
ایک اور مقام پر ہے: ﴿عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًا(26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں دیتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔‘‘ (سورۃ الجن، آیت 26، 27)
سورہ یوسف میں ارشاد ہے: ﴿ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ یوسف، آیت 102)
اللہ تعالیٰ کے ماسوا سے علم غیب کی نفی والی آیات میں علم ذاتی حقیقی کی نفی مراد ہے۔ امام شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی مصری متوفی 1069ھ ’’نسیم الریاض شرح شفا للقاضی عیاض‘‘ میں لکھتے ہیں:”(ھذہ المعجزۃ) فی اطلاعہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی الغیب (المعلومۃ علی القطع) بحیث لایمکن انکارھا أوالتردد فیھالأ حدٍ من العقلاء (لکثرۃ رواتھا واتفاق معانیھا علی الاطلاع علی الغیب) وھذا لاینافی الاٰیات الدالۃ علی أنہ لایعلم الغیب الا ﷲ وقولہ ولوکنت أعلم الغیب لاستکثرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیرواسطۃ وأمّا اطلاعہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم علیہ با علام ﷲ تعالٰی لہ فأمرمتحقق بقولہ تعالٰی فلایظھر علٰی غیبہ احداً الّا من ارتضٰی من رسول“
ترجمہ: رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا معجزہ علم غیب یقیناً ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردّد کی گنجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب کے معانی سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ ﷲ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کویہ کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتا، اس لیے کہ ان آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور ﷲ تعالیٰ کے بتائے سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہے۔اللہ کا فرمان ہے: ﷲ اپنے غیب پر کسی کومطلع نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے۔ (نسیم الریاض، ج 04، ص 149، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان متوفی 1340ھ لکھتے ہیں: ”علم یقیناً اُن صفات میں سے ہے کہ غیر خدا کو بعطائے خدا مل سکتا ہے، تو ذاتی و عطائی کی طرف اس کا انقسام یقینی، یونہی محیط وغیر محیط کی تقسیم بدیہی، ان میں ﷲ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے یعنی علم ذاتی وعلم محیط حقیقی۔ تو آیات واحادیث و اقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثباتِ علم غیب سے انکارہے ان میں قطعاً یہی قسمیں مراد ہیں۔ فقہا کہ حکمِ تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفتِ خاصہ دُوسرے کے لیے ثابت کی۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائی، حاشا ﷲ علم عطائی خدا کے ساتھ خاص ہونا درکنار خدا کے لیے محال قطعی ہے کہ دوسرے کے دیئے سے اسے علم حاصل ہو۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 29، ص 444، 445 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
خاص سوال میں ذکر کردہ آیت کے متعلق، سیدی امام اہلسنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا تو جواباً ارشاد فرمایا: ”زید عمرو کچھ کہیں مگر قرآن مجید وا حادیث صحیحہ کا ارشاد یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ افضل الصلوۃ والسلام کو روزِ ازل سے روزِ آخر تک کے تمام غیوب کا علم عطا فرمایا گیا یہ بے شک حق ہے کہ انبیاء غیب اُسی قدر جانتے ہیں جتنا اُن کو ان کے رب نے بتایا، بلاشبہ بے اس کے بتائے کوئی نہیں جان سکتا۔۔آیہ کریمہ میں علم ذاتی کی نفی ہے کہ کوئی شخص بے خدا کے بتائے غیب نہیں جانتا، یہ بے شک حق ہے اور اسی کے معارضہ کو حنفیہ نے کفر کہا ہے ورنہ یہ کہ خدا کے بتائے سے بھی کوئی نہیں جانتا اس کا انکار صریح کفر اور بکثرت آیات کی تکذیب ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 29، ص 409، 410، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”علمِ غیب اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہونا بے شک حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے: ﴿قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ﴾ تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔‘‘ اور اس سے مراد وہی علمِ ذاتی اور علمِ محیط (یعنی ہر چیز کا علم) ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص ہیں۔ علمِ عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہو اور علمِ غیر محیط کہ بعض اَشیاء سے مطلع ہو اور بعض سے ناواقف ہو، اللہ عزوجل کے لیے ہو ہی نہیں سکتا، اس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہے۔ اور اللہ عزوجل کی عطا سے علومِ غیب غیر محیط کا اَنبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کو ملنا بھی قطعاً حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ﴾ (التکویر: ۲۴) یہ نبی غیب کے بتانے میں بخیل نہیں۔ حتّٰی کہ مسلمانوں کو فرماتا ہے: ﴿یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ﴾ (بقرہ: ۳ ) غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ ایمان تصدیق ہے اور تصدیق علم ہے، جس شے کا اصلاً علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکن۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 29، ص 438، 439 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0736
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم 1447ھ/08 اپریل 2026ء