logo logo
AI Search

اللہ شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ پاک کے دل کی رگ سے بھی زیادہ قریب ہونے سے کیا مراد ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن حکیم میں مذکور ”وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔ ترجمہ: اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ ﴿پ 26، ق: 16﴾“ اِس آیتِ مبارکہ کا مطلب کیا ہے؟  سائل: شکیل عطاری

جواب

معتبر مفسرین نے اِس آیت مبارکہ کے مختلف مطالب بیان فرمائے۔ اُن میں سے راجح اور کثرت سے بیان کی جانے والی تفسیر یہ ہے کہ ”اللہ کریم اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے انسان کے دل کی رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہے اور بندے کے حال کو خود اُس بندے سے زیادہ جاننے والا ہے۔“

چند تفاسیر:

”تفسیر الجلالین“ میں ہے: {وَنَحْنُ ‌أَقْرَب ‌إلَيْهِ} بالعلم {مِنْ حَبْل الْوَرِيد}۔ ترجمہ: اور ہم علم کے اعتبار سے دل کی رگ سے بھی زیادہ اُس کے قریب ہیں۔ (تفسیر الجلالین، صفحہ 690، مطبوعہ دار الحدیث، القاھرۃ)

”تفسیر النسفي“ میں ہے: {وَنَحْنُ ‌أَقْرَبُ ‌إِلَيْهِ} المراد قرب علمه منه۔ ترجمہ: اور ہم اُس کے زیادہ قریب ہیں۔ اِس سے مراد علمِ الہی کا بندے کے قریب ہونا ہے۔ (تفسیر النسفی، جلد 03، صفحہ  364، مطبوعہ دار الکلم الطیب، بیروت)

”حاشية الشهاب علي تفسير البيضاوي“ میں ہے: والمعنى أنه تعالى أعلم بأحواله خفيها وظاهرها من كل عالم۔ ترجمہ: اِس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جاننے والے سے بڑھ کر بندے کے ظاہری اور پوشیدہ احوال کو جاننے والا ہے۔ (حاشية الشهاب علي تفسير البيضاوي، جلد 08، صفحہ 86، مطبوعہ دارصادر، بیروت)

اِسی کو اس انداز میں بھی بیان کیا گیا کہ انسان کے جملہ اعضاء ایک دوسرے سے پردے میں ہیں، مگر خالقِ حقیقی سے کچھ پوشیدہ نہیں، چنانچہ امام خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 741ھ/1341ء)لکھتے ہیں: معنى الآية أن أجزاء الإنسان وأبعاضه يحجب بعضها بعضا ولا يحجب عن علم اللہ شيء۔ترجمہ: آیت کا معنی یہ ہے کہ انسان کے اَجزاء یا اعضا ایک دوسرے کو چھپا لیتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پردے میں نہیں۔ (تفسیر الخازن، جلد 04، صفحہ 187، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

آیت میں مذکور ”الْوَرِيد“ کا معنی بیان کرتے ہوئے امام راغب اصفہانی (وِصال: 502ھ/1108ء) نے لکھا: الوَرِيدُ: عرقٌ يتّصل بالكبد والقلب، وفيه مجاري الدّم والرّوح۔ ترجمہ: ورید ایک ایسی رگ ہے، جو جگر اور دل سے جڑی ہوتی ہے اور اسی میں خون اور روح کے گزرنے کے راستے ہوتے ہیں۔ (مفرداتُ الفاظ القرآن، صفحہ  865، مطبوعہ دار القلم، دمشق)

نوٹ: ”ورید“ کا محض یہی معنی نہیں، بلکہ اِس کے علاوہ معانی بھی اہلِ تفسیر ولغت نے بیان کیے ہیں۔

اِس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی کہ آیت کریمہ میں بیان کردہ ”قرب“ اللہ تعالیٰ کے اختیار اور مِلک کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انسان کی زندگی کا دارومدار اس کی شہ رگ پر ہے، یعنی شہ رگ کا انسان کی زندگی پر مکمل غلبہ اور کنٹرول ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کی جان پر اس کی اپنی شہ رگ سے بھی زیادہ قدرت اور اختیار رکھتا ہے، چنانچہ ”الجامع لاحکام القرآن“ میں ہے: أي ونحن أملك به من حبل وريده مع استيلائه عليه۔ ترجمہ: یعنی ہم انسان پر اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اختیار رکھتے ہیں، اس کے باوجود کہ شہ رگ کو اس کی جان پر غلبہ حاصل ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، جلد 09، صفحہ 17، مطبوعہ دار الكتب المصریہ، قاھرۃ)

انسان کی رگ رگ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کا حکم بالکل اُسی طرح جاری و ساری ہے، جیسے جسم میں خون گردش کرتا ہے، چنانچہ اِسی کتاب میں ہے: يحتمل أن يكون المعنى ونحن أقرب إليه بنفوذ قدرتنا فيه ويجري فيه أمرنا كما يجري الدم في عروقه۔ ترجمہ: یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ ہم اپنی قدرت کے نافذ ہونے کے اعتبار سے انسان کے زیادہ قریب ہیں اور انسان کے وجود پر ہمارا حکم اسی طرح چلتا ہے، جس طرح اس کی رگوں میں خون دوڑتا ہے۔ (تفسیر الخازن، جلد 04، صفحہ 187، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9919
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء