logo logo
AI Search

رات کا کھانا چھوڑنے سے متعلق حدیث

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رات کا کھانا نہ کھانے کے نقصان کے متعلق روایت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کہا جاتا ہے کہ "شام کا کھانا نہ کھانے کی وجہ سے عمر کم ہوتی ہے"، کیا یہ حدیث ہے؟

جواب

"شام کا کھانا، نہ کھانے کی وجہ سے، عمر کم ہوتی ہے" بعینہ ان الفاظ سے تو کتبِ احادیث میں ایسی کوئی روایت ہمیں نہیں مل سکی، البتہ! ایک حدیثِ پاک میں یوں بیان کیا گیا ہے: "عشاء کا کھانا نہ چھوڑو، اگرچہ ایک مُٹھی کھجور ہی ہو، کیونکہ اسے چھوڑنا، بوڑھا کر دیتا ہے" اور مراد یہ ہے کہ وہ اسے کمزور کر دیتا ہے، اور اسے اُن لوگوں کے ساتھ ملا دیتا ہے، جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہے۔

چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے: "عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: "لا تدعوا العشاء ولو ‌بكف ‌من ‌تمر، فإن تركه يهرم" ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عَشا (یعنی رات کا کھانا) نہ چھوڑو، اگرچہ ایک مُٹھی کھجور ہی ہو، کیونکہ اسے چھوڑ نا، بوڑھا کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجه، باب ترک العشاء، جلد 02، صفحہ 1113، حدیث 3355، دار احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)

اس حدیث کے تحت حاشيۃ السندی میں ہے "والمراد أنه يضعفه ويلحقه بمن كبر سنه" ترجمہ: مراد یہ ہے کہ وہ اسے کمزور کر دیتا ہے اور اسے اُن لوگوں کے ساتھ ملا دیتا ہے، جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہو۔ (حاشية السندي على سنن ابن ماجه، باب ترك العشاء، ج 02، ص 322، دار الجيل، بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4973
تاریخ اجراء: 14 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 02 مئی 2026ء