اللہ پاک کا نبی کریم ﷺ کی حفاظت کا وعدہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ پاک نے کس چیز سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قرآن پاک میں ہے ”وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس“ ترجمہ کنز الایمان: ”اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔“ دوسری طرف بخاری شریف کی حدیث کے مطابق لبید بن الاعصم نے جب آپ پر جادو کیا تو اس کا اثر یوں ظاہر ہوا کہ آپ نے کوئی کام نہیں کیا ہوتا مگر آپ کو خیال آتا کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نگہبانی میں تھے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیسے اثر کر گیا؟
جواب
قرآن پاک کی آیت میں اللہ پاک نے جو حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید نہیں کر سکے گا اور ایسا ہی ہوا، یہ آیت قرآن کے سچے ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کی دلیل قرار دی گئی کہ جو خبر اس آیت میں دی گئی وہ من وعن پوری ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی عصمت و حفاظت کی صورت علماء نے نقل کی ہیں۔
اس آیت سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی تکلیف نہیں پہنچا سکے گا، لہذا جادو کا اثر کر جانا یا جسم مبارک کو کسی شقی و بدبخت کی وجہ سے زخم یا تکلیف پہنچ جانا آیت کے منافی نہیں ہے۔
تفسیر خازن میں مذکورہ آیت کے تحت فرمایا:”فان قلت أليس قد شج رأسه وكسرت رباعيته يوم أحد وقد أوذی بضروب من الأذى فكيف يجمع بين ذلك وبين قوله ”وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس“ قلت: المراد منه أنه يعصمه من القتل فلا يقدر عليه أحد أراده بالقتل ويدل على صحة ذلك ما روی عن جابر أنه غزى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم قفل معه فأدركتهم القائلة فی واد كثير العضاة فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وتفرق الناس يستظلون بالشجر فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت شجرة فعلق بها سيفه ونمنا معه نومة، فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعونا، واذا عنده أعرابی فقال: ان هذا اخترط علیّ سيفی وأنا نائم فاستيقظت وهو فی يده صلتا. فقال: من يمنعك منی؟ فقلت: الله ثلاثا ولم يعاقبه وجلس“
ترجمہ: اگر تم کہو کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر زخم پہنچا اور دانت مبارک کا کچھ حصہ شہید ہوا اور مزید بھی کئی تکالیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں تو ان میں اور اللہ پاک کے فرمان ”ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔ “ میں کیسے تطبیق دی جائے گی تو میرا جواب یہ ہے کہ آیت میں حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اللہ پاک قتل سے حفاظت فرمائے گا، لہذا جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا ارادہ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہوا، اس کے صحیح ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو یہ بھی واپس لوٹے، جب ایک ایسی وادی میں پہنچے جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے تو اس وقت قیلولے کا وقت ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لے آئے اور لوگ الگ الگ ہوکر درختوں کے سائے میں چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی آرام کیا، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آواز دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی موجود تھا، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری نیند کے وقت اس نے مجھ پر میری ہی تلوار نکال لی، میں بیدار ہوگیا، اس نے تلوار سونتی ہوئی تھی اور کہنے لگا کہ آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے تین مرتبہ کہا: اللہ۔وہ اعرابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ (تفسیرخازن جلد 1، صفحہ 512، مطبوعہ پشاور)
الزواجر عن اقتراف الکبائر میں امام شھاب الدین احمد بن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”انما أثر السحر فی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مع قولہ تعالٰی ”وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس“ اما لأن المراد منہ عصمۃ القلب والایمان دون عصمۃ الجسد عما یرد علیہ من الحوادث الدنیویۃ، ومن ثم سحر وشج وجھہ وکسرت رباعیتہ ورمی علیہ الکرش والثرب وأذاہ جماعۃ من قریش واما لأن المراد عصمۃ النفس عن الافتلات دون العوارض التی تعرض للبدن مع سلامۃ النفس وھذا أولی بل ھو الصواب لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یحرس فلما نزلت الآیۃ أمر بترک الحرس۔“
ترجمہ: اللہ پاک کے فرمان ”وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس“کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو نے اثر کیا، اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ آیت میں حفاظت سے مراد دل اور ایمان کی حفاظت ہے، بدن کی دنیاوی حوادث سے حفاظت مراد نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ پر جادو کیا گیا، آپ کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا گیا، دانت مبارک شہید ہوئے، آپ پر اوجھڑی اور آنتیں ڈالی گئیں، قبیلہ قریش کی ایک جماعت نے آپ کو ایذاء دی، یا پھر آیت سے مراد جان کی حفاظت ہے قتل ہونے سے، جان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ ان عوارض سے حفاظت مراد نہیں ہے جو بدن کو لاحق ہوتے ہیں، یہ قول لینا اولی ہے بلکہ یہی درست قول ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے، حفاظت کیلئے پہرے دار مقرر فرماتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہرے داری کو ترک کرنے کا حکم دیا۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر جلد 2، صفحہ 107، مطبوعہ مصریہ)
تفسیر نعیمی میں اسی طرح کے اعتراض کا جواب نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”قوی جواب یہ ہے کہ یہاں قتل اور دین کی تباہی سے حفاظت کا وعدہ ہے، یعنی وہ تم کو نہ تو قتل کرسکیں گے، نہ آپ کا دین مٹا سکیں گے، تکالیف پہنچنا اس کے خلاف نہیں، وہ تو رب کی طرف سے امتحان اور زیادتی درجات کیلئے ہے۔“ (تفسیر نعیمی جلد 6، صفحہ 565، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)
سوال میں مذکورہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے ہونے پر دلیل ہے۔ امام ابوبکر احمد جصاص رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وقد دل قولہ تعالٰی ”وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس“ علی صحۃ نبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اذ کان من أخبار الغیوب التی وجد مخبرھا علی ما أخبر بہ، لأنہ لم یصل الیہ أحد بقتل ولا قھر ولا أسر مع کثرۃ أعدائہ المحاربین لہ مصالتۃ والقصد لاغتیالہ مخادعۃ۔“
ترجمہ: اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان ”اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے نبی ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ یہ غیب کی ان خبروں میں سے ہے کہ خبردینے والے کو ویسا ہی پایا گیا جیسا کہ خبردی گئی، اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل پر کوئی بھی قادر نہ ہوسکا، اسی طرح آپ پر غلبہ پالینے یا قیدی بنا لینے پر بھی کوئی قادر نہ ہوسکا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کثیر دشمن ایسے موجود تھے جو تلواریں سونت کر آپ سے جنگ کرنے پر آمادہ تھے اور دھوکے سے آپ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ (احکام القرآن جلد 2، صفحہ 630، مطبوعہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Gul -3312
تاریخ اجراء:27 ربیع الآخر 1446 ھ/ 31 اکتوبر 2024 ء