آقا کو غلام پر فضیلت کیوں ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
"آقا کو غلام پر فضیلت نہیں"، اس کی وضاحت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مفتی صاحب میں نے ایک حدیث سنی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ عجمی کو عربی پر، گورے کو کالے پر، طاقتور کو کمزور پر، امیر کو غریب پر کوئی فضیلت نہیں، تو کیا آقا کو غلام پر کوئی فضیلت نہیں؟ اگر غلام، آقا کے برابر ہے، تو پھر غلام بکتے تھے، نیلامی بھی ہوتی تھی، جب سب انسان برابر ہیں تو یہ فرق کیوں تھا اور غلامی کیوں تھی؟ اس طرح تو برابری نہیں ہوتی؟
جواب
آپ نے جو حدیث بیان کی اس کے الفاظ نیچے باحوالہ درج ہیں، ان کو ذہن نشین کرلیں، اور آئندہ اس کے مطابق حدیث بیان کیا کریں، آپ کے الفاظ میں کمی بیشی ہے۔
جہاں تک اس حدیث کی روشنی میں آپ کا یہ سوال ہے کہ غلام اور آقا میں فرق کیوں کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں جو فضیلت کی نفی کی گئی ہے، وہ دنیوی رنگ و شکل اور قبیلوں وغیرہ دنیوی وجوہات کے سبب ہے یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص محض عربی ہونے یا خوبصورت رنگ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں معزز ہوجائے، بلکہ اللہ تعالی کے ہاں عزت و فضیلت، متقی و پرہیزگار ہونے کے لحاظ سے ہے یعنی جو جتنا متقی و پرہیزگار ہے، وہ اللہ تعالی کے ہاں اتنا ہی زیادہ معزز ہے۔ باقی دنیوی اعتبار سے کوئی آقا ہے، تو کوئی غلام، کوئی امیر ہے، تو کوئی غریب، تو اس کی بنا پر نہ ہی حدیث پر اشکال ہوسکتا ہے اور نہ ہی غلامی کی شرعی حیثیت پر؛ کہ یہ دنیوی معاملات ہیں۔ ان کی وجہ سے دینی فضیلت (جس کا حدیث میں ذکر ہے) ثابت نہیں ہوتی۔
مسند احمد میں اس حدیث پاک کے الفاظ یوں ہیں: "يا أيها الناس، ألا إن ربكم واحد، و إن أباكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي و لا لعجمي على عربي، و لا أحمر على أسود، و لا أسود على أحمر إلا بالتقوى" ترجمہ: لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ پر، اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر" سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے۔ (مسند أحمد، جلد 38، صفحہ 474، رقم الحدیث 23489، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
مرقاة المفاتيح میں ہے "أي: لست بأفضل عند اللہ من أحد النوعين في حال من الأحوال إلا حال زيادتك عليه بتقوى معتبرة في الشرع" ترجمہ: یعنی: تم اللہ تعالی کے نزدیک ان دونوں میں سے کسی ایک قسم کے آدمی سے کسی بھی حالت میں بہتر نہیں ہو، سوائے اس حالت کے، کہ تم اس پر ایسے تقویٰ کی وجہ سے برتری حاصل کرلو، جو شریعت میں معتبر ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، کتاب الرقاق، جلد 9، صفحہ 393، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4892
تاریخ اجراء: 24 شوال المکرم 1447ھ / 13 اپریل 2026ء