logo logo
AI Search

کیا قرآن پاک کا ترجمہ سننا بھی واجب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن پاک کا ترجمہ سننے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پا ک کا ترجمہ پڑھا جارہا ہو، تو کیا قرآن پاک کے الفاظ کی تلاوت کی طرح، قرآن پاک کا ترجمہ سننا بھی لازم ہے؟سائلہ: اسلامی بہن

جواب

سوال کا جواب درج ذیل سرخیوں کی روشنی میں دیا جائے گا:

اجمالی جواب

ترجمۂ قرآن کی حیثیت اور لفظِ قرآن کے اطلاقات

ترجمۂ قرآن کی سماعت کا لزوم امثلہ و نظائر کی روشنی میں

ترجمۂ قرآن کی سماعت اور مقاصدِ شریعت

اجمالی جواب:

الفاظِ قرآن کی تلاوت کے وقت جس طرح سننے کی غرض سے وہاں موجود افراد پر توجہ سے تلاوتِ قرآن سننا واجب ہے، اسی طرح اگر قرآنِ پاک کا ترجمہ کوئی پڑھ رہا ہو اور سننے والے افراد اس ترجمہ کی زبان کو سمجھتے بھی ہوں، تو وہاں موجود افراد پر احتیاطاً ترجمۂ قرآن کو سننا واجب ہے۔

ترجمۂ قرآن کی حیثیت اور لفظِ قرآن کے اطلاقات:

ترجمۂ قرآن، قرآنِ پاک کے معانی کا نام ہے، جبکہ اصول فقہ کی کتابوں میں موجود تعریف کے اعتبار سے قرآن الفاظ اور معانی کے مجموعے کا نام ہے، دیگر زبانوں میں آنے والے معنی و مفہوم کا نام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی ترجمہ پڑھ رہا ہو، تو اسے عرف اور حقیقت کے اعتبار سے قرآن پڑھنے والا نہیں کہا جاتا۔ ہاں البتہ معانی اور ترجمے پر من وجہ اور مجازاً قرآن کا اطلاق کیا جاتا ہے، جس کی امثلہ ذیل میں ذکر کی جائیں گی۔

ترجمۂ قرآن کی سماعت کا لزوم امثلہ و نظائر کی روشنی میں:

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر سننے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ترجمۂ قرآن کو اگرچہ ظاہراً اور حقیقتاً قرآن نہیں کہا جاتا، لیکن معانی پر من وجہ اور مجازاً قرآن کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

الفاظِ قرآن کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر سننے کا حکم تو واضح ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترجمۂ قرآن کا بھی وہی حکم ہوگا جو الفاظِ قرآن کا ہے؟ تواس کی صراحت صریح نصوص سے نہیں ملتی۔ اس مسئلہ کی تنقیح کے لیے جب کلامِ فقہاء کی طرف نظر کی جاتی ہے، تو واضح ہوتا ہے کہ فقہاء کرام مقام احتیاط میں، ترجمۂ قرآن پربھی الفاظ قرآن کےاحکام کا اجرا فرماتے ہیں مثلاً فقہاء کرام فرماتے ہیں:

(1) اگر کسی آیتِ سجدہ کا ترجمہ سنا اور سننے والے کو معلوم ہو کہ یہ آیتِ سجدہ کا ترجمہ ہے، تو اس پر احتیاطاً سجدۂ تلاوت واجب ہوگا۔ فقہاء کرام نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ اس نے لفظاً اگرچہ قرآن نہیں سنا، لیکن معناً تو قرآنِ پاک ہی کو سنا ہے۔ فقہاء کرام نے اس سننے والے کو من وجہ قرآن سننے والا شمار کیا،اور فرمایا کہ جس طرح لفظِ قرآن سننے پر سجدۂ تلاوت لازم ہے، اسی طرح آیتِ سجدہ کا ترجمہ سننے پر احتیاطاً سجدہ واجب ہوگا۔

(2) حدثِ اصغر ہو یا حدثِ اکبر، دونوں حالتوں میں جس طرح الفاظِ قرآن کو چھونا جائز نہیں، اسی طرح قرآنِ پاک کے ترجمہ کو چھونا بھی جائز نہیں۔

(3) جنابت کی حالت میں جس طرح قرآنِ پاک کے الفاظ پڑھنا جائز نہیں، اسی طرح قرآنِ پاک کا ترجمہ پڑھنا بھی جائز نہیں۔

درج بالا امثلہ و نظائر میں فقہاء کرام نے احتیاط کی وجہ سے الفاظِ قرآن کے احکام کو ترجمہ قرآن میں جاری فرمایا ہے لہذا درج بالا امثلہ و نظائر میں جس طرح احتیاط کی وجہ سے ترجمۂ قرآن پر الفاظ قرآن کے احکام کا اجرا فرمایا، اسی طرح مسئلۂ مبحوث عنہ میں بھی احتیاط کی وجہ سے ترجمۂ قرآن کا وہی حکم ہوگا، جو الفاظِ قرآن کا ہے، یعنی ترجمۂ قرآن کو خاموشی کے ساتھ سننا لازم ہے۔

ترجمۂ قرآن کی سماعت اور مقاصد شرع

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام اور دینِ اسلام کی اساس ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے اس کے احترام، تعظیم اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کو نہایت اہمیت دی ہے۔ قرآنِ پاک کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر توجہ سے سننے کا حکم درحقیقت کلامِ الٰہی کے ادب اور قرآن میں غور و فکر کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ علماء و مفسرین نے متعلقہ آیتِ مبارکہ کے تحت وضاحت فرمائی ہے۔

یہ امربھی واضح ہے کہ عام غیر عربی مسلمانوں کے لیے قرآنِ کریم کے معانی سمجھنے کا قریب ترین اور مؤثر ذریعہ اس کا درست ترجمہ ہے۔ قرآن میں تدبر کا جو مقصد ہے، وہ ترجمہ سننے سے بہترین انداز میں حاصل ہوتا ہے، اور ترجمہ کے وقت خاموشی سے سننا، اس مقصد کے حصول میں زیادہ معاون ہے۔

مزید یہ کہ قرآن کا احترام صرف اس کے الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ اس کے معانی اور پیغام کا ادب بھی لازم ہے، اور ترجمہ انہی معانی کو نمایاں کرتا ہے۔ لہٰذا ترجمہ قرآن کو خاموشی اور توجہ کے ساتھ سن کر وہی ادب بجا لایا جائے، جو اصل تلاوت کے وقت مطلوب ہے۔ اسی طرح شریعت کے مقاصد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایسے امور سے بچا جائے، جو دینی مقصد کے فوت ہونے کا سبب بنیں۔ اگر ترجمہ قرآن کے وقت گفتگو یا بے توجہی کی اجازت دی جائے، تو اس سے قرآن فہمی اور تعظیم دونوں متاثر ہوں گی، جو شریعت کے مقصد کے خلاف ہے۔

لہٰذا درج بالا تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح الفاظِ قرآن کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر تلاوتِ قرآن سننا واجب ہے، اسی طرح ترجمہ قرآن کو بھی خاموشی کے ساتھ سننا واجب ہے۔

لیکن یہ خیال رہے کہ قرآنِ پاک پڑھنے اور سننے کے متعلق جو فضائل وارد ہوئے ہیں، انہیں ترجمہ قرآن کے پڑھنے اورسننے پر جزماً منطبق نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ محض قرآنِ پاک کے ترجمہ کو پڑھنے اور سننے سے قراءتِ قرآن کے بارے میں منقول، ثواب کا حاصل ہونا، قرآن و حدیث اور کلامِ علماء سے ثابت نہیں۔ مزید یہ کہ قراءت پر ثواب کا حصول از قبیلِ فضائل ہے، جبکہ مسئلۂ مبحوث عنہ از قبیلِ احکام ہے۔ پھر اس کا ثبوت بذریعہ قیاس احتیاطاً ہے، اور اصول یہ ہے کہ فضائل اپنے مورد میں خاص ہوتے ہیں، انہیں قیاس سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ نیز احتیاط کا تعلق احکام سے ہے، فضائل سے نہیں۔ لہٰذا جو شرعی مسئلہ بذریعہ قیاس احتیاطاً ثابت ہو، اس پر فضیلت والے معاملے کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔

البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ پاک کے ترجمہ میں غور و فکر کی صورت میں، غور و فکر کا ثواب حاصل ہوگا، کیونکہ قرآنِ پاک میں غور و فکر کرنا حکمِ قرآنی پر عمل کرنا ہے۔

بالترتیب جزئیات ملاحظہ ہوں:

تلاوت قرآن سننا واجب ہے:

تلاوت توجہ اور خاموشی سے سننے کا حکم ہے اور یہ حکم مطلق ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ’’اور جب قرآن پڑھا جائے، تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (پارہ 9، سورۃ الاعراف، آیت 204)

اس آیت کے تحت تفسیر مدارک میں ہے ”ظاهره وجوب الاستماع و الانصات وقت قراءة القرآن فی الصلاة وغيرها“ ترجمہ: اس آیت کاظاہریہ ہےکہ جب قرآن پاک پڑھا جائے، خواہ نمازمیں ہو یا اس کے علاوہ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (تفسیر مدارک، ج 1، ص 628، مطبوعہ بیروت)

اس حکمِ قرآنی کی حکمت بیان کرتے ہوئےعلامہ ابن جریر طبری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ﴿إِذَا قُرِئَ﴾ عليكم أيها المؤمنون ﴿الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ﴾. يقولُ: أَصغُوا له سمعَكم لتتفهَّموا آياتِه، وتعتبروا بمواعظِه، و أنصتوا إليه لتعقلُوه و تدبروه ، و لا تلغوا فيه فلا تعقلوه، ﴿لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾. يقولُ: ليرحمكُمْ ربُّكُم باتعاظِكم بمواعظه، و اعتباركم بعبره، و استعمالكم ما بينه لكم ربكم من فرائضه في آيِه“ ترجمہ: اے یمان والو (اور جب قرآن پڑھا جائے، تو اسے غور سے سنو) گویا اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ اپنی سماعتوں کو اس کی جانب ہمہ تن متوجہ کر دو، تاکہ تم اس کی آیات کا گہرا فہم حاصل کر سکو اور اس کی نصیحتوں سے عبرت پکڑو؛ نیز خاموش رہو، تاکہ اسے عقل سے سمجھ سکو اور اس میں غور و فکر کر سکو، اور اس کے دوران لغوباتیں نہ کرو، تاکہ تم اس کے فہم و ادراک سے محروم نہ ہو جاؤ (تاکہ تم پر رحم کیا جائے) اس میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے تمہارا پروردگار تم پر رحم فرمائے، اس سبب سے کہ تم نے اس کی نصیحتوں سے اثر لیا، اس کی عبرتوں سے سبق سیکھا اور ان فرائض پر عمل پیرا ہوئے، جو تمہارے رب نے اپنی آیات میں تمہارے لیے بیان فرمائے ہیں۔ (تفسیر طبری، ج 10، ص 658، مطبوعہ، قاھرہ)

یونہی شیخ عبد القادر ملا حويش رحمۃ اللہ تعالیٰ اس آیت مبارک کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”قال تعالى «وَإِذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهُ» أيها الناس بتفكر وتدبر و أصغوا له بكليتكم لتفهموا معانيه و تعوا مواعظه «وَاَنْصِتُوْا» عند قراءته ليقر في قلوبكم و تلهموا مبانيه لأن الكلام عند سماعه لا يجوز إذ يضيع المغزى المراد منه لذلك أمركم ربكم بالسكوت، و هذان أمران ظاهرهما الوجوب، فيكون الاستماع و السكوت واجبين عليكم أيها المؤمنون عند قراءة القرآن بدليل هذه الآية“ ترجمہ: (اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو) یعنی اے لوگو! (اس حکم کا تقاضا ہے کہ) تم غور و فکر اور تدبر کے ساتھ قرآن کو سنو اور اپنی تمام تر توجہ اس کی جانب مبذول کر دو تاکہ تم اس کے معانی کا فہم حاصل کر سکو اور اس کی نصائح و مواعظ کو محفوظ رکھ سکو۔ (اور خاموش رہو) یعنی تلاوت کے وقت مکمل سکوت اختیار کرو، تاکہ قرآن تمہارے دلوں میں جاگزیں ہو جائے اور اس کے مضامین و اسرار تم پر منکشف ہوں۔ اسی لئے تلاوت کے دوران گفتگو کرنا جائز نہیں، تاکہ اس سے کلام کا اصل مقصود اور منشا ضائع نہ ہو جائے، اسی بنا پر تمہارے پروردگار نے تمہیں خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ دونوں (یعنی سننا اور خاموش رہنا) ایسے احکام ہیں، جن کا ظاہر وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ لہٰذا اے اہلِ ایمان! اس آیتِ کریمہ کی دلیل کی رو سے قرآن کی قرات کے وقت تم پر بغور سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (بیان المعانی، ج 1، ص 478، مطبوعہ دمشق)

استماع و انصات کا حکم قرآن کی تعظیم کے لیےہے، چنانچہ البحر الرائق میں ہے: ”الانصات یجب حالۃ الاستماع فیسن تعظیما للقرآن“ ترجمہ: قرآن کریم کی تلاوت سنتے ہوئے خاموش رہنا واجب ہے، پس یہ قرآن کی تعظیم کے لیے مسنون (مشروع) ہے۔ (البحر الرائق، ج 1، ص 327، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

قرآن پاک کی تلاوت سننے کے بارے میں غنیۃ المستملی میں ہے ”و الاصل ان الاستماع للقرآن اذا قرأ فرض کفایۃ لانہ اقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیرمضیع و ذلک یحصل بانصات البعض کما فی رد السلام حین کان لرعایۃ حق المسلم کفی فیہ البعض عن الکل الا انہ یجب علی القاری احترامہ بان لایقرأ فی الاسواق و مواضع الاشتغال“ ترجمہ: اور اصل یہ ہے کہ جب قرآن پاک پڑھا جائے، تو اس کو سننا فرضِ کفایہ ہے، کیونکہ یہ اس کے حق کو قائم کرنا ہے، اس طرح کہ قرآن کی طرف توجہ کی جائے اور اسے ضائع نہ کیا جائے اور بعض افراد کی خاموشی سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے، جیسا کہ سلام کا جواب دینے میں مسلمان کے حق کی رعایت مقصود ہوتی ہے، تو بعض افراد کی طرف سے سلام کا جواب دے دینا، تمام افراد کی طرف سے کفایت کرتا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ تلاوت کرنے والے پر قرآن پاک کا احترام کرنالازم ہے، اس طرح کہ وہ اسے بازاروں اور کام والی جگہوں پر نہ پڑھے۔ (غنیۃالمستملی، ص 428، مطبوعہ کوئٹہ)

تلاوتِ قرآن پاک کو سننے کے بارے میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ”اقول: و باللہ التوفیق (میں اللہ کے توفیق دینے سے کہتا ہوں) ظاہر یہ ہے، و اللہ تعالی اعلم کہ اگر کوئی شخص اپنےلئے تلاوتِ قرآن عظیم بآواز (بلند آواز سے تلاوت) کررہا ہے اور باقی لوگ اس (تلاوت) کے سننے کو جمع نہ ہوئے، بلکہ اپنے اغراضِ متفرقہ میں (اپنے مختلف کاموں میں مصروف) ہیں، تو ایک شخص تالی (تلاوت کرنے والے) کے پاس بیٹھا بغور سن رہا ہے، (تو) ادائے حق (تلاوت سننےکا حق ادا) ہوگیا، باقیوں پر کوئی الزام نہیں اور اگر وہ سب اسی غرضِ واحد (تلاوت سننے) کے لئے ایک مجلس میں مجتمع (جمع ہوئے) ہیں، تو سب پرسننے کا لزوم چاہیئے، جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان کہ ہر شخص پر استماع و انصات جداگانہ فرض ہے یا جس طرح جلسہ خطبہ کہ ان میں ایک شخص مذکر اور باقیوں کو یہی حیثیت واحدہ تذکیر جامع ہے، تو بالاتفاق ان سب پر سننا فرض ہے، نہ یہ کہ استماعِ بعض (بعض افراد کا سننا) کافی ہو، جب تذکیر میں کلامِ بشیر کا سننا، سب حاضرین پر فرض عین ہوا، تو کلامِ الہی کا استماع بدرجہ اولی (فرض ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 353، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قرآن پاک الفاظ و معانی کے مجموعے کانام ہے:

قرآن پاک الفاظ و معانی کے مجموعے کا نام، صرف ترجمہ کو ظاہراً و حقیقتاً قرآن نہیں کہا جاتا، جیسا کہ الإمام قوام الدين الكاكی الحنفی (المتوفى: ۷۴۹ھ) اپنی کتاب ”معراج الدِرایة في شَرح الِهدایة“ میں لکھتے ہیں: فإن القرآن اسم للنظم والمعنى جميعا بالإجماع، قال تعالى: ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا﴾ [فصلت: ٤٤] الآية، والقادر على العربية قادر على الإتيان بالنظم،فيكون مأمورا بقراءته، فلم يخرج عن العهدة بقراءة غيره؛ لأنه يسمى قرآنا مجازا؛ ألا ترى أنه يصح نفي القرآن عنه، فيقال: ليس بقرآن و إنما هو ترجمته. ترجمہ: "قرآن" بالاجماع نظم (الفاظ) اور معنی دونوں کے مجموعے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا﴾ (اور اگر ہم اُسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کہتے)۔ اور جو شخص عربی پر قدرت رکھتا ہے وہ نظم (یعنی عربی الفاظ) ادا کرنے پر بھی قادر ہے، لہٰذا اسے اسی کی قرات کا حکم دیا جائے گا، اور وہ غیر عربی پڑھ کر عہدہ برآ نہیں ہو سکتا، کیونکہ ترجمے کوصرف مجازاًقرآن کہا جاتا ہے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس سے قرآن کی نفی کرنا درست ہے؟ چنانچہ کہا جاتا ہے: یہ قرآن نہیں، بلکہ اس کا ترجمہ ہے۔ (معراج الدِرایة، ج 1، ص 616، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

ترجمہ من وجہ اور مجازًا قرآن ہی ہے یہی وجہ ہے کہ آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت لازم ہوگا:

آیتِ سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہونے یا نہ ہونے کے متعلق المبسوط للسرخسی میں ہے: لو قرأها رجل بالفارسية و سمعها قوم لا يفقهون الفارسية و هم في غير الصلاة فعليه و عليهم أن يسجدوها و هذا قياس قول أبي حنيفة رحمه اللہ تعالىٰ و ذكر في الأمالي عن أبي يوسف رحمه اللہ تعالىٰ قال إنما تجب السجدة ههنا على من يعلم أنه يقرأ آية السجدة و لا تجب على من لا يفهم ذلك و هو قول محمد رحمه اللہ تعالى“ ترجمہ: اگر کسی نے فارسی زبان میں آیتِ سجدہ کا ترجمہ پڑھا اور اسے ایک قوم نے سنا، حالانکہ وہ فارسی کو سمجھتے نہ ہوں اور وہ نماز کے علاوہ ہوں، تو ترجمہ پڑھنے اور سننے والوں پر سجدہ تلاوت لازم ہوجائے گا، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا قیاس ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے "کتاب الامالی" میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایسے شخص پر سجدہ تلاوت اس صورت میں واجب ہوگا، جب وہ جانتا ہو کہ آیتِ سجدہ پڑھی جا رہی ہے اور جس نے آیتِ سجدہ کا ترجمہ نہ سمجھا، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا اور یہی امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ (المبسوط للسرخسی، ج 02، ص 133، مطبوعہ دار المعرفۃ)

علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: و السماع شرط في حق غير التالي و لو بالفارسية إذا أخبر“ ترجمہ: (سجدہ تلاوت واجب ہونے کے لئے) تلاوت کرنے والے کے علاوہ کے لئےآیتِ سجدہ کا سننا شرط ہے، اگرچہ وہ فارسی زبان میں ہو، جبکہ سامع کو (آیتِ سجدہ کا ترجمہ ہونے) کے متعلق بتا دیا گیا ہو۔ (در مختار مع رد المحتار، ص 102، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

مذکور بالا عبارت کے الفاظ (اذا اخبر) کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: أي بأنها آية سجدة سواء فهمها أو لا و هذا عند الامام و عندهما إن علم السامع أنه يقرأ القرآن لزمته و إلا فلا، بحر۔ و في الفيض وبه يفتى وفي النهر عن السراج أن الامام رجع إلى قولهما و عليه الاعتماد۔ و المراد من قوله: إن علم السامع أن يفهم معنى الآية كما في شرح المجمع حيث قال: وجبت عليه سواء فهم معنى الآية أو لا عنده، و قالا: إن فهمها وجبت و إلا فلا لأنه إذا فهم كان سامعا للقرآن من وجه دون وجه“ ترجمہ: یعنی اسے بتا دیا گیا ہوکہ یہ آیتِ سجدہ ہے، خواہ اس نے مفہوم کو سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو، یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہے اور صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر سامع جانتا ہے کہ و ہ قرآنِ پاک (سے آیتِ سجدہ کے ترجمہ) کی تلاوت کر رہا ہے، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، ورنہ نہیں، اور فیض میں ہے کہ اسی (صاحبین کے قول) پر فتوٰی دیا جائے گا اور نہر الفائق میں سراج کے حوالے سے ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع کر لیا تھا اور اسی قول پر اعتماد ہے۔ اور مراد یہ ہے کہ سامع آیتِ سجدہ کا معنی سمجھ لے، جیسا کہ شرح المجمع میں فرمایا کہ سامع پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، خواہ اس نے آیت کا معنی سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہے، جبکہ صاحبین رحمہما اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر سامع نے اس آیت کا ترجمہ سمجھ لیا، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، ورنہ نہیں، کیونکہ جب سامع نے آیت کا معنی جان لیا، تو وہ ایک اعتبار (معنیٰ کے اعتبار) سے قرآن پاک کو سننے والا ہوگیا اور ایک اعتبار (لفظ کے اعتبار) سے نہیں۔ (رد المحتار علی در مختار، ج 02، ص 105، دار الفکر، بیروت)

مراقی الفلاح کے الفاظ (و تجب السجدة بسماع القراءة باللغة الفارسية إن فهمها على المعتمد) کے تحت علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: أما قوله المرجوع إليه فهو كقولهما فلا تجب السجدة إلا بالفهم لأنها قرآن من وجه وهو المعنى دون وجه و هو النظم فإذا فهم كان سامعا للقرآن من وجه دون وجه فتجب احتياطا“ ترجمہ: بہرحال امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مرجوع الیہ قول اور یہی صاحبین علیہما الرحمۃ کا قول ہے کہ سجدہ تلاوت اسی صورت میں واجب ہوگا، جبکہ وہ اسے سمجھتا ہو، کیونکہ ترجمہ معنی کےاعتبار سے قرآن ہے اور الفاظ کے اعتبار سے قرآن نہیں ہے، لہٰذا جب سامع نے ترجمہ کو سمجھ لیا، تو وہ ایک اعتبار (معنی کے اعتبار) سےقرآن پاک کو سننے والا ہوگیا اور ایک اعتبار (لفظ کے اعتبار) سے نہیں، لہٰذا احتیاطاً اس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 485، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جد الممتار علی رد المحتار میں لکھتے ہیں: قولہ اذا فھم کان سامعاً للقرآن من وجہ (المعنی) دون وجہ (اللفظ) فوجبت احتیاطاً بخلاف ما اذا لم یفھم فانہ لم یسمع القرآن اصلا“ ترجمہ: مصنف علیہ الرحمۃ کا قول کہ جب سامع نے آیت کا معنی سمجھ لیا، تووہ معنی کے اعتبار سے قرآن سننے والا ہوگیا، نہ کہ لفظ کے اعتبار سے، لہٰذا اس پر احتیاطاً سجدہ تلاوت واجب ہوگا، برخلاف اس کے، جب سامع نے آیت کا ترجمہ نہ سمجھا، تو وہ قرآنِ پاک کو بالکل سننے والا نہ ہوا۔ (جد الممتار علی رد المحتار، ج 03، ص 556، 557، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نظم کی صورت میں سوال ہوا کہ

عالمانِ شرع سے ہے اس طرح میرا سوال دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوشخصال
گر کسی نے ترجمہ سجدہ آیت کی پڑھا تب بھی سجدہ کرنا کیا اُس شخص پر واجب ہوا

تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نےنظم کی صورت میں جواب ارشاد فرمایا:

ترجمہ بھی اصل یہاں ہے وجہ سجدہ بالیقیں فرق یہ ہے فہم معنی اِس میں شرط اُس میں نہیں
آیت سجدہ سنی جاناکہ ہے سجدہ کی جا اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہوگیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہئے نظم و معنی دوہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو ورنہ اک موجِ ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب بہ يفتٰی عليہ الاعْتِماَد شامی از فیض و نہر و اللہ اعلم بالرشاد

 (فتاوی رضویہ، ج 08، ص 238، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بے وضو ترجمہ قرآن کو چھونا اور ناپاکی کی حالت میں چھونا اور پڑھنا دونوں جائز نہیں:

چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:”(و قراءة قرآن) بقصده (و مسه) و لو مكتوبا بالفارسية في الاصح“ ترجمہ: حیض و نفاس کی حالت میں قصداً قرآن کی قراءت کرنا اور اسے چھونا حرام ہے، اگرچہ فارسی میں لکھا ہوا ہو، یہ اصح ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، ج 01، ص 535، مطبوعہ کوئٹہ)

نہر الفائق میں ہے: ”و يمنع أيضا حل مسه أي القران و لو مكتوبا بالفارسية إجماعا هو الصحيح“ ترجمہ: حیض و نفاس کی حالت میں قرآن کو چھونے سے بھی منع کیا جائے گا، اگرچہ فارسی میں لکھا ہوا ہو، یہ اجماعی مسئلہ ہے اور یہی صحیح ہے۔ (النھرالفائق، ج 01، ص 135، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)

فتاوٰی رضویہ میں ہے: ترجمہ کا چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 01 (حصہ ب)، ص 1074، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے: قرآن کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو اس کے بھی چھونے اور پڑھنے میں قرآنِ مجید ہی کا سا حکم ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، ص 327، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فضیلت قیاس سے معلوم نہیں ہوسکتی کہ فضائل میں قیاس کا عمل دخل نہیں:

اس بارے میں علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: "أن مدرك ركعةً من الصلاة مدرك لحكمها في السهو وغيره، و أما الفضل فلا يدرك بقياس و لا نظر؛ لأن الفضائل لا تقاس“ ترجمہ: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی، اس نے نماز کے حکم جیسے سجدہ سہو وغیرہ کو تو پالیا، لیکن جہاں تک فضیلت کی بات ہے، تو وہ قیاس اور عقل سے معلوم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ فضائل میں قیاس نہیں چلتا۔ (نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار، ج 6، ص 221، مطبوعہ، قطر)

یہ ایک نئی تحقیق ہے، اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ درست مسئلہ سامنے آجائے لیکن اس کے باوجود کوئی صاحب علم اس سے ہٹ کر راجح تحقیق کرلے تو ہم خوش دلی سے قبول کریں گے۔

نوٹ: یہ جواب ترجمۂ قرآن سننے کے متعلق ہے۔ جہاں تک الفاظِ قرآن کو چھوڑ کر محض ترجمہ پڑھنے یا طباعت کرنے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں تفصیلی فتویٰ دارالافتاء اہلِ سنت کی ویب سائٹ سے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ جس کا لنک درج ذیل ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد اویس باجوہ عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9803
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک 1447ھ / 19 فروری 2026ء