logo logo
AI Search

چپل والی الماری صاف کر کے اس میں قرآن رکھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چپلوں والی الماری کو صاف کر کے اس میں قرآن پاک رکھنا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مدرسہ المدینہ میں ایک الماری رکھی ہوئی تھی جس کے دروازے نہیں لگے ہوئے تھے تو طالبات وغیرہ سب اس میں اپنے جوتے رکھتے تھے۔ اب اس کو صاف کر کے دروازے لگوا کر مکمل الماری بنا دی گئی ہے۔ تو کیا اس میں قرآن پاک، پنج سورہ اور دیگر احادیث وغیرہ کی کتب وغیرہ رکھ سکتے ہیں ؟ یا کسی طور پر بھی اس کا استعمال کرنا مناسب نہیں؟

جواب

جس الماری کو پہلے جوتے، چپل رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو، تو عرفِ عام میں اُسے قرآنِ پاک رکھنے کے لیے مناسب اور باادب جگہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ بے ادبی تصور کیا جاتا ہے اور ادب کے معاملات میں عرف کا ہی اعتبار ہوتا ہے۔ لہذا اگرچہ بعد میں اس الماری کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے اور اس پر دروازے وغیرہ بھی لگا دیے جائیں، تب بھی اس میں قرآنِ مجید رکھنا خلافِ ادب ہوگا، اس کی ہر گز اجازت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ الماری کو پاک و صاف کرنے کے ساتھ اس کی شکل و صورت و رنگ وغیرہ ایسا تبدیل کر دیا جائے کہ پہلے والی الماری کی طرف ذہن ہی نہ جائے۔

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ  فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’تعظیمِ قرآنِ عظیم ایمانِ مسلم ہے، اور تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عرف کو ہے، محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں: یحال علی المعھود۔ یعنی: یہ معاملہ عرف اور رواج کے حوالے کیا جاتا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 391، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ فتاوی فیض الرسول میں فرماتے ہیں: ’’تعظیم و توہین کا مدار عرف پر ہے یعنی کوئی قول ہو یا فعل اگر کسی کے عرف میں وہ تعظیم کیلئے مانا جاتا ہے  تو وہ قول یا فعل اس کے یہاں تعظیم ہی قرار دیا جائے گا اور وہی قول و فعل اگر کسی دوسرے ملک یا قوم میں توہین سمجھا جاتا ہے تو وہاں اس قول و فعل کو توہین ہی ٹھہرایا جائے گا۔‘‘ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 593، شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1168
تاریخ اجراء: 03 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 21 اپریل 2026ء