قرآن پاک میں وقفِ جبریل کا کیا مطلب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآن پاک میں موجود "وقفِ جبریل" کی وضاحت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
قرآن پاک میں کہیں وقف جبریل لکھا ہوتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب
وقفِ جبریل کو، وقف منزل بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ اوقاف ہیں، جو حضرت جبریل علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف منسوب ہیں، یعنی نزولِ قرآن کے وقت جہاں انہوں نے وقف کیا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقف فرمایا۔ اسی اتباع کی بنا پر علما، صلحا اور قرا، ایسے مقامات پر وقف کرنا مستحب سمجھتے ہیں۔ البتہ! اس سے یہ مراد نہیں کہ وہاں وحی منقطع ہو جاتی ہے، بلکہ یہ صرف وقف کے استحباب کی علامت ہے۔ اور وقف لازم پر اس لیے ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے کہ اگر نہیں ٹھہریں گے تو معنوی اعتبار سے اس میں معنی کا فساد لازم آئے گا۔
جامع الوقف میں ہے: ”(وقف منزل) اس کو وقف جبرئیل بھی کہتے ہیں، اس موقع پر بھی وقف مستحب ہے، نزول قرآن کے وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جس جگہ وقف کیا ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقف کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں وحی منقطع ہوتی ہے۔“
اس کے تحت حاشیہ نافع الوقف میں ہے: ”وقف منزل (وقف جبرئیل علیہ السلام) بعض اوقاف حضرت جبرئیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں اور آپ سے منقول ہیں۔ پس ایسے وقف کو وقف جبرئیل کہتے ہیں اور نزول قرآن کے وقت جہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وقف کیا ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقف فرمایا، اس لیے علماء، صلحاء اور قراء استحباباً اس پر وقف کیا کرتے ہیں۔“ (جامع الوقف مع حاشیہ نافع الوقف، صفحہ43، دار العلوم مخدومیہ، ممبئی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4877
تاریخ اجراء:18 شوال المکرم1447ھ/07 اپریل 2026ء