اللہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
"اللہ تعالیٰ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہےـ" کیا یہ حدیث ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم بچپن سے یہ بات سنتے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے محبت فرمانے والا ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں کہ آیا یہ الفاظ بعینہٖ کسی حدیثِ مبارکہ میں موجود ہیں یا یہ کسی بزرگ کا قول ہے؟ مہربانی فرما کر اس کی وضاحت فرما دیں۔
جواب
’’ستر ماؤں سے بڑھ کر بندوں سے محبت فرمانے‘‘ والے الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث نہیں مل سکی اور یہ کسی بزرگ کا قول بھی نہیں۔ ہاں البتہ ستر (70) کا عدد کثرت کے لئے بیان کیا جاتا ہے اور مختلف احادیث سے ثابت ہے کہ ایک ماں جتنا اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اللہ عزوجل اس سے کہیں بڑھ کر اپنے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ ایک حدیث میں اللہ عزوجل کی رحمت کی وسعت کو ایک مثال سے یوں بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں، ان میں سے ایک حصہ اللہ عزوجل نے زمین پر نازل کیا، اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوقات انسان، جنات، چرند، پرند آپس میں محبت کرتے، ایک دوسرے پر رحم کرتے اور ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔ باقی ننانوے حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں نظر آنے والی تمام محبتیں اور رحمتیں دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نہایت معمولی سا حصہ ہیں، جبکہ اس کی اصل رحمت بے حد و حساب اور لا محدود ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں۔ ان احادیث کی روشنی میں یہ بات بطورِ مفہوم کے بالکل درست ہے کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت اور رحمت فرماتا ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، لیکن اسے حدیث کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
رحمت ِ خداوندی پر احادیث ملاحظہ ہوں:
صحیح بخاری و مسلم شریف کی حدیثِ مبارک ہے: ’’واللفظ لمسلم: عن عمر بن الخطاب: أنه قال: «قدم على رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم بسبي، فإذا امرأة من السبي تبتغي إذا وجدت صبيا في السبي أخذته، فألصقته ببطنها، وأرضعته فقال لنا رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: أترون هذه المرأة طارحة ولدها في النار؟ قلنا: لا واللہ وهي تقدر على أن لا تطرحه فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: لله أرحم بعباده من هذه بولدها‘‘ ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے۔ ان میں ایک عورت تھی جو (اپنے بچے کو) تلاش کر رہی تھی۔ جب بھی اسے قیدیوں میں کوئی بچہ ملتا تو اسے اٹھا لیتی، اپنے پیٹ سے لگا تی اور اسے دودھ پلاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: "کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟" ہم نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، جبکہ وہ اُسے آگ میں نہ ڈالنے پر قادر ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اپنے بندوں پر اس عورت کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (صحیح المسلم، جلد 4، صفحہ 2109، رقم الحدیث: 22 - (2754)، دار احیاء التراث العربی)
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مراٰۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’وہ اپنے بچہ کو یاد کر کے دوسرے بچوں پر مہربانی کرتی تھی۔(مرقات)جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالیٰ نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے۔ خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے، نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا۔ رب تعالیٰ نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے، دنیا کا ہر کام رب تعالیٰ کے ارادے سے ہے، نہ کہ اس کی رضا سے، لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں، رب تعالیٰ ان کے اس جانے سے راضی نہیں، لہذا حدیث صاف ہے، اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 435، 434، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سنن ابی داؤد میں ہے: ’’عن عامر الرام۔۔۔ فبينا نحن عنده إذ أقبل رجل عليه كساء وفي يده شيء قد التف عليه، فقال: يا رسول اللہ، إني لما رأيتك أقبلت فمررت بغيضة شجر، فسمعت فيها أصوات فراخ طائر، فاخذتهن فوضعتهن في كسائي، فجاءت أمهن فاستدارت على رأسي، فكشفت لها عنهن، فوقعت عليهن معهن، فلففتهن بكسائي، فهن أولاء معي، قال: "ضعهن عنك" فوضعتهن، وأبت أمهن إلا لزومهن، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لأصحابه: "أتعجبون لرحم أم الأفراخ فراخها؟" قالوا: نعم يا رسول اللہ، قال: "فوالذي بعثني بالحق لله أرحم بعباده من أم الأفراخ بفراخها، ارجع بهن حتى تضعهن من حيث أخذتهن وأمهن معهن" فرجع بهن‘‘
ترجمہ: حضرت عامر رام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (فرماتے ہیں کہ)ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا، اس کے اوپر ایک چادر تھی اور اس کے ہاتھ میں کوئی چیز لپٹی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب میں نے آپ کی آمد کی خبر سنی تو راستے میں ایک درختوں کی جھاڑی کے پاس سے گزرا، وہاں میں نے پرندے کے بچوں کی آواز سنی، تو میں نے انہیں پکڑ کر اپنی چادر میں رکھ لیا۔ پھر ان کی ماں آئی اور میرے سر کے اوپر منڈلانے لگی۔ میں نے چادر کھول کر اسے بچوں کو دکھایا تو وہ بھی ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی، پھر میں نے سب کو چادر میں لپیٹ لیا، اور یہ سب میرے پاس ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو۔ اس نے انہیں چھوڑ دیا، لیکن ان کی ماں ان سے جدا نہ ہوئی اور ان کے ساتھ ہی رہی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا: کیا تم اس پرندے کی ماں کی اپنے بچوں پر شفقت پر تعجب کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اللہ اپنے بندوں پر ان پرندوں کی ماں کے اپنے بچوں پر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تم انہیں واپس لے جاؤ اور جہاں سے لیا تھا وہیں چھوڑ آؤ، اور ان کی ماں کو بھی ان کے ساتھ رہنے دو۔چنانچہ وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔ (سنن ابی داؤد، جلد 5، صفحہ 5، رقم الحدیث: 3089، دار الرسالة العالمية)
اس حدیث کی شرح میں علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’(فوالذي بعثني بالحق لله أرحم بعباده من أم الأفراخ بفراخها) لأن رحمته حقيقية دائمة باقية لا تنقطع، ورحمتها ليست كذلك‘‘ ترجمہ: پس قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اللہ اپنے بندوں پر اس پرندے کی ماں کے اپنے بچوں پر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہےکیونکہ اللہ کی رحمت حقیقی، ہمیشہ رہنے والی اور دائمی ہے، کبھی ختم نہیں ہوتی، جبکہ اس (پرندے کی ماں) کی رحمت ایسی نہیں ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1648، دار الفكر، بيروت)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مراٰۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ فرماتے ہیں: ’’یعنی لوگوں کا اتنا مجمع دیکھ کر بھی اپنے بچوں سے نہ بھاگی بلکہ اپنی جان پر کھیل کر انہیں اپنے پروں میں چھپائے رہی۔ بندوں سے مراد سارے بندے ہیں مؤمن ہوں یا کافر متقی ہوں یا فاجر۔ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ بارگاہ الٰہی میں گناہوں سے نفرت (ناپسندیدگی) ہے نہ گنہگار سے۔ اسی رحمت کی بنا پر رب تعالیٰ نے بندوں میں انبیاء و اولیاء بھیجے کا فریا مجرم خود اپنے کو مستحق کر لیتے ہیں رب تعالٰی ان کے جہنم میں جانے سے راضی نہیں‘‘۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 440، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
صحیح مسلم شریف کی حدیثِ پاک ہے: ’’عن أبي هريرة، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال "إن لله مائة رحمة. أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام. فبها يتعاطفون. وبها يتراحمون. وبها تعطف الوحش على ولدها. وأخر الله تسعا وتسعين رحمة. يرحم بها عباده يوم القيامة‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک رحمت اس نے جنات، انسانوں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی ہے، اسی کے ذریعے وہ آپس میں محبت کرتے ہیں، ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور اسی کے باعث درندہ بھی اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں باقی رکھ لی ہیں، جن کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (صحیح مسلم، جلد 4، صفحہ 2108، رقم الحدیث: 19 - (2752)، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مراٰۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’ﷲ تعالٰی کی رحمت سو قسم کی ہے یا سینکڑوں قسم کی جن میں سے ہر قسم کے ماتحت ہزارہا انواع ہیں، ہر نوع کے نیچے ہزاروں صنفیں ہیں اور ہر صنف کے تحت ہزارہا افراد۔غرضیکہ یہ حدیث حد بندی (تحدید)کے لیے نہیں بلکہ تکثیر و زیادت کے لیے ہے۔ ان سینکڑوں اقسام میں سے ایک قسم یا کروڑوں افراد میں سے ایک فرد دنیا میں بندوں میں بانٹ دی گئی ہے جس کے حصے ہوکر ماں باپ، بہن بھائی، قرابت دار دوستوں کو ملے۔ وحشی جانوروں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ ان میں الفت و محبت کم ہے نفرت و غضب زیادہ یعنی وحشی درندے بھی اس رحمت کے حصے سے اپنے بچوں پر مہربان ہیں۔ اگر رب تعالٰی ماں کے دل میں محبت پیدا نہ کرے تو وہ اپنے بچوں پر ہرگز مہربان نہ ہو جیسے ناگن اور مچھلی کہ ناگن تو اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے، مچھلی اپنے بچوں کو پہچانتی بھی نہیں اور اگر رب محبت پیدا فرمادے تو پتھر اور درخت محبت کرنے لگیں، دیکھو احد پہاڑ حضور سے محبت کرتا ہے، درخت گھاس پھوس حضور پر نثار ہیں۔(صلی اللہ علیہ وسلم)۔ (قیامت کے دن بندوں پر رحم فرمانے والی بات میں) بندوں سے مراد مؤمن بندے ہیں اور ننانوے کا عدد تحدید کے لیے نہیں بلکہ زیادتی کے لیے ہے یا یہ مقصد ہے کہ ایک قسم کی رحمت کا ظہور تو دنیا میں ہو رہا ہے اور ننانوے قسم کی رحمت کی جلوہ گری آخرت میں ہوگی لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ روزانہ کعبہ معظمہ پر ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس رحمتیں کعبہ کو دیکھنے والوں پر‘‘۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 432، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
فرہنگِ آصفیہ میں ہے: ’’ستر: 70 عددِ کثرت۔ بہتیرے۔ سینکڑوں۔ بیسیوں‘‘ (فرہنگِ آصفیہ، جلد 2، صفحہ 32، مطبوعہ لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1173
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 25 اپریل 2026ء