سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پل صراط والی روایت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزریں گی تو لوگوں کو نگاہیں جھکانے کا حکم ہوگا، روایت کا حوالہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزریں گی تو لوگوں کو نگاہیں جھکانے کا حکم ہوگا۔۔ایسی کوئی روایت موجود ہے ؟
جواب
جی ہاں! معتبر و معتمد علماء کرام علیہم الرحمۃ نے اس روایت کو اپنی کتب میں ذکر فرمایا ہے۔
امام زين الدین سیدی عبد الرؤوف المناوی الشافعی المتوفی 1031ھ نے سیدہ پاک، بی بی فاطمہ، زہرا بتول سلام اللہ تعالیٰ علی ابیہا و علیہا کے فضائل و مناقب کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے، جس کا نام "اتحاف السائل بما لفاطمۃ من المناقب و الفضائل " ہے، آپ علیہ الرحمۃ اس کتاب میں لکھتے ہیں: ”عن علي - مرفوعا - (إذا كان يوم القيامة نادى مناد من وراء الحجب: يا أهل الجمع، غضوا أبصاركم عن فاطمة بنت محمد حتى تمر!) .رواه الحاكم و تمام و غيرهما۔۔عن أبي هريرة - مرفوعا - إذا كان يوم القيمة نادى مناد من بطنان العرش: (أيها الناس غضوا أبصاركم حتى تجوز فاطمة إلى الجنة) .رواه أبو بكر الشافعي۔۔عن أبي أيوب الأنصاري - مرفوعا - إذا كان يوم القيامة نادى مناد من بطنان العرش: يا أهل الجمع نكسوا رؤوسكم، و غضوا أبصاركم حتى تمر فاطمة بنت محمد على الصراط، فتمر مع سبعين ألف جارية من الحور العين كمر البرق.رواه أبو بكر الشافعي أيضا"
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا، تو پردوں کے پیچھے سے ایک منادی آواز دے گا: "اے مجمع والو! اپنی نگاہیں جھکا لو، تاکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) گزریں۔"اس کو امام حاکم و تمام و غیرہما محدثین نے روایت کیا ہے۔اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو عرش کے نیچے سے ایک منادی پکارے گا: "اے لوگو! اپنی نگاہیں نیچی کر لو تاکہ فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) جنت کی طرف گزر جائیں۔" اس کو امام ابو بکر الشافعی نے روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو عرش کے نیچے سے ایک منادی آواز دے گا: "اے اہلِ محشر! اپنے سر جھکا لو، اور اپنی نگاہیں نیچی کر لو، تاکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ تعالی عنہا) پل صراط سے گزریں، پھر وہ ستر ہزار حوروں کے ساتھ بجلی گزرنے کی طرح گزر جائیں گی۔" اس کو بھی امام ابو بکر الشافعی نے روایت کیا ہے۔ (اتحاف السائل بما لفاطمۃ من المناقب و الفضائل، ص 72، 73، مكتبة القرآن للطبع و النشر و التوزيع، القاهرة)
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے: ”قیامت میں اعلان ہوگا کہ تمام لوگ اپنے سر جھکالیں فاطمہ گزر رہی ہیں، جناب فاطمہ ستر ہزار حوران بہشتی کے ہمراہ بجلی کی کوند کی طرح گزریں گی۔“ (مرآۃ المناجیح، ج 08، ص 456، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4953
تاریخ اجراء: 05 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/23 اپریل 2026ء