ماہ رمضان کے تین عشروں کی دعاؤں کا ثبوت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ماہ رمضان کے تینوں عشروں کی دعائیں کہاں سے ثابت ہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ماہِ رمضان کے تین عشروں کی مخصوص دعائیں بیان کی جاتی ہیں، ان میں پہلے عشرے کی دعا یہ ہے: رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین۔ دوسرے عشرے کی دعا: استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ۔ تیسرے عشرے کی دعا یہ ہے: اللھم اجرنی من النار اور اللھم انک عفو تحب العفو فعف عنی۔ یہ دعائیں کہاں سے ثابت ہیں اور کیا تینوں عشروں میں یہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ سائل: محمد دانیال عطاری ( راولپنڈی)
جواب
ماہِ رمضان کے تین عشروں کی یہ معروف دعائیں پڑھنا بلاشبہ جائز و درست ہے، یہ دعائیں رمضان کے ساتھ خاص نہیں، لیکن قرآن و سنت کے عمومی دلائل سے دعا کا جواز ثابت ہے، بلکہ خاص ان دعاؤں کی اصل قرآن و سنت میں موجود اور اسلاف سے منقول ہے اور ماہِ رمضان سے ان کی مناسبت بھی موجود ہے، لہٰذا تین عشروں میں یہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں۔ عمومی دلائل اور مناسبت کی تفصیل درج ذیل ہے:
(1) قرآن و حدیث میں مطلقاً دعا مانگنے کی ترغیب و تاکید موجود ہے اور اس اطلاق میں یہ دعائیں بھی شامل ہیں۔
(2) ا ن دعاؤں کی اصل قرآن و سنت میں موجود اور اسلاف سے منقول ہے، یعنی پہلے اور تیسرے عشرے کی دعا کے الفاظ تو بعینہ قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ میں ہیں اور دوسرے عشرے کی دعا کے الفاظ مختلف روایات سے ثابت ہیں۔
(3) ماہِ رمضان میں دعا کرنے کی خصوصی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے جیسا کہ احادیث میں اس مبارک ماہ میں چار خصلتیں اپنانے کا ذکر ہے، ان میں استغفار کرنا، جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگنا شامل ہے، یونہی ماہِ رمضا ن میں قبولیت کی ساعتوں کو بیان کر کے اس میں دعا کرنے کی رغبت دلائی گئی، تو یہ معروف دعائیں بھی رمضان میں دعا کی ترغیب والی روایات کے تحت داخل ہوں گی۔
(4)اور پھر ان دعاؤں میں تو ماہِ رمضان کے تینوں عشروں کے ساتھ مناسبت بھی پائی جاتی ہے، کیونکہ حدیث میں رمضان کے اول حصے کو رحمت، دوسرے کو مغفرت اور تیسرے کو جہنم سے آزادی کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور پہلے عشرے کی دعا میں طلبِ رحمت، دوسرے عشرے کی دعا میں طلبِ مغفرت اور تیسرے عشرے کی دعا میں جہنم سے آزادی کا سوال ہے اور ساتھ شبِ قدر کی دعا بھی ہے اور شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں متوقع ہوتی ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ یہ دعائیں پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
قرآن و حدیث میں دعا کرنے کی ترغیب:
اللہ رب العالمین قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (پارہ 24، سورۃ المؤمن، آیت 60)
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿ وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 186)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل، فعليكم عباد الله بالدعاء‘‘
یعنی دعا ان مصیبتوں میں نفع دیتی ہے جو نازل ہو گئیں اور جو ابھی نازل نہیں ہوئیں ان میں بھی فائدہ دیتی ہے، تو اے لوگو! تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ (المستدرک للحاکم، کتاب الدعاء والتکبیر۔۔الخ، جلد 1، صفحہ 670، مطبوعہ بیروت)
ایک اور حدیث پاک میں ہے، نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
’’إنه من لم يسأل الله يغضب عليه‘‘
یعنی جو آدمی اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرماتا ہے۔ (جامع ترمذی، ابواب الدعوات، جلد 2، صفحہ 175، مطبوعہ کراچی)
مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے، بغیر دلیلِ شرعی اسے مقید نہیں کیا جا سکتا۔ بدائع الصنائع میں ہے:
’’ان الاصل في اللفظ المطلق ان يجري على اطلاقه ولا يجوز تقييده الا بدليل‘‘
ترجمہ: مطلق لفظ میں اصل یہ ہے کہ اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے اور بغیر کسی دلیل کے اسے مقید کرنا، جائز نہیں ہے‘‘۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوکالۃ، جلد 6، صفحہ27، مطبوعہ بیروت)
تین عشروں کی دعاؤں کی اصل:
پہلے عشرے کی دعا کے الفاظ بعینہ قرآن کریم میں ہے۔ چنانچہ سورۃ المؤمنون میں ہے:
﴿وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: اور تم عرض کرو، اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ (پارہ 18، سورۃ المؤمنون، آیت 118)
دوسرے عشرے کی معروف دعا کے الفاظ مختلف روایات میں موجود ہیں۔ چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں:
’’كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر من قول: «سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه‘‘
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر کہا کرتے تھے: سبحان الله وبحمده أستغفر الله وأتوب إليه۔ (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 192، مطبوعہ کراچی)
سنن ابی داؤد میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’من قال: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم، وأتوب إليه، غفر له، وإن كان قد فر من الزحف‘‘
یعنی جس نے کہا: أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم، وأتوب إليه، اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہوا ہو۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 222، مطبوعہ لاہور)
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے استغفار کے یہ الفاظ منقول ہیں۔ "أستغفر الله من كل ذنب وأتوب إليه" یعنی میں اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ (تاریخ مدینہ لابن شبہ (المتوفی 262ھ)، جلد 3، صفحہ 1101، مطبوعہ جدہ)
تیسرے عشرے کی یہ دعا "اللهم أجرني من النار" بھی حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا:
’’إذا انصرفت من صلاة المغرب فقل: اللهم أجرني من النار سبع مرات، فإنك إذا قلت ذلك ثم مت في ليلتك كتب لك جوار منها وإذا صليت الصبح فقل كذلك، فإنك إن مت في يومك كتب لك جوار منها‘‘
ترجمہ: جب تم مغرب کی نماز ادا کر چکو، تو سات بار "اللهم أجرني من النار " کہو، پھر اگر اس رات تمہارا انتقال ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جہنم سے امان لکھ دے گا اور جب فجر کی نماز پڑھ چکو، تو یہی کلمات کہو، تو اگر اس دن میں انتقال ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ جہنم سے امان لکھ دے گا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الادب، جلد 2، صفحہ 351، مطبوعہ لاھور)
یونہی "اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني" یہ شبِ قدر کی دعا ہے اور شبِ قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ:
’’أنها قالت: يا رسول الله، أرأيت إن وافقت ليلة القدر ما أدعو؟ قال: تقولين: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني‘‘
ترجمہ: حضرت عائشہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اگر میں لیلۃ القدر کو پا لوں، تو کیا دعا مانگوں؟ تو ارشاد فرمایا: تم کہو: اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، صفحہ 274، مطبوعہ کراچی)
شبِ قدر کی تلاش کے متعلق صحیح بخاری میں ہے:
’’أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: تحروا ليلة القدر في الوتر، من العشر الأواخر من رمضان‘‘
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق (راتوں) میں تلاش کرو۔ (صحیح بخاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، جلد 1، صفحہ 270، مطبوعہ کراچی)
رمضان میں دعا کی خصوصی ترغیب:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی آمد پر دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں استغفار اور جنت سوا ل کرنے اور جہنم سے پناہ مانگنے کی ترغیب بھی ارشاد فرمائی:
’’۔۔۔ واستكثروا فيه من أربع خصال: خصلتين ترضون بهما ربكم، وخصلتين لا غنى بكم عنهما، فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم: فشهادة أن لا إله إلا الله، وتستغفرونه، وأما اللتان لا غنى بكم عنهما: فتسألون الله الجنة، وتعوذون به من النار‘‘
ترجمہ: اس (مبارک ماہ) میں چار خصلتیں کثرت سے اپنائیں: دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے تم اپنے رب کو راضی کر سکو گے او ردو خصلتوں سے تم بے پرواہ نہیں ہو سکے، بہر حال جو دو باتیں جن سے اللہ کو راضی کر سکتے ہو، تو وہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور (دوسری بات) مغفرت طلب کرنا ہے اور جن دو باتوں سے تم بے نیاز نہیں ہو سکتے، وہ اللہ سے جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگنا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصیام، جلد 3، صفحہ 191، مطبوعہ بیروت)
رمضان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ مسند الشامیین میں نقل کرتے ہیں:
’’أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوما وحضر رمضان: «أتاكم رمضان شهر بركة، فيه خير يغشيكم الله فيه، فتنزل الرحمة، وتحط الخطايا، ويستجاب فيه الدعاء۔۔۔الخ‘‘
ترجمہ: جب رمضان آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تمہارے پاس برکت والا مہینا آ گیا ہے، اس میں (بہت سی) بھلائی ہے، جس میں اللہ تمہیں ڈھانپ دیتا ہے، ا س میں رحمت نازل ہوتی ہے، گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اس میں دعا قبول ہوتی ہیں۔ (مسند الشامیین للطبرابنی، جلد 3، صفحہ 271، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
روزہ دار کی دعا قبول ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حتى يفطر، والإمام العادل، ودعوة المظلوم۔۔الخ‘‘
ترجمہ: تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: روزہ دار کی دعا افطار کرنے تک، امامِ عادل اور مظلوم کی دعا۔۔الخ۔(جامع ترمذی، ابواب الدعوات، جلد 5، صفحہ 578، مطبوعہ مصر)
خاص افطار کے وقت قبولیتِ دعا کے متعلق سنن ابن ماجہ میں ہے:
’’إن للصائم عند فطره لدعوة ما ترد‘‘
ترجمہ: روزہ دار کے لئے افطار کے وقت ایسی دعا ہے، جسے رد نہیں کیا جاتا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، صفحہ 125، مطبوعہ کراچی)
ان دعاؤں کی ماہِ رمضان سے مناسبت:
مسند الحارث، صحیح ابن خزیمہ، شعب الایمان وغیرہ کتب احادیث میں حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
النظم للاول:’’خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم آخر يوم من شعبان فقال: يا أيها الناس إنه قد أظلكم شهر عظيم شهر مبارك فيه ليلة خير من ألف شهر۔۔۔ وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار۔۔الخ‘‘
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! بے شک تمہارے پاس عظیم مہینا، برکت والا مہینا آنے والا ہے، اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے،۔۔۔ اس مہینے کے شروع میں رحمت، درمیان میں مغفرت او رآخر میں جہنم سے آزادی ہے۔۔الخ۔ (مسند الحارث، کتاب الصیام، باب فی فضل شھر رمضان، جلد 1، صفحہ 412، مطبوعہ مدینۃ المنورہ)
اس حدیث کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے: ماہ رمضان کے تین عشرہ ہیں: پہلے عشرہ میں رب تعالیٰ مؤمنوں پر خاص رحمتیں فرماتا ہے،۔۔ دوسرے عشرہ میں تمام صغیرہ گناہوں کی معافی ہے جو جہنم سے آزادی کا اور جنت میں داخلہ کا سبب ہے۔ تیسرے عشرہ میں روزہ داروں کے جنتی ہوجانے کا اعلان (ہوتاہے)۔ (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 141، نعیمی کتب خانہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو تراب محمد علی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7734
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1447ھ/13 مارچ 2026 ء