logo logo
AI Search

وتر کی کتنی رکعتیں ہیں؟ ایک یا تین ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز وتر کی کتنی رکعات ہیں ؟ ایک یا تین ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نمازِ وتر کی کتنی رکعات ہیں؟ کیونکہ ایک شخص کا کہنا یہ ہے کہ نمازِ وتر کی رکعتوں کی کوئی تعداد معین نہیں، بلکہ نمازی کو اختیار ہے خواہ ایک رکعت پڑھے یا تین یا پانچ، کیونکہ حدیثِ پاک میں، ایک، تین یا پانچ رکعت وتر ادا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیجئے ؟

جواب

احناف کے نزدیک نمازِ وتر کی تین رکعتیں ہیں جو ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں گی، یہی طریقہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔

اور جہاں تک سوال میں ذکر کردہ حدیثِ پاک کا تعلق ہے، تو یہ حدیث مختلف کتبِ احاديث میں موجود ہے، لیکن محدثین نے فرمایا کہ یہ حدیث منسوخ ہے، کہ ابتدائے اسلام میں وتر کی رکعات کی تعداد میں اختیار تھا، بعد میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تین رکعت وتر پر ہمشگی اختیار فرمالی اور اسی پر مسلمانوں کا اجماع ہوگیا، تو یوں پچھلا اختیار والا حکم منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل نہیں کرسکتے، لہذا اب وتر تین رکعت پڑھنا ہی لازم ہے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قول و فعل سے تین رکعت وتر کا ثبوت:

(1)صحيح بخاری میں ہے:

”عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره أنه سأل عائشة رضي اللہ عنها: كيف كانت صلاة رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم في رمضان؟ فقالت: ما كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة، يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن‌ثم ‌يصلي ‌ثلاثاقالت عائشة فقلت: يا رسول اللہ، أتنام قبل أن توتر؟فقال: يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي“

ترجمہ: حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چار رکعتیں ادا فرماتے، آپ ان کو ادا کرنے کی خوبصورتی اور لمبائی کے متعلق کچھ نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، حضرت عائشہ کہتی ہیں، میں نے کہا: یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے قبل سو گئے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔ (صحيح البخاري، حدیث 1096، ج 1، ص385، الناشر: دار ابن كثير، دار اليمامة)

اس حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری شرح صحيح البخاری میں ہے:

”وفي قولها ‌ثم ‌يصلي ‌ثلاثا حجة لاصحابنا في أن الوتر ثلاث ركعات بتسليمة واحدة، لأن ظاهر الكلام يقتضي ذلك فلا يعدل عن الظاهر إلا بدليل“

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول ’’ثم يصلي ثلاثا‘‘ میں ہمارے اصحاب کی دلیل ہے کہ وتر کی تین رکعتیں ہیں جو ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کی جائیں گی، کیونکہ کلام کا ظاہر اسی بات کا تقاضا کررہا ہے اور کلام کے ظاہر سے عدول نہیں کیا جاتا، مگر دلیل کے ساتھ۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 204، الناشر: دار إحياء التراث العربي)

(2)اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عمل مبارک بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں:

”أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كان لا يسلم في ركعتي الوتر“

ترجمہ: بے شک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے (بلکہ تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے تھے) (سنن النسائی حدیث، 1698، جلد 3، صفحہ 235، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ابو عبداللہ حاکم محمد بن عبداللہ بن محمد نیشاپوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه‘‘

ترجمہ: یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم علیھما الرحمہ کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ (المستدرك على الصحيحين، کتاب الوتر، تحت الحدیث 1139، ج1، ص446، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)

امام نووی علیہ الرحمہ نے بھی اس حدیث کی سند کو سندِ حسن کہا ہے: ”وفي رواية للنسائي بإسناد حسن“۔ (خلاصۃ الاحکام، حدیث 1869، جلد 01، صفحہ 552، الناشر: مؤسسة الرسالة، لبنان)

(3)اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

”أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان يوتر بثلاث“

ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نمازِ وتر کی تین رکعات ادا فرماتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7020، ج4، ص498، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(4)نماز وتر کی رکعات سے متعلق حضرت عبد ﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عمل مبارک بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

”ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کان یوتر بثلاث رکعات“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم تین رکعت وتر ادا فرماتے تھے۔ (شرح معانی الاثار، کتاب الصوۃ، باب الوتر رکعۃ الخ، حدیث1666، جلد 2، ص373، دار الکتب العلمیہ)

(5)جن روایات میں یہ بیان ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر کی رکعات میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے، ان سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وتر کی تین رکعات ہیں۔ چنانچہ سنن الترمذی اور المستدرك على الصحيحين میں ہے:

”عن عائشة رضي اللہ عنها قالت: كان النبي صلى اللہ عليه وسلم يقرأ في الوتر في الركعة الأولى: سبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية: قل يا أيها الكافرون وفي الثالثة: قل هو الله أحد وقل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس“

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الأعلى پڑھا کرتے تھے، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ اخلاص، فلق اورناس پڑھتے تھے۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ابو عبد اللہ حاکم محمد بن عبد اللہ بن محمد نیشاپوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه ‘‘

ترجمہ: یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم علیھما الرحمہ کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ (المستدرك على الصحيحين، حدیث 3920، جلد 02، صفحہ 566، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)

سنن نسائی کی روایت میں مذکور ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم وتر کی تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے:

”عن أبي بن كعب قال: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى، وفي الركعة الثانية: بقل يا أيها الكافرون وفي الثالثة: بقل هو الله أحد ولا يسلم إلا في آخرهن“

ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورۃ الأعلى پڑھا کرتے تھے، دوسری رکعت سورۃ الکافرون اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے اور سلام نہیں پھیرتے تھے مگر اس کے آخر میں۔ (سنن نسائی، حدیث، 1729 ج 3، ص 244، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

(6)نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر کو نمازِ مغرب سے تشبیہ دی ہے، یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وتر تین رکعت پڑھے جائیں گے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم نے فرمایا:

”وتر الليل ثلاث كوتر النهار صلاة المغرب“

ترجمہ: دن کے وتروں یعنی نمازِ مغرب کی طرح رات کے وتروں کی بھی تین رکعات ہیں۔ (سنن دار قطنی، باب ‌‌الوتر ثلاث كثلاث المغرب، حدیث 1653، ج 2، ص349، الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت)

صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنھم بھی تین رکعت ہی وتر ادا فرماتے تھے، اس پر دلائل:

(1)حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے تھے۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”عن أنس أنه أوتر بثلاث لم يسلم إلا في آخرهن“

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تین وتر پڑھے اور سلام نہیں پھیرا مگر اس کے آخر میں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7017، ج 4، ص497، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(2)اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی عمل تھا۔ چنانچہ شرح معانی الآثار میں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ:

”دفنا أبا بكر ليلا فقال عمر: إني لم أوتر فقام وصففنا وراءه فصلى بنا ثلاث ركعات، لم يسلم إلا في آخرهن“

ترجمہ: ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت دفن کیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے وتر نہیں پڑھے، وہ کھڑے ہوئے اور ہم نے ان کے پیچھے صفیں باندھیں، آپ نے ہمیں تین رکعات پڑھائیں اور سلام نہیں پھیرا مگر ان کے آخر میں۔ (شرح معانی الآثار، باب الوتر، حدیث1742، ج1، ص 293، الناشر: عالم الكتب، بيروت )

(3)حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے عمل سے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”كان أبو أمامة يوتر بثلاث ركعات“

ترجمہ: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ وتر کی تین رکعات پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7001، ج4، ص495، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(4) حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے عمل سے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”كان يوتر بثلاث ويقنت في الوتر قبل الركوع“

ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ نمازِ وتر کی تین رکعات ادا فرماتے تھے اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7012، ج 4، ص 496، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(5) اسی طرح حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل سے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے: ”كان ابن مسعود يوتر بثلاث“ ترجمہ: حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ وتر کی تین رکعات پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7001، ج4، ص495، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(6)حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے عمل سے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

”ان عليًا كان يوتر بثلاث“

ترجمہ: حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نمازِ وتر کی تین رکعات ادا فرماتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7021، ج 4، ص 498، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(7)حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”الوتر ثلاث“ ترجمہ: نمازِ وتر کی تین رکعات ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7006، ج 4، ص 495، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

(8)حضرت عمر بن عبد العزيز علیہ الرحمہ نے بھی وتر کی تین رکعتیں ہی مقرر فرمائیں۔ چنانچہ حضرت ابوالزناد فرماتے ہیں:

”‌أثبت عمر بن عبد العزيز الوتر بالمدينة بقول الفقهاء ثلاثا، لا يسلم إلا في آخرهن“

ترجمہ: حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ الرحمہ نے مدینہ منورہ میں فقہاء کے قول کے مطابق وتر کی تین رکعتیں ہی مقرر فرمائیں، جن کے آخر میں سلام پھیرا جائے گا۔ (شرح معانی الآثار، باب الوتر، حدیث1757، ج1، ص 296، الناشر: عالم الكتب، بيروت )

سوال میں ذکر کردہ حدیث اور اس کے منسوخ ہونے کا بیان:

سوال میں جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا، وه روایت یہ ہے:

”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: الوتر حق على كل مسلم، فمن أحب أن يوتر ‌بخمس ‌فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل‘‘

ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر ہر مسلمان پر حق ہے، تو جو پسند کرے کہ پانچ رکعت وتر پڑھے، تو وہ ایسا کرے، اور جو چاہے کہ تین رکعت وتر پڑھے، تو وہ ایسا کرے اور جسے یہ پسند ہو کہ ایک رکعت وتر پڑھے، تو وہ ایسا کرے۔ (سنن أبي داود، حدیث 1422، ج 2، ص 62، الناشر: المكتبة العصرية، بيروت)

مذکورہ حدیث منسوخ ہے۔ چنانچہ شرح معانی الاثار، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح اور شرح سنن ابی داود میں ہے:

”وأما الجواب عن التخيير بين الخمس، والثلاث، والواحدة، فكان قبل استمرار الثلاث، وقال الطحاوي: وقد أجمعت الأمة بعد رسول الله عليه السلام على خلاف ذلك، فأوتروا وترًا لا يجوز لكل من أوتر عنده ترك شيء منه، فدلّ إجماعهم على نسخ ما تقدمه من قول رسول اللہ، لأن اللہ لم يكن ليجمعهم على ضلال “

ترجمہ: پانچ، تین اور ایک کے درمیان اختیار کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم تین رکعت پر ہمیشگی سے پہلے کا تھا، امام طحاوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کا اس کے خلاف پر اجماع ہو گیا، امت کا اجماع اس سے مقدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالی امت کو گمراہی پر جمع نہیں فرماتا۔ (شرح سنن ابی داود للعینی، باب: كم الوتر، ج 5، ص 332، الناشر: مكتبة الرشد، الرياض)

نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ہی مذکورہ حدیث کے منسوخ ہونے پر اجماع ہو گیا تھا۔ چنانچہ نخب الافکار میں ہے:

”فإن قيل كيف يجوز النسخ بالإجماع وأوان النسخ حال حياة النبي عليه السلام، للاتفاق على أنه لا نسخ بعده وفي حال حياته ما كان ينعقد الإجماع بدون رأيه؟قلت: ليس المراد من قولنا: صار إجماعهم ناسخًا لما قد تقدمه من التخيير، أن النسخ وقع بعد النبي عليه السلام بالإجماع وإنما المراد أن النسخ كان في حياة النبي عليه السلام وأن الإجماع وقع على كون هذا النسخ في حياته، فصار استناد الإجماع إلى زمن الرسول عليه السلام

ترجمہ: اگر یہ کہا جائے کہ اجماع کے ذریعے نسخ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ حالانکہ نسخ کا زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہوتا ہے، کیونکہ اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نسخ نہیں ہوتا، اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں آپ کی رائے کے بغیر اجماع کیسے منعقد ہو سکتا ہے؟ میں کہتا ہوں: ہماری یہ بات کہ ان کا اجماع اس پہلے والے اختیار کو منسوخ کرنے والا بن گیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ نسخ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد اجماع کے ذریعے واقع ہوا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ نسخ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں ہو چکا تھا، اور اجماع اس بات پر قائم ہوا کہ یہ نسخ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ہوا تھا، لہٰذا اجماع کی بنیاد اور اس کا استناد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کے زمانے کی طرف ہو گیا۔ (نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار، باب الوتر، ج5، ص91، الناشر: قطر)

امام حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر کی تین رکعت ہونے پر اجماع ہے:

”أجمع المسلمون على أن الوتر ثلاث لا يسلم إلا في آخرهن“

ترجمہ: مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر تین رکعات ہیں، سلام نہیں پھیرا جائے گا مگر کہ ان کے آخر میں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب من كان يوتر بثلاث أو أكثر، حديث 7011، ج 4، ص 496، الناشر: دار كنوز إشبيليا، الرياض)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ایک رکعت وتر کافی نہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ اب ایک وتر پڑھنے میں اختیار نہیں۔ چنانچہ موطا امام محمد میں ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”ما اجزأت رکعۃ واحدۃ قط“

ترجمہ: ایک رکعت وتر ہرگز کافی نہیں۔ (موطا امام محمد، باب السلام فی الوتر، ص 150، لاھور)

علامہ نور الدین حیثمی علیہ الرحمہ مذکوہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”وإسناده حسن“ ترجمہ: اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (مجمع الزوائد و منبع الفوائد، تحت الحدیث 3457، جلد 2، ص 242، الناشر: مكتبة القدسي، القاهرة)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0093
تاریخ اجراء: 16 رمضان المبارک 1447 ھ/06 مارچ 2026 ء