جمعہ کو غریبوں کا حج کیوں کہا گیا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جمعہ کو غریبوں کا حج قرار دینے کی وجہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حدیث پاک میں ہے ”جمعہ غریبوں کا حج ہے“ جمعہ کو غریبوں کا حج قرار دینے کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ امیروں کا حج نہیں ہے؟ اس کے بارے میں تفصیلا بتا دیجیے۔
جواب
مالی اور بدنی لحاظ سے جو حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہے، اس پر تو حج کرنا فرض ہوتا ہے، تو اسے حج کرنے پر حج کا ثواب ملے گا، جبکہ غریب یا ضعیف (یعنی مالی یا بدنی لحاظ سے)، جس میں حج کی استطاعت نہیں ہوتی، اس کے دل میں حج کی حسرت و تمنا رہتی ہے، کہ کاش میرے پاس بھی مال یا تندرست بدن ہوتا، استطاعت ہوتی، تو میں بھی حج کرتا، اس کی اس نیت کی وجہ سے اللہ تعالی اسے جمعہ کی حاضری پر حج کا ثواب عطا فرما دیتا ہے۔ فیض القدیر میں ہے "(الجمعة حج الفقراء) قال العامري: لما عجز المسكين عن مال الحج أو ضعف وكان يتمناه بقلبه نظر الكريم إلى تحسره فأعطاه ثواب الحج بقصده على منوال خبر إن بالمدينة أقواما ما قطعتم واديا إلا وقد سبقوكم إليه حبسهم العذر" ترجمہ: جمعہ فقرا کا حج ہے، عامری نے(اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے) کہا: جب کوئی مسکین حج کے اخراجات نہ ہونے، یا کمزوری کی وجہ سے حج کرنے سے عاجز ہو، لیکن دل سے اس کی تمنا رکھتا ہو، تو کریم (اللہ تعالیٰ) اس کی حسرت و شوق کو دیکھ کر، اسے اس کی نیت کی بنا پر حج کا ثواب عطا فرما دیتا ہے۔ (یہ مفہوم) اس حدیث کے مطابق ہے کہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں، کہ تم کوئی وادی طے نہیں کرتے مگر وہ (ثواب میں) تم سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکے ہوتے ہیں؛ انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔ (فیض القدیر، ج 03، ص 359، مطبوعہ: مصر)
احادیث القصاص میں ہے ”ومعناه: أي من عجز عن الحج فذهابه إلى المسجد يوم الجمعة هو له كالحج.“ ترجمہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص حج سے عاجز ہو اس کا جمعہ کے دن مسجد کی طرف جانا اس کے لئے حج کی طرح ہے۔ (أحاديث القصاص، صفحہ 76، المكتب الإسلامي ، بيروت)
فتح القریب میں ہے "يحصل لهم ما يحصل لأهل عرفة، ثم إن الملائكة يشهدونهم ويكتبون ثوابهم، لذلك سمي هذا اليوم: بيوم مشهود" ترجمہ: یعنی ان (غربا) کو وہی ثواب حاصل ہوگا، جو اہل عرفہ کو حاصل ہوتا ہے، پھر فرشتے جمعہ والوں کے لیے حاضر ہوتے ہیں، اور ان کا ثواب لکھتے ہیں، اس وجہ سے اس دن (جمعہ) کو ”یوم مشہود“ کہا جاتا ہے۔ (فتح القریب المجیب، علی الترغیب والترھیب، جلد 04، صفحہ 559، مكتبة دار السلام، الرياض)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5007
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14 مئی 2026ء