قرآن کریم حفظ کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرآن کریم حفظ کرنے کے احکام
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ میری دونوں بچوں کو حافظ بنانے کی شدید خواہش ہے، لیکن کل میں نے ایک مسئلہ سنا کہ حفظ ایک نفل چیز ہے، اور قرآن پاک کو سمجھنا فرض ہے۔ تو بچے کو حفظ کا ثواب تو مل جائے گا، لیکن اس کو سمجھے گا نہیں، تو اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں ؟
جواب
قرآنِ پاک کی ایک چھوٹی آیت حفظ کرنا، ہر مکلف (عاقل، بالغ) مسلمان پر فرضِ عَین ہے، اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت، جو چھوٹی تین آیات کے برابر ہو، اسے حفظ کرنا واجبِ عَین ہے، اور پورا قرآن مجید حفظ کرنا فرضِ کفایہ ہے، اور بڑی سعادت کی بات ہے، لہذا بچوں کو پورا قرآن پاک حفظ کروائیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے جو ضروری احکام، ان کی اس عمر کے مطابق ہیں، وہ بھی استاذ کے ذریعے یا خود سکھاتے جائیے، حفظ مکمل ہونے کے بعد چاہیں تو کسی سنی جامعہ سے عالم کورس کروالیجیے، کہ اس میں قرآن پاک کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے علوم دینیہ سیکھنے کو ملیں گے۔ یاد رہے کہ! پورا قرآن پاک ترجمہ پڑھ کر سمجھنا فرض نہیں ہے، قرآن و حدیث کے جن احکامات پر عمل کرنا فرض ہے، ان کا سیکھنا فرض ہے، اس کی تفصیل نیچے فتاوی رضویہ کے حوالے سے آرہی ہے ۔
قرآن پاک میں قرآن پاک حفظ کرنے کی ترغیب یوں ارشاد ہوئی: (وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ) ترجمہ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔ (سورۃ القمر، پارہ 27، آیت 22)
قرآن پاک حفظ کرنے والے کی فضیلت کے حوالے سے ترمذی شریف میں ہے ''قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: «من قرأ القرآن واستظهره، فأحل حلاله، وحرم حرامه أدخله اللہ به الجنة وشفعه في عشرة من أهل بيته كلهم قد وجبت له النار'' ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآنِ مجید پڑھا، اور اُسے حفظ کیا، اُس کے حلال کو حلال جانا اور اُس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اُس کے گھر والوں میں سے ایسے دس افراد کے حق میں اُس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی تھی۔ (سنن ترمذی، صفحہ 1061، رقم الحديث 2905، دار ابن کثیر، دمشق)
در مختار میں ہے "(وحفظها فرض عين) متعين على كل مكلف (وحفظ جميع القرآن فرض كفاية)۔۔۔(وحفظ فاتحة الكتاب وسورة واجب على كل مسلم)" ایک آیت حفظ کرنا ہر مکلف پر فرض عین ہے اور مکمل قرآن پاک یاد کرنا فرض کفایہ ہے جبکہ سورہ فاتحہ اور ایک سورت یاد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔
مذکورہ بالا عبارت میں لفظ "سورة" کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "أي أقصر سورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار" یعنی سورت سے مرا دایک چھوٹی سورت یا اس کے قائم مقام تین چھوٹی آیات یاد کرنا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 315، مطبوعہ: کوئٹہ)
تفسیر صراط الجنان میں ہے "قرآنِ پاک کی ایک آیت حفظ کرنا ہر مُکَلَّف مسلمان پر فرضِ عَین ہے اور پورا قرآن مجید حفظ کرنا فرضِ کفایہ ہے اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت کو حفظ کرنا واجبِ عَین ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، جلد 9، صفحہ 606، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”طلب العلم فريضة على كل مسلم“ ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (سنن ابن ماجه، صفحہ 52، رقم الحدیث 224، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے متعلق مختصر اور جامع کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”(یہ حدیث) بوجہ کثرتِ طرق وتعدّدِ مخارج حدیثِ حسن ہے، اس کا صریح مفاد ہر مسلمان مرد و عورت پر طلبِ علم کی فرضیت، تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا تعلم فرضِ عین ہو، اور فرضِ عین نہیں مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو، ان کا اعم واشمل واعلیٰ واکمل واہم واجل علم اصولِ عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنّی المذہب ہوتا ہے اور انکار و مخالفت سے کافر یا بدعتی، والعیاذ باللہ تعالیٰ۔ سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں۔ پھر علمِ مسائلِ نماز یعنی اس کے فرائض و شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کرسکے، پھر جب رمضان آئے تو مسائلِ صوم، مالکِ نصاب نامی ہو تو مسائلِ زکوٰۃ، صاحبِ استطاعت ہو تو مسائلِ حج، نکاح کیا چاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلے، تاجر ہو تو مسائلِ بیع و شراء، مزارع پر مسائلِ زراعت، موجر و مستاجر پر مسائلِ اجارہ، و علیٰ ہٰذا القیاس۔ ہر اس شخص پر اس کی حالتِ موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائلِ حلال و حرام کہ ہر فرد بشر ان کا محتاج ہے اور مسائلِ علمِ قلب یعنی فرائضِ قلبیہ مثل تواضع و اخلاص و توکل و غیرہا اور ان کے طرقِ تحصیل اور محرماتِ باطنیہ تکبر و ریا و عُجب و حسد و غیرہا اور اُن کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بے نماز فاسق و فاجر و مرتکبِ کبائر ہے، یونہی بعینہٖ ریاء سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ نسئل ﷲ العفو و العافیۃ۔ تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس۔“ (فتاوىٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 624، 623، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5015
تاریخ اجراء: 23 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 11 مئی 2026ء