قرآنی سورتوں کو کس نے ترتیب دیا ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے ؟ سائل: عبید رضا (فیضان مدینہ، گوجرانوالہ)
جواب
سورتوں کی ترتیب توقیفی ہے یا صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اپنے اجتہاد سے مقررفرمائی، اس حوالے سے علمائے کرام کااختلاف ہے۔ اصح اور تحقیق شدہ قول یہی ہے کہ سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ہی قرارپائی ہے اور یہ وہی ترتیب ہے جولوح محفوظ پر ہے۔ اور علمائے کرام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ اختلاف محض لفظی اختلاف ہے، جنہوں نے کہا کہ یہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجتہاد سے قرار پائی ہے تو ان کی مراد یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اس حوالے سے صراحت سے کوئی قول مروی نہیں ہے ہاں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اشاروں سے اس ترتیب کو مقرر فرمایا ہے کہ انہوں نے جس ترتیب سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو سورتوں کی سماعت کرتے ہوئے سنا، اسی ترتیب سے سورتوں کو مرتب کر دیا۔
اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام مالک علیہ الرحمۃ کا موقف یہ ہے کہ یہ ترتیب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجتہاد سے قرار پائی ہے لیکن آپ علیہ الرحمۃ نے جب اس کی وضاحت فرمائی تو وہ اسی طرح فرمائی کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اسی ترتیب سے سماعت کیا تھا تو اسی ترتیب کے مطابق انہوں نے سورتوں کو مرتب کر دیا۔
تو یوں دونوں فریقوں کے نزدیک یہ ترتیب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ہی حاصل شدہ ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ یہ حصول قول مبارک سے ہے یا محض فعل مبارک سے۔ محققین کا فرمانا ہے کہ صریح قول مبارک سے ہی اخذ شدہ ہے اور دوسرے علما کا فرمانا ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے فعل مبارک سے اخذ شدہ ہے۔
تاج القراء محمود بن حمزہ کرمانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 505ھ) اسرار التکرار فی القرآن میں فرماتے ہیں: ”قلت أول القرآن سورة الفاتحة ثم البقرة ثم آل عمران على هذا الترتيب إلى سورة الناس وهكذا هو عند اللہ في اللوح المحفوظ وهو على هذا الترتيب كان يعرضه عليه الصلاة والسلام على جبريل عليه السلام كل سنة أي ما كان يجتمع عنده منه وعرضه عليه الصلاة والسلام في السنة التي توفى فيها مرتين“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہے، پھر سورہ بقرہ، پھر آل عمران اسی ترتیب پر سورہ ناس تک ہے اور یونہی اللہ عزوجل کے نزدیک لوح محفوظ میں ثبت ہے اور اسی ترتیب پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر سال، حضرت جبریل علیہ السلام سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے یعنی جتنا حصہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے پاس جمع ہو چکا تھا، اور جس سال آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا، اس سال آپ نے دو مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام سے دور کیا تھا۔ (اسرار التکرار فی القرآن (المسمى البرهان في توجيه متشابه القرآن لما فيه من الحجة والبيان) ص 68، دار الفضیلۃ)
ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 671ھ) الجامع لاحکام القرآن میں فرماتے ہیں: ”وقال قوم من أهل العلم: إن تأليف سور القرآن على ما هو عليه في مصاحفنا كان عن توقيف من النبي صلى اللہ عليه وسلم، وأما ما روي من اختلاف مصحف أبي وعلي وعبد اللہ فإنما كان قبل العرض الأخير، وأن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم رتب لهم تأليف السور بعد أن لم يكن فعل ذلك. روى يونس عن ابن وهب قال سمعت مالكا يقول: إنما ألف القرآن على ما كانوا يسمعونه من رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم. وذكر أبو بكر الأنباري في كتاب الرد: أن اللہ تعالى أنزل القرآن جملة إلى سماء الدنيا، ثم فرق على النبي صلى اللہ عليه وسلم في عشرين سنة، وكانت السورة تنزل في أمر يحدث، والآية جوابا لمستخبر يسأل، ويوقف جبريل رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم على موضع السورة والآية، فاتساق السور كاتساق الآيات والحروف، فكله عن محمد خاتم النبيين عليه السلام، عن رب العالمين، فمن أخر سورة مقدمة أو قدم أخرى مؤخرة فهو كمن أفسد نظم الآيات، وغير الحروف والكلمات، ولا حجة على أهل الحق في تقديم البقرة على الأنعام، والأنعام نزلت قبل البقرة لأن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أخذ عنه هذا الترتيب، وهو كان يقول: "ضعوا هذه السورة موضع كذا وكذا من القرآن". وكان جبريل عليه السلام يقف على مكان الآيات.“
ترجمہ: اہل علم میں سے ایک جماعت نے کہا: ہمارے مصاحف میں قرآن کی سورتوں کی جو ترتیب ہے یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے تو قیفی ہے، اور ابی، علی اور عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنھم کے مصاحف کے متعلق جو اختلاف مروی ہے وہ آخری دور سے پہلے کا ہے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ان مصاحف کی سورتوں کو مرتب فرما دیا حالانکہ اس سے پہلے آپ نے ایسا نہیں کیا تھا، یونس نے ابن وہب سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے مالک کو فرماتے سنا کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سنتے تھے اسی کے مطابق تالیف کیا گیا، اور ابو بکر انباری نے کتاب الرد میں ذکر کیا: اللہ تعالی نے پورا قرآن مجید، آسمان دنیا کی طرف ایک ہی مرتبہ نازل فرما دیا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر بیس سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ یوں نازل ہوتا رہا کہ کسی پیش آنے والے واقعے کے متعلق سورت نازل ہوتی اور کسی سائل کو جواب دینے کے لئے کوئی آیت نازل ہوتی اور حضرت جبریل علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو سورتوں اور آیتوں کے مقامات بتا دیا کرتے تھے، تو سورتوں کو منظم کرنا، آیات و حروف کو منظم کرنے ہی کی طرح ہے، تو یہ پوری ترتیب خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے رب العالمین کی جانب سے ہے، سو جس نے کسی مؤخر سورت کو مقدم کردیا یا مقدم سورت کو مؤخر کر دیا تو گویا اس نے آیات کی نظم کو فاسد کر دیا اور حروف و کلمات بدل دیئے، اور سورہ بقرہ کو سورہ انعام پر مقدم کرنے کی وجہ سے اہل حق کے خلاف کوئی حجت نہیں با وجود اس کے کہ سورہ انعام، سورہ بقرہ سے پہلے نازل ہوئی کیونکہ اہل حق نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے یونہی ترتیب لی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اس سورت کو قرآن کی فلاں فلاں جگہ پر رکھو، اور حضرت جبریل علیہ السلام آیات کے جگہوں پر مطلع کرتے تھے۔(الجامع لاحکام القرآن (تفسیر القرطبی)، ج 1، ص 60، دار الكتب المصرية، القاهرة)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 911ھ) اسرار ترتیب القرآن میں ذکر کرتے ہیں:
”مقدمة في ترتيب السور: اختلف العلماء في ترتيب السور، هل هو بتوقيف من النبي -صلى اللہ عليه وسلم- أو باجتهاد من الصحابة؟ بعد الإجماع على أن ترتيب الآيات توقيفي، والقطع بذلك.فذهب جماعة إلى الثاني؛ منهم: مالك، والقاضي أبو بكر في أحد قوليه، وجزم به ابن فارس،۔۔۔۔، وذهب جماعة إلى الأول؛ منهم: القاضي أبو بكر في أحد قوليه وخلائق، قال أبو بكر بن الأنباري: أنزل اللہ القرآن كله إلى سماء الدنيا، ثم فرقه في بضع وعشرين سنة، فكانت السورة تنزل لأمر ينزل، والآية جوابا لمستخبر، ويوقف جبريل النبي -صلى اللہ عليه وسلم- على موضع الآية والسورة، فاتساق السور كاتساق الآيات والحروف كله عن النبي -صلى اللہ عليه وسلم- فمن قدم سورة أو أخرها فقد أفسد نظم القرآن.وقال الكرماني في البرهان: ترتيب السور هكذا هو عند اللہ تعالى في اللوح المحفوظ على هذا الترتيب، وكان يعرض النبي -صلى اللہ عليه وسلم- على جبريل ما اجتمع لديه منه، وعرضه -صلى اللہ عليه وسلم- في السنة التى توفي فيها مرتين، وكذلك قال الطيبي. وقال ابن الحصار: [ترتيب السور] ووضع الآيات موضعها إنما كان بالوحي.۔۔۔۔۔.وقال أبو جعفر النحاس: المختار أن تأليف السور على هذا الترتيب من سول اللہ -صلى اللہ عليه وسلم- لحديث: "أعطيت مكان التوراة السبع الطوال، وأعطيت مكان الإنجيل المثاني، وفضلت بالمفصل"، "أخرجه أحمد وغيره". قال: فهذا الحديث يدل على أن تأليف القرآن مأخوذ عن النبي -صلى اللہ عليه وسلم- وأنه من هذا الوقت هكذا.۔۔۔۔۔۔ فالحاصل أني أقول: ترتيب كل [من] المصاحف بتوقيف، واستقر التوقيف في العرضة الأخيرة على [الترتيب العثماني، كما أن جميع القراءات والمنسوخات] المثبتة في مصاحفهم بتوقيف، واستقر التوقيف في العرضة الأخيرة على القراءات [العثمانية،]“
ترجمہ: سورتوں کی ترتیب کے بارے میں مقدمہ: سورتوں کی ترتیب کے متعلق علما کا اختلاف ہے کہ کیا یہ ترتیب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے توقیفی ہے یا صحابہ کرام کے اجتہاد سے ہے؟ بعد اس کے کہ آیات کی ترتیب کے متعلق اجماع ہے کہ آیات کی ترتیب توقیفی و قطعی ہے۔ ایک جماعت نے دوسرا قول اختیار کیا، ان میں امام مالک اور قاضی ابو بکر اپنے ایک قول کے مطابق بھی شامل ہیں اور ابن فارس نے بھی اسی قول پر جزم کیا ہے۔ اور ایک جماعت نے پہلا قول اختیار کیا ہے۔ ان میں قاضی ابو بکر اپنے ایک قول کے مطابق، اور خلائق بھی شامل ہیں۔ ابو بکر بن انباری نے فرمایا: اللہ تعالی نے پورا قرآن مجید، آسمان دنیا کی طرف ایک ہی مرتبہ نازل فرما دیا تھا، پھر تئیس سے انتیس سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ یوں نازل ہوتا رہا کہ کسی پیش آنے والے واقعے کے متعلق سورت نازل ہوتی اور کسی سائل کو جواب دینے کے لئے کوئی آیت نازل ہوتی اور حضرت جبریل علیہ الصلوۃ و السلام سورتوں اور آیتوں کے مقامات بتا دیا کرتے تھے، تو سورتوں کو، آیات و حروف کے منظم کرنے کی طرح منظم کرنا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے ہے، سو جس نے کسی سورت کو مقدم کیا یا مؤخر کیا تو اس نے نظم قرآن فاسد کر دیا۔ اور کرمانی نے برہان میں فرمایا: جس طرح اب سورتوں کی ترتیب ہے یونہی اللہ تعالی کے نزدیک لوح محفوظ میں ثبت ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس جتنا قرآن جمع ہوتا، آپ علیہ الصلوۃ والسلام اس کا ہر سال اسی ترتیب پر حضرت جبریل علیہ الصلوۃ و السلام سے دور فرماتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اس سال آپ نے دو مرتبہ دور فرمایا تھا۔ اسی طرح طیبی نے فرمایا ہے۔ اور ابن حصار نے فرمایا: سورتوں کی ترتیب اور آیات کو ان کی جگہوں پر رکھنا وحی کے ذریعے ہے۔ اور ابو جعفر نحاس نے فرمایا: مختار یہی ہے کہ موجودہ ترتیب پر سورتوں کی ترتیب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے ہے، اس حدیث کی بناء پر کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: تورات کی جگہ مجھے سات طویل سورتیں عطا فرمائی گئیں اور انجیل کی جگہ مثانی دی گئیں اور مفصل سے فضیلت دی گئی۔ اسے امام احمد وغیرہ نے روایت کیا۔ پھر فرمایا: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کی تالیف نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بیان کردہ طریقے کے مطابق کی گئی ہے اور وہ اس وقت سے ایسے ہی ہے۔ (علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:) حاصل کلام یہ ہے کہ میں کہتا ہوں: مصاحف میں سے ہر شے کی ترتیب توقیفی ہے اور یہ ترتیب دوسرے دور میں ترتیب عثمانی پر قائم رہی، جیسا کہ تمام قراءتیں و منسوخات جو ان کے مصحف میں ثبت ہیں، توقیفی ہیں اور یہ توقیف دوسرے دور میں قراءات عثمانیہ پر قائم رہی۔ (اسرار ترتیب القرآن، ص 41 تا 48، دار الفضیلۃ)
عظیم فقیہ اور عظیم محدث ابو الحسن نور الدین علی بن سلطان المعروف ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمۃ (1014ھ)مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: "الأصح أن ترتيب السور توقيفي أيضا" ترجمہ: زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن، ج 04، ص 1522، دارالفکر، بیروت، لبنان)
اختلاف کے لفظی ہونے کے حوالے سے دلیل:
ابو عبد اللہ بدر الدین محمد بن عبد اللہ بن بہادر زرکشی علیہ الرحمۃ (المتوفی 794ھ) "البرھان فی علوم القرآن" میں سورتوں کی ترتیب سے متعلق علمائے کرام کے دونوں گروہوں کے اقوال ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"والخلاف يرجع إلى اللفظ لأن القائل بالثاني يقول: إنه رمز إليهم بذلك لعلمهم بأسباب نزوله ومواقع كلماته ولهذا قال الإمام مالك إنما ألفوا القرآن على ما كانوا يسمعونه من النبي صلى اللہ عليه وسلم مع قوله بأن ترتيب السور اجتهاد منهم فآل الخلاف إلى أنه هل ذلك بتوقيف قولي أم بمجرد استناد فعلي"
ترجمہ: اور یہ اختلاف لفظی ہے کیونکہ دوسرے قول کو اختیار کرنے والے فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اس کا اشارہ دیا ہے، انہیں قرآن پاک کے اسباب نزول اور مقامات نزول کے متعلق علم ہونے کی وجہ سے۔ اور اسی وجہ سے امام مالک علیہ الرحمۃ نے فرمایا: صحابہ کرام علیہم الرضوان نے قرآن پاک کواسی ترتیب پر مرتب کیا ہے جو انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے سماعت فرمائی تھی، حالانکہ امام مالک علیہ الرحمۃ کا موقف یہ ہے کہ سورتوں کی ترتیب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجتہاد سے قرارپائی ہے۔ پس اختلاف اس طرف لوٹ آیا کہ یہ ترتیب قولی توقیف سے ہے یا محض فعلی دلیل سے ہے۔ (البرھان فی علوم القرآن، ج 01، ص 257، دار احیاء الکتب العربیۃ)
علامہ عبد العلی محمد بن نظام الدین لکھنوی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 1225ھ) فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں:
”بقي أمر ترتيب السور، فالمحققون على أنه من أمر الرسول صلى اللہ عليه وآله وأصحابه وسلم وقيل هذا الترتيب باجتهاد من الصحابة واستدل عليه ابن فارس باختلاف المصاحف في ترتيب السور، فمصحف أمير المؤمنين علي كان على ترتيب النزول، ومصحف ابن مسعود على غير هذا، والذي الآن، والحق هو الأول وهذه الروايات مزخرفة موهومة، ولم توجد في الكتب المعتبرة ولا يعبأ بها في مقابلة التوارث الذي جرى من لدن رسول اللہ صلى اللہ عليه وآله وأصحابه وسلم إلى الآن، وفي الاتقان ناقلا عن الزركشي الخلاف لفظي، فمن قال انه ليس توقيفيا، فمراده لم يقع توقيفا قوليا مصرحا بل علموا برمزه صلوات اللہ وسلامه عليه وآله وأصحابه والقرائن الأخرى الدالة لكن هذه الدلالة قطعية من غير ريبة والذي يدل على هذه الإرادة قول مالك، انما ألفوا القرآن على ما كانوا يستمعونه من النبي صلى اللہ عليه وسلم مع قوله: بان ترتيب السورعن اجتھاد“
ترجمہ: باقی رہا سورتوں کی ترتیب کا معاملہ! تو محققین علماء کے نزدیک یہ ترتیب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے حکم سے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ترتیب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اجتہاد سے ہے اس پر ابن فارس نے سورتوں کی ترتیب کے حوالے سے مصاحف کے اختلاف سے استدلال کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مصحف میں سورتوں کی وہی ترتیب ہے جس ترتیب سے سورتیں نازل ہوئیں، اور ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے مصحف میں اس کے علاوہ کوئی اور ترتیب تھی، اور اب کوئی اور ترتیب ہے، لیکن پہلا قول ہی درست ہے اور یہ روایات محض ملمع و بے بنیاد ہیں، معتبر کتب میں ان کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی ان کا قصد کیا جائے گا اس تواتر کے مقابلہ میں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے زمانے سے اب تک جاری ہے اور اتقان میں زرکشی کے حوالے سے منقول ہے کہ یہ اختلاف صرف لفظی ہے، جو اس بات کا قائل ہے کہ سورتوں کی ترتیب توقیفی نہیں تو اس کی مراد یہ ہے کہ اس کے توقیفی ہونے کے متعلق کوئی واضح قول واقع نہیں بلکہ علماء کرام نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اشاروں اور دوسرے ایسے قرائن سے اس کے توقیفی ہونے کے متعلق جان لیا جو قرائن اس ترتیب کے توقیفی ہونے پر دلالت کرتے ہیں لیکن یہ دلالت قطعی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اسی توجیہ پر مالک کا قول بھی دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: صحابہ کرام نے جیسے جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سنا اسی کے مطابق اسے تالیف کیا باوجود اس کے کہ ان کا یہ قول بھی ہے کہ سورتوں کی ترتیب صحابہ کرام کے اجتہاد سے ہے۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت، الاصل الاول: الکتاب، ج 2، ص 14، 15، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: ابو الحسن مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-627
تاریخ اجراء: 26 ربیع الثانی 1444 ھ / 22 نومبر 2022 ء