آیاتِ متشابہات کی تاویل قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آیات متشابہات میں تاویل کرنے کا ثبوت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسلک تاویل یعنی آیات متشابہات کی تاویل کرنا، کیا یہ قران سے یا حدیث سے ثابت ہے؟
جواب
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ-
ترجمہ کنز الایمان: وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے۔ (سورہ آل عمران، پ 03، آیت 07)
مسلک تاویل والوں نے قرآن پاک کی اس آیت کے اس حصے کودلیل بنایاہے
اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ
وہ اس طرح کہ اس آیت مبارکہ میں آیات محکمات کہ جن کے معنی واضح وصاف ہیں، ان کوکتاب کی اصل قرار دیا گیا ہے، اور فرع، اصل کی طرف ہی لوٹتی ہے، تو آیات متشابہات جن کے معنی معلوم نہیں، اب ان میں وہ احتمال نکالاجائے ،جوآیات محکمات کے مطابق ہو۔ چنانچہ امامِ اہلِ سُنَّت امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بعض نے خیال کیا کہ جب اللہ عزوجل نے محکم متشابہ دو قسمیں فرما کر محکمات کو ھنّ ام الکتب فرمایا کہ وہ کتاب کی جڑ ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر فرع اپنی اصل کی طرف پلٹتی ہے، تو آیہ کریمہ نے تاویل متشابہات کی راہ خود بتادی اور ان کی ٹھیک معیار ہمیں سجھادی کہ ان میں وہ درست وپاکیزہ احتمالات پیدا کرو، جن سے یہ اپنی اصل یعنی محکمات کے مطابق آجائیں اور فتنہ و ضلال و باطل و محال راہ نہ پائیں۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے نکالے ہوئے معنی پر یقین نہیں کرسکتے کہ اللہ عزوجل کی یہی مراد ہے مگر جب معنی صاف و پاکیزہ ہیں اور مخالفت محکمات سے بری و منزہ ہیں اور محاورات عرب کے لحاظ سے بن بھی سکتے ہیں، تو احتمالی طور پر بیان کرنے میں کیا حرج ہے اور اس میں نفع یہ ہے کہ بعض عوام کی طبائع صرف اتنی بات پر مشکل سے قناعت کریں کہ ان کے معنی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور جب انہیں روکا جائے گا، تو خواہ مخواہ ان میں فکر کی اور حرص بڑھے گی۔۔۔ اور جب فکر کریں گے فتنے میں پڑیں گے گمراہی میں گریں گے، تو یہی انسب ہے کہ ان کی افکار ایک مناسب و ملائم معنی کی طرف کہ محکمات سے مطابق محاورات سے موافق ہوں، پھیر دی جائیں کہ فتنہ و ضلال سے نجات پائیں، یہ مسلک بہت علمائے متاخرین کا ہے کہ نظر بحال عوام اسے اختیار کیا ہے، اسے مسلک تاویل کہتے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 124، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4803
تاریخ اجراء: 14رمضان المبارک1447ھ / 04مارچ2026ء