logo logo
AI Search

قرآن پاک ترجمہ کے بغیر پڑھنے سے ثواب ملے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن پاک کا ترجمہ سمجھے بغیر صرف تلاوت کرنے کا کوئی فائدہ یا ثواب ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ ”قرآن ترجمے کے بغیر پڑھنے کا یقیناً کوئی فائدہ نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔ تو اگر کسی آدمی نے قرآن مجید کو سمجھ کر نہیں پڑھا، یا اس کا ترجمہ نہیں سیکھا، یا اس کو کسی صاحب علم کی مدد سے نہیں سمجھا اور محض الفاظ دہرا دئیے، تو اس نے تو قرآن مجید کے مقصد ہی کو پورا نہیں کیا۔‘‘ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ زید کی بات درست ہے ؟ یعنی کیا واقعی سمجھے بغیر خالی تلاوتِ قرآن کا کوئی فائدہ نہیں ہے؟

جواب

دورِ جدید کا یہ عجیب فتنہ ہے کہ قرآن کی چند آیات یا دین کی چند حکمتوں کو سامنے رکھ کر ایسا کلی حکم بیان کردیا جائے جس میں دیگر آیات، شرعی احکام اور دینی حکمتوں کا انکار اور تردید ہوجائے۔ ایسے کم علم لوگوں کے ایسے بے فائدہ و ناقص اجتہاد کا سبب اُن کا ناقص فہم، کم علمی، سلف صالحین کے علمی فیضان سے محرومی اور اپنی عقل کو سب پر حاکم ماننے کی سوچ، خود پسندی اور تکبر ہوتا ہے۔

بلاشبہ قرآنِ مجید کے نزول کا ایک بنیادی مقصد ہدایت، تفکر و تدبر اور اس کی روشن تعلیمات پر عمل کرنا ہے، جو بغیر سمجھے صرف عربی عبارت پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوگا، لیکن تلاوتِ قرآن بھی ایک مستقل عبادت اور بہت بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے۔ یہ کہنا کہ ”غور و فکر اور سمجھے بغیر تلاوتِ قرآن محض بے فائدہ و ثواب سے خالی ہے “، صریح غلطی، دین کی بنیادی تعلیمات سے ناواقفیت اور قرآنِ مجید کے مفہوم کی غلط ترجمانی ہے، کیونکہ صرف تلاوتِ قرآن کرنے کے  فضائل و ترغیبات خود آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ طیبہ سے ثابت ہیں۔

بغیر سمجھے بھی تلاوت کرنا ایک عبادت اور سعادت ہے، اس کی نہایت واضح دلیل یہ ہے کہ زمانہ صحابہ سے لے کر آج تک پوری دنیا میں مسلمان تراویح میں مکمل قرآن مجید سنتے، سناتے چلے آرہے ہیں اور تراویح کا یہ طریقہ عربی اور غیر عربی تمام مسلمانوں میں رائج ہے اور یہ بات قطعی طور پر سب کو معلوم ہے کہ مکمل قرآن مجید پڑھنے اور سننے والوں کی اکثریت اسے سمجھ نہیں پاتی کہ غیر عربی کو عربی تلاوت کہاں سے سمجھ آئے گی اور عربی لوگ بھی اتنی تیزی سے پڑھے ہوئے کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے، تو اب غور کریں کہ کیا زمانہ صحابہ سے لے کر آج تک پوری امت ایک بے کار، بے فائدہ اور بے مقصد کام میں مشغول ہے؟ معاذاللہ۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس کا معنیٰ واضح ہے کہ بغیر سمجھے پڑھنا بھی مفید ہے، لیکن اگر کوئی احمق کہتا ہے کہ ہاں، پوری امت آج تک فضول کام میں ہی لگی ہوئی ہے، تو اس بدبخت کی بدبختی کے سائے سے بھی دور رہیں۔

بغیر سمجھے تلاوت کرنا بھی باعثِ ثواب ہے، اس کے تفصیلی  دلائل درج ذیل ہیں:

(1) تلاوتِ قرآن کی فضیلت کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ﴾

ترجمہ کنز العرفان: ’’بیشک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی۔ تاکہ اللہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے، بیشک وہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الفاطر، آیت 29، 30)

اللہ تعالیٰ تلاوتِ قرآن کا حکم دیتے ہوئے ارشا د فرماتا ہے:

﴿اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ﴾

ترجمۂ کنز العرفان: ’’اس کتاب کی تلاوت کرو، جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت، آیت45)

ایک مقام پر فرمایا: ﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ﴾ ترجمۃ: ’’قرآن میں سے جتنا آسان ہو اتنا پڑھو۔‘‘ (سورۃ المزمل، آیت 20 )

اگر کوئی یہ کہے کہ جس وقت قرآن کریم کا نزول ہوا تھا اس وقت مخاطب چونکہ عرب تھے اور وہ مفہوم سمجھ کر ہی تلاوت کیا کرتے تھے، اس لیے انہیں اجر ملتا تھا، تو یہ کہنا سرے سے ہی غلط ہے، کیونکہ کئی آیات ایسی ہیں جن کی اصل مراد از خود صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی نہیں سمجھ پاتے تھے، بلکہ بعد میں کسی موقع پر بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر سمجھا کرتے تھے، لہٰذا تمام اہل عرب کا صرف تلاوت سے ہی مفہوم سمجھ لینے کا دعویٰ درست نہیں۔ مزید یہ کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جس کے مخاطب قیامت تک کے لوگ ہیں، تو یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس کی تلاوت کا اجر و ثواب صرف اس وقت کے لوگوں کے لیے خاص ہو اور بعد والےاس سے محروم رہیں۔

(2) کثیر احادیثِ طیبہ میں تلاوتِ قرآن کے فضائل بیان ہوئے ہیں، جہاں صرف قراءتِ قرآن یعنی الفاظِ قرآن پڑھنے کا ذکر ہے، خواہ سمجھ کر پڑھا جائے یا بغیر سمجھے، جیسا کہ مخصوص سورتوں، مثلاً: سورۂ یس، سورۂ واقعہ ، سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص وغیرہا پڑھنے کے متعلق وارد ہونے والی احادیث میں سمجھنے کی قید کے بغیر فضائل کا ذکر ہے، بلکہ بعض روایات میں یہاں تک فرمایا کہ جو ایک حرف پڑھے اسے دس نیکیاں ملیں گی، لہٰذا شرعی دلیل کے بغیر انہیں سمجھ کر پڑھنے کے ساتھ مشروط کرنا کسی طرح درست نہیں، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:

’’من ‌قرأ ‌حرفا ‌من ‌كتاب ‌اللہ فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف“

یعنی: جو قرآن کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک ایسی نیکی ہے، جو دس کے برابر ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ ”الم“ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ (سنن ترمذی، جلد 5، صفحہ 175، مطبوعہ مصر)

اگر کوئی کہے کہ یہ ثواب سمجھ کر پڑھنے پر موقوف ہے، تو جواب یہ ہے کہ حدیثِ پاک میں یہ فضیلت بیان کرتے ہوئے جس کلمے کی مثال دی گئی، وہ کلمہ”الم“ ہے، جو حروفِ مقطعات میں سے ہے اور ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ ان کی حقیقی مراد اللہ تعالیٰ اور اس کی عطا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں۔ تو اگر ثواب سمجھ کر پڑھنے پر ہی موقوف ہو، تو پھر ”الم“ پڑھنے پر کسی کو بھی ثواب نہیں ملنا چاہیے، جب کہ حدیثِ پاک میں خاص اسی پر تیس (30)نیکیوں کی بشارت ہے۔

(3) قرآن و حدیث میں جہاں تلاوتِ قرآن کے فضائل بیان ہوئے، وہاں لفظِ "قراءت" اور اس کے مشتقات (یعنی اس سے ملتے جلتے الفاظ) استعمال ہوئے ہیں، یعنی قرء،  یقرءون وغیرہا اور قراءت کا معنیٰ ہے: زبان سے الفاظ کا تلفظ  اور حروف کی ادائیگی کرنا، تو جو شخص صرف آیاتِ قرآنیہ کی درست تلاوت کر لے، خواہ سمجھ آئے یا نہ آئے، وہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ فضائل کا حق دار ہو جائے گا۔ نیز قراءتِ قرآن کے جو خاص فضائل بیان ہوئے ہیں،  وہ قرآنِ پاک کے عربی الفاظ پڑھنے پر وارد ہوئے ہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص صرف ترجمہ پڑھ لیتا ہے یا صرف اس کے معانی و مفاہیم کو پڑھ یا سمجھ لیتا ہے، تو وہ قرآنِ کریم کے مفہوم کو پڑھنے یا سمجھنے کا ثواب تو پائے گا، لیکن خاص تلاوتِ قرآن کے فضائل کا حق دار نہیں ہوگا۔

چنانچہ قراءت کے  لفظی و لغوی معنیٰ کے متعلق ’’لسان العرب‘‘ میں ہے:

”و معنی قرأتُ القران: لفظت بہ مجموعاً“

یعنی: قرأت القران کا معنیٰ یہ ہے کہ میں نے پورے طور پر زبان سے اس کا تلفظ کیا۔ (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 128 ، مطبوعہ بیروت)

’’معجم اللغۃ العربیۃ المعاصرۃ‘‘ میں ہے:

’’قرَأ الآيةَ من القرآن: تلاها، نطق بها عن نظر أو عن حفظ“

ترجمہ: اس نے قرآن کی آیت پڑھی، یعنی اس کی تلاوت و تلفظ کیا، خواہ دیکھ کر یا زبانی۔ (معجم اللغة العربية المعاصرة، جلد 3، صفحہ 1789، مطبوعہ بيروت)

اور قراءت کے شرعی معنیٰ کے متعلق ’’محیطِ برہانی‘‘ میں ہے:

”أن القراءة فعل اللسان، وذلك بإقامة الحروف“

یعنی: قراءت زبان کا فعل ہے، جو حروف کی ادائیگی سے حاصل ہوجاتا ہے۔ (محیط برھانی، جلد 1، صفحہ 296، مطبوعہ بيروت)

(4) قرآن مجید میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جو مقاصد بیان ہوئے ان میں ایک مقصد ”لوگوں کو تلاوتِ قرآن سنانا“ بھی ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴾

ترجمۂ کنز العرفان: ’’وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘ (سورۃ الجمعۃ، آیت 2)

مذکوره آیتِ مبارکہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت کے تین مقاصد بیان ہوئے: (1) تلاوتِ قرآن۔(2) تعلیمِ قرآن ۔ (3) تزکیہ نفس۔ تلاوتِ قرآن اور تعلیمِ قرآن دونوں الگ الگ بیان ہوئے، معلوم ہوا کہ سمجھے بغیر تلاوتِ قرآن بھی  بے فائدہ نہیں، بلکہ اہم و مستقل عبادت ہے۔

(5) تلاوت قرآن  اس لیے بھی اہم ہے، تاکہ اولاً الفاظ ِقرآن سے قلبی وابستگی اور محبت پیدا ہوسکے، جب تلاوت کا شوق دل میں راسخ ہو جائے گا، تو یہی شوق غور و تدبر کہ جو مقصودِ اصلی ہے، اس کی طرف بھی لے جائے گا، کیونکہ الفاظ اور نقوشِ قرآن سے رغبت کے بغیر معانی و مفاہیم کا صحیح ادراک ممکن نہیں۔ نیز یہ بھی کہ دیگر آسمانی کتابیں اسی لیے تحریف و تبدیلی سے محفوظ نہ رہ سکیں کہ ان کے الفاظ یاد کرنے اور ان کی باقاعدہ تلاوت کی اس قدر ترغیب موجود نہ تھی، اسی حکمت کے پیشِ نظر اسلام نے قرآنِ کریم کو پڑھنے اور بار بار دہرانے کو ذکر، دعا، تسبیح و تہلیل سے بھی افضل عمل، بلکہ مستقل عبادت قرار دیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:

”أعبد ‌الناس ‌أكثرهم تلاوة للقرآن“

یعنی: لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار وہ ہے، جو سب سے زیادہ تلاوتِ قرآن کرنے والاہے۔ (کنز العمال، جلد  1، صفحه 510، مطبوعہ بیروت)

ایک حدیثِ پاک میں تلاوت قرآن کو سب سے افضل عبادت قرار دیتے ہوئے فرمایا:

”أفضل ‌عبادة ‌أمتي قراءة القرآن“

یعنی: میری امّت کی سب سے افضل عبادت قرآن کی تلاوت ہے۔ (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 396، مطبوعہ ریاض)

اہم بات: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور بزرگانِ دین  رحمہم اللہ بلکہ پوری امت کا ہمیشہ سے یہ عمل جاری و ساری ہے کہ مسلمان تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور خوب ذوق و شوق کے ساتھ بار بار ختم قرآن کرتے ہیں، بعض اکابر تو ایک ہی رات میں قرآن مکمل فرما لیتے تھے، بعض تین دن میں اور بعض ایک ہفتے میں۔ پوری امت کا یہ تعامل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ الفاظِ قرآن کی محض تلاوت بھی اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ لہٰذا تلاوتِ قرآن کو بے فائدہ قرار دینا، در حقیقت پوری امت کے متوارث اور مبارک عمل کو لغو و عبث ٹھہرانا ہے، جو ہر اعتبار سے باطل، مردود اور افسوسناک ہے، بلکہ اس کا معنی یہ بنا کہ اوپر مذکور سب بزرگانِ دین ایک بے فائدہ مشقت و محنت میں اپنی عمریں برباد کرگئے، معاذاللہ۔

حاصلِ کلام: تلاوتِ قرآن ایک مستقل اور جداگانہ عبادت ہے اور قرآن کریم کو سمجھنا اور اس میں غور و تدبر کرنا ایک الگ عبادت ہے، ہر ایک کا اپنا مقام اور فضیلت ہے۔ محض تلاوت کو بے فائدہ سمجھ لینا اور صرف سمجھ کر پڑھنے کو ہی عبادت قرار دینا، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان دونوں کا اہتمام کرے: محبت و شوق کے ساتھ تلاوت بھی کرے، ترجمہ و تفسیر کے ذریعے سمجھنے کی کوشش بھی کرے، اور سب سے بڑھ کر اس کے احکام پر عمل پیرا ہوکہ یہی نزولِ قرآن کا حقیقی مقصد ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9823
تاریخ اجراء: 09 رمضان المبارک 1447 ھ / 27 فروری 2026 ء