logo logo
AI Search

دوران حفظ فوت ہونے والے کو فرشتہ حفظ کرواتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوران حفظ فوت ہونے والے کے حفظ کی تکمیل

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ایسی کوئی بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے کہ اگر کوئی حافظ دوران حفظ مر جائے تو اسے فرشتہ حفظ کراتا ہے؟

جواب

جی ہاں! اس مفہوم کی ایک حدیث پاک ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں کہ: "جس نے قرآن پڑھا، پھر وہ اسے مکمل حفظ کرنے سے پہلے مر گیا، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اسے اس کی قبر میں قرآن سکھاتا ہے، پس وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے، کہ وہ قرآن یاد کرچکا ہوتا ہے۔"

الترغيب فی فضائل الاعمال میں ہے

”عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قرأ القرآن، ثم مات قبل أن يستظهره، أتاه ملك فعلمه في قبره، فيلقى الله وقد استظهره“

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا، پھر اسے مکمل حفظ کرنے سے پہلے مر گیا، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اسے اس کی قبر میں قرآن سکھاتا ہے، پس وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے، کہ وہ قرآن یاد کرچکا ہوتا ہے۔ (الترغيب في فضائل الأعمال، صفحہ  68، حدیث: 196، دار الكتب العلمية، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4730
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1447ھ/11 فروری 2026ء