بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض بزرگانِ دین دعا یا وظائف میں قرآن کریم کی بعض آیات مبارکہ کے الفاظ خصوصاً اسمائے الٰہی کو تبدیل کر کے پڑھتے ہیں، جیسے
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا
کو
فَاتَّخِذْهُ كَفِيلًا
کہہ کر پڑھتے ہیں، تو کیا شرعا یہ عمل جائز ہے؟
بلاشبہ قرآن مجید کے نظم و معنی میں دانستہ تبدیلی کرنا ناجائز و گناہ بلکہ بعض اوقات کفر بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم سوال میں جو صورت ذکر کی گئی اس میں نیت پر مدار ہے۔ معاذاللہ قرآن مجید میں تبدیلی کی نیت ہو تو کفر ہے لیکن یہ مسلمان سے متصور نہیں اور اگر آیت کے معانی کی تفصیل کے طور پر ہو تو جائز ہے اور یونہی اقتباس کے طور پر ہے تو بھی یہ قرآن مجید میں تبدیلی کی نہیں بلکہ ایک جائز صورت ہے۔
جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ بسا اوقا ت نظم و نثر میں الفاظ قرآنیہ کو اس طرح اپنے کلام کا حصہ بنایا جاتا ہے کہ اس میں اس کے کلام ربانی ہونے کی طرف اشارہ تک نہیں ہوتا،مثلا قال اللہ تعالی وغیرہ الفاظ کہے بغیر ہی اسے اپنے کلام میں ذکر کردیا جاتا ہے اور اس سے قرآن مجید یا اس کی تلاوت مقصود نہیں ہوتی، اس عمل کو فنی اور اصطلاحی طور پر اقتباس کہا جاتا ہے۔
اوراقتباس کے بارے میں علمائے دین کی واضح تصریحات موجود ہیں کہ چونکہ ایسی صورت میں ذکر کردہ الفاظِ قرآنیہ سے قرآن مقصود نہیں ہوتا، اس وجہ سے یہ الفاظ قرآن ہونے سے نکل کر مقتبس کا اپنا کلام بن جاتے ہیں، جس کے سبب اس پر قرآنِ مجید والے احکام جاری نہیں ہوتے اور نہ ہی اسے قرآنِ مجید کی تلاوت کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتباس میں ذکر کردہ الفاظ میں معمولی تبدیلی بھی جائز ہوتی ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ ہمیں ایسی متعدد احادیث دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں سرکارِ دو عالم ﷺ نے الفاظِ قرآنیہ کو اپنے کلام میں شامل فرمایا یا انہیں بطورِ دعا پڑھا، لیکن ساتھ ہی ان میں معمولی تبدیلی بھی فرمادی؛ مثلاً کسی لفظ کا اضافہ کردیا، کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دیا، یا بعض اوقات کوئی لفظ حذف فرما دیا۔ سرکارِ کائنات ﷺ کے اس مبارک عمل کے تحت شارحینِ حدیث اور علمائے دین نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے کہ آپ کا یہ عمل بطورِ اقتباس تھا، ورنہ اگر آپ کا مقصد تلاوتِ قرآن ہوتا تو ہرگز تبدیلی نہ فرماتے، کیونکہ یہ عمل ناجائز اور گناہ ہے۔
بالکل اسی طرح جب ہمیں بزرگانِ دین کی بیان کردہ دعاؤں یا وظائف میں الفاظِ قرآنیہ سے مشابہ الفاظ نظر آئیں، اور وہاں اس بات کا کوئی قرینہ موجود نہ ہو کہ وہ انہیں بطورِ قرآن بیان کر رہے ہیں، نیز ان میں معمولی تبدیلی بھی پائی جائے، تو واضح ہوجائے گا کہ ان کا یہ کلام اقتباس پرمبنی ہے۔ کیونکہ اگر ان کا مقصد تلاوتِ قرآن مجید ہوتا تو وہ ہرگز ہرگز اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ فرماتے۔
ہم طوالت سے بچتے ہوئے ذیل میں صرف چار احادیثِ مبارکہ اور ان کے متعلق شارحینِ اور علمائے دین کے اقوال بطورِ دلیل ذکر کریں گے۔ ورنہ اس طرح کی اور بھی روایا ت موجود ہیں۔ نیز علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی میں اس عنوان پر نہایت مفصل بحث فرمائی ہے اور اس سلسلے میں احادیث و اقوالِ علماسے کثیر تائیدات بھی ذکر فرمائی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس مقام کی طرف بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔
(۱) صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات عفریت جن مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے، تو اللہ نے اسے میرے اختیار میں کردیا، میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی:
رب هب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي
یعنی میرے رب مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ (صحیح البخاری، ج 01، ص99، رقم 461، السلطانیۃ، بالمطبعة الكبرى الأميریۃ، ببولاق مصر)
حالانکہ یہی دعا قرآن مجید فرقان حمید میں یوں مذکورہے:
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ(سورہ ص، آیت 35)،
یعنی آیت میں اغفر لی کے الفاظ بھی تھے لیکن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کو اد ا نہیں فرمایا۔
(۲) سنن نسائی وغیرہ کتب حدیث میں حضرت محمد بن مسلمہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو ثنا کےطور پر یہ دعا پڑھتے:
وجهت وجهي للذي فطر السموات و الارض حنيفا مسلما، و ما انا من المشركين (سنن نسائی، ج 02، ص 131، رقم898، المكتبۃ التجاریۃ الكبرى بالقاهرة)،
اوردوسری روایا ت کے مطابق
و ماانا من المشرکین
کی جگہ
انا من المسلمین کہتے۔ (مشکوۃ المصابیح، ج 01، ص 260، رقم: 821، المكتب الإسلامی، بيروت)
حالانکہ قرآن مجید کی آیت میں یہ دعا یوں مذکور ہے:
اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(سورہ انعام آیت 79)
یعنی ایک تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابتداء میں لفظ اِنِّیْ کو ترک فرمایا اور دوسری تبدیلی”حنیفا“کے بعد ”مسلما“ کا اضافہ فرمایا اور تیسری تبدیلی یہ کہ
و ما انا من المشرکین
کی جگہ
انا من المسلمین
ارشاد فرمایا۔
(۳) مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام مالک ودیگر کتب احادیث میں موجودکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللّٰهم فالق الإصباح، و جاعل الليل سكنا، و الشمس و القمر حسبانا
یعنی اے تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والے، رات کوآرام کا ذریعہ بنانے والےاور سورج اور چاند کو اوقات کے حساب کا ذریعہ بنانے والے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 06، ص 24، رقم: 29193، دار التاج - لبنان)(موطا امام مالک، ج 01، ص 212، رقم 27، دار إحياء التراث العربي، بيروت– لبنان)،
جبکہ یہی الفاظ آیت میں اس طرح موجود ہیں:
فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ- وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا (سوره انعام آیت 96)۔
یعنی آیت میں مذکورلفظِ ”جعل“ کو تبدیل کرکےسرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ”جاعل“کا لفظ ارشاد فرمایا۔
(۴) اسی طرح ترمذی کی ایک حدیث پاک میں ارشاد ہوا:
إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد عريض
یعنی جب تمہارے پاس نکاح کا ایسا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو فورا نکاح کرلو، ورنہ زمین میں فتنہ اور بہت فساد ہوگا(سنن ترمذی، ج 02، ص 380، رقم: 1084، دار الغرب الإسلامي - بيروت)۔
جبکہ سورہ انفال آیت نمبر 73 میں مذکورہ الفاظ یوں موجود ہیں:
اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ
یعنی آیت میں موجود لفظ ”کبیر“ کو لفظ ”عریض“ سے تبدیل فرمادیا گیا۔
مذکورہ بالا احادیث میں اقتباس مقصود تھا، اب اس کے متعلق تصریحات ملاحظہ ہوں:
صحیح بخاری کی حدیث کےتحت فتح الباری، عمدۃ القاری اور الکواکب الدراری میں ہے،
و اللفظ للآخر: (رب ھب لی)نظم القرآن رب اغفرلی و ھب لی و لعلہ ذکرہ علی قصد الاقتباس من القرآن لا علیٰ قصد انہ قرآن
حضور علیہ السلام کے الفاظ رب ھب لی ہیں جبکہ قرآن کانظم رب اغفرلی و ھب لی ہے، ہوسکتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے اس کو قرآن سے اقتباس کے طور پر ذکر فرمایا ہو نہ کہ قرآن کے قصد سے۔(فتح الباری، ج 02، ص 730، عمدۃ القاری، ج 04، ص 464، الکواکب الدراری، ج 04،ص 121، مطبوعات بیروت)
حديث نمبر 2 اور 3 میں اقتباس مراد ہونے کے متعلق الاتقان فی علوم القرآن میں ہے:
و قد تعرض له جماعة من المتأخرين فسئل عنه الشيخ عز الدين ابن عبد السلام فأجازه و استدل له بما ورد عنه ﷺ من قوله في الصلاة و غيرها: وجهت وجهي: إلى آخره وقوله: اللهم فالق الإصباح و جاعل الليل سكنا و الشمس و القمر حسبانا
متاخرین کی ایک جماعت اقتباس کے درپے ہوئی اور اس کے متعلق شیخ عز بن عبد السلام سے پوچھا گیا،تو آپ نے نماز و دیگر کے متعلق آنے والی روایات سے استدلال فرماتے ہوئے حکم جواز بیان فرمایا، جیسے وجھت وجھی سے آخر تک دعا، یونہی اللّٰھم فالق الاصباح سے آخر تک دعا۔ (زبدۃ الاتقان، ج 01، ص 386، الهيئة المصرية العامة للكتاب)
حديث نمبر 4 کے متعلق الحاوی للفتاوی میں ہے:
أخرج الترمذي۔۔۔ قال رسول اللہ ﷺ: إذا أتاكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد عريض، و في آخر سورة الأنفال:﴿اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ﴾ [الأنفال: ٧٣]، و فيه حجة أنه يجوز تغيير بعض النظم بإبدال كلمة بأخرى، و بزيادة ونقص، كما يفعله أهل الإنشاء كثيرا؛ لأنه لا يقصد به التلاوة، و لا القراءة، و لا إيراد النظم على أنه قرآن
ترمذی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ اور سورہ انفال کے آخر میں یوں مذکور ہے:
إلا تفعلوه تكن فتنة في الارض و فساد كبير۔
اس روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات مقتبس نظم میں معمولی تبدیلی کی جا سکتی ہے، جیسے کسی لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل دینا، یا کمی بیشی کرنا، جیسا کہ اہلِ انشاء و ادب کرتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصود تلاوت، قراءت یا بحیثیت قرآن اسے ذکر کرنا نہیں ہوتا۔ (ملتقطا ازالحاوی للفتاوی، ج 01، ص 308، دار الفكر للطباعة و النشر، بيروت - لبنان)
اقتباس میں تغییر یسیر کے جواز کے متعلق امام محمد بن احمد دسوقی بھی حاشیۃ الدسوقی علی تلخیص المفتاح میں لکھتے ہیں:
انہ یجوز فی اللفظ المقتبس تغییر بعضہ فلو کان المضمن ھو القرآن حقیقۃ کان نقلہ عن معناہ کفرا و کذالک تغییرہ
مقتبس الفاظ میں معمولی تبدیل کرنا جائز ہے، کیونکہ اگر شامل کیا جانے والاکلام حقیقی طور پر قرآن ہوتا تو اس کو اس کے اصل معنیٰ سے پھیرنا، یونہی اس میں تبدیلی کرنا کفر ہوتا۔ (حاشیۃ الدسوقی علی تلخیص المفتاح، ج 02، ص 644، مطبوعہ کوئٹہ)
اقتباس کی تعریف کے متعلق الاتقا ن اور در منتقی میں ہے،
و اللفظ للآخر: الاقتباس: تضمین الشعر او النثر بعض القرآن لا علیٰ انہ منہ بان لا یقال فیہ قال اللہ تعالیٰ و نحوہ، فان ذالک حینئذ لا یکون اقتباسا
اقتباس یہ ہے کہ شعر یا نثر میں قرآن کی کسی آیت کو شامل کرنا، لیکن اس طور پر نہیں کہ یہ قرآن کا حصہ ہے، یعنی اس میں اس طرح کے الفاظ نہ کہے جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیونکہ اس صورت میں یہ اقتباس نہیں رہے گا۔ (الدر المنتقیٰ مع مجمع الانھر، ج 02، ص 439، مطبوعہ کوئٹہ)
امام احمد بن علی بہاء الدین سبکی عروس الافراح شرح تلخیص المفتاح میں لکھتے ہیں:
و المراد بتضمينه أن يذكر كلاما وجد نظمه فى القرآن، أو السنة مرادا به غير القرآن فلو أخذ مرادا به القرآن، لكان ذلك من أقبح القبيح، ومن عظام المعاصى، نعوذ بالله منه
اور اس کے شامل کرنےسے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کلام جس کا نظم قرآن یا حدیث میں پایا جاتا ہو ،ذکر کیا جائے اور اس سے مقصود قرآن نہ ہو، کیونکہ اگر قرآنی آیت قرآن کےقصد سےشامل کی جائے، تو یہ بہت بری چیز اور بڑے گناہوں میں سے ایک ہوگا ،ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (عروس الافراح شرح تلخیص المفتاح، ج 02، ص 332، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0690
تاریخ اجراء: 13 جمادی الثانی 1447ھ / 05 دسمبر 2025ء