فجر سے ظہر اور عصر سے مغرب مسلسل تلاوت قرآن کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فجر سے ظہرتک اور عصر سے مغرب تک مسلسل تلاوت قرآن کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عصر کے بعد مغرب تک قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں؟ اور فجر سے مسلسل ظہر تک قرآن پاک کی تلاوت کر سکتے ہیں؟
جواب
فجر سے ظہر اور عصر سے مغرب تک بیچ میں تین مکروہ اوقات آتے ہیں (سورج طلوع ہونے سے تقریباً 20 منٹ بعد تک، سورج ڈوبنے سے پہلے کے تقریباً 20 منٹ اور ضحوۂ کبری یعنی نصف النہارِ شرعی کے وقت، جسے عوام زوال کا وقت کہتی ہے) ان اوقات میں نماز جائز نہیں اور تلاوتِ قرآن کریم خلافِ اَوْلیٰ ہے، لہٰذا خاص ان اوقات میں تلاوت کرنے کے بجائے ذکر و اذکار و تسبیحات پڑھنا بہتر ہے۔
صدرالشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ذکر و دُرود شریف میں مشغول رہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 455، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2376
تاریخ اجراء: 12صفر المظفر1447ھ/07اگست2025ء