سورہ ملک سننے سے عذاب قبر سے نجات ملے گی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سورہ ملک کی تلاوت سننے سے عذاب قبر سے نجات والی فضیلت ملے گی؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے سنا ہے کہ جو شخص روزانہ سورۂ ملک کی تلاوت کرے گا، یہ سورت اس کے لیے عذابِ قبر وغیرہ سے نجات کا سبب بنے گی، اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود تلاوت نہیں کرتا، بلکہ کسی کی تلاوت سن لیتا ہے یا ایک شخص تلاوت کرے اور بقیہ بیٹھ کر سن لیں تو کیا سب کو حدیثِ پاک میں بیان کردہ خاص فضیلت حاصل ہوگی؟
جواب
حکمِ شرعی یہ ہے کہ کسی ایک شخص کا بلند آواز سے سورۂ ملک کی تلاوت کرنا اور بقیہ کا توجہ سے سننا، بلا شبہ کارِ ثواب ہے، بلکہ فقہائے کرام یہاں تک فرماتے ہیں کہ قرآن پاک سننے میں زیادہ ثواب ہے، کیونکہ نمازکے علاوہ تلاوتِ قرآن فرض نہیں، لیکن جب تلاوت ہو رہی ہو، تو سننے کے لیے موجود افراد پر اس کا سننا فرض ہوتا ہے اور عموما فرض کا ثواب زیادہ ہوتاہے، لیکن سورۂ ملک کے متعلق عذابِ قبر وغیرہ سے نجات کی جو خاص فضیلت احادیثِ طیبہ میں بیان ہوئی ہے، وہ قراءت کرنے یعنی پڑھنے والے سے متعلق ہے، صرف سننے والے کے لیے اس فضیلت کا حصول احادیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی بھی حصے کی تلاوت سننے کا کوئی معمول ہے تو اسے جاری رکھا جائے لیکن یہ ضرور ذہن میں رہے کہ قراءت کے متعلق وارد خاص فضیلت سننے والے کو حاصل نہیں ہوگی۔
سورہ ملک کے متعلق جو روایات ہیں وہ تین طرح کی ہیں، ایک وہ جن میں خاص قراءت کے الفاظ ہیں، دوسری وہ روایات جن میں قراءت کے علاوہ صاحب وغیرہ کے الفاظ ہیں اور تیسری وہ روایات جن میں قراء ت و دیگر دونوں طرح کے الفاظ نہیں ہیں۔ پہلی قسم تو واضح ہے کہ فضیلت قاری کے لئے ہے کیونکہ الفاظ ہی قراءت کے ہیں۔ دوسری قسم کی روایات میں بھی قاری ہی مراد ہیں کہ مذکور الفاظ کا معنی شارحین نے قاری یعنی پڑھنے والا کیا ہے اور تیسری قسم کی روایات کو بھی شارحین نے قاری ہی پر محمول کیا ہے۔
قراءت کے الفاظ والی چند روایات یہ ہیں، سنن ترمذی، سنن کبریٰ وغیرہا کتبِ احادیث میں ہے،
و اللفظ للثانی: عن عبد اللہ بن مسعود، قال: من قرأ (تبارك الذي بيده الملك) كل ليلة منعه اللہ بها من عذاب القبر، و كنا في عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم نسميها المانعة، و إنها في كتاب اللہ سورة من قرأ بها في كل ليلة فقد أكثر و أطاب
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جوشخص ہر رات سورۂ ملک کی تلاوت کرے، تو اللہ پاک اسے عذابِ قبرسےنجات عطافرمائے گا۔ اور ہم (صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) نے نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک زمانے میں اس سورۃ کانام المانعۃ یعنی عذاب سے دور کرنے والی رکھا ہوا تھا ، یہ قرآنِ پاک کی ایک سورت ہے، تو جو اسے ہر رات پڑھے، تو وہ بہت بڑا اور بہت اچھا عمل کرتا ہے۔ (السنن الکبریٰ، کتاب عمل الیوم واللیلۃ، جلد 9، صفحہ 262، مطبوعہ بیروت)
نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رات کے وقت سورۂ ملک پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ ترمذی شریف میں ہے:
عن جابر أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان لاينام حتى يقرأ الم تنزيل، و تبارك الذي بيده الملك
ترجمہ: حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ سجدہ اور سورۂ ملک پڑھے بغیر آرام نہیں فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی، أبواب فضائل القرآن، باب ماجآء في سورة الملك، جلد 2، صفحہ 580، مطبوعہ لاھور)
سورہ ملک کے متعلق وہ روایات جن میں قاری یعنی پڑھنے والے کے الفاظ نہیں لیکن جو الفاظ ہیں ان کا معنیٰ شارحین نے قاری ہی بیان کیا ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں "تشفع لصاحبھا" کے الفاظ ہیں، بعض میں "شفعت لرجل" کے، بعض میں تجادل عن صاحبها کے اور بعض میں خاصمت عن صاحبها کے الفاظ ہیں۔
سنن ترمذی، سنن ابو داؤد، مسند احمد، سنن دارمی، جمع الجوامع، معجم اوسط، كنز العمال وغيرہا کتبِ احادیث میں موجود ہے،
و اللفظ لابی داؤد: عن أبي هريرة، عنِ النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: سورة من القرآن ثلاثون آيةً تشفعُ لصاحبها حتى يغفر له(تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قرآنِ پاک کی ایک سورت ہے، جس کی تیس آیات ہیں، یہ اپنے صاحب ( پڑھنے والے) کی شفاعت کرے گی، یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے گا (اور وہ)
تبارک الذی بیدہ الملک
( یعنی سورۂ ملک) ہے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 547، مطبوعہ دار الرسالۃ العالمیہ)
مذکورہ بالا احادیث کی شرح میں فیض القدیر، شرح الزرقانی علی المؤطا، مرقاۃ المفاتیح، لمعات، التیسیر شرح جامع الصغیر، السراج المنیر وغیرہا کتبِ شروح حدیث میں ہے، اختصار کے پیشِ نظر چند حوالے پیش کیے جاتے ہیں، التیسیر میں ہے:
(عن صاحبها) أي قارئها الملازم لتلاوتها
ترجمہ: اپنے صاحب یعنی اپنے قاری (کی شفاعت کرے گی) جو اس کی تلاوت پر ہمیشگی اختیار کرتا ہوگا۔ (التيسير، جلد 2، صفحہ 62، مطبوعہ مکتبۃ الامام الشافعی، ریاض)
شرح الزرقانی علی المؤطا میں ہے:
(تجادل عن صاحبها) أي كثرة قراءتها تدفع غضب الرب
ترجمہ: یہ سورت کثرت سے تلاوت کرنے والے، اپنے قاری کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں بار بار عرضی پیش کرے گی، یہاں تک کہ اللہ پاک کا غضب ختم ہو جائے گا۔ (شرح الزرقانی، جلد 2، صفحہ 30، مطبوعہ قاھرہ)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
يعني كان رجل يقرؤها و يعظم قدرها فلما مات شفعت له حتى دفع عنه عذابه
ترجمہ: یعنی ایک شخص اس کی تلاوت کیا کرتا تھا، اس کو معظم جانتا تھا، وہ انتقال کر گیا، تو اس سورت نے اس کی شفاعت کی، یہاں تک کہ اس سے عذاب دور ہو گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1481، مطبوعہ بیروت)
تیسری قسم کی روایات جن میں قاری اور دیگر الفاظ نہیں ہیں لیکن شارحین نے انہیں قاری ہی پر محمول کیا ہے، حدیث موقوف کے الفاظ یہ ہیں:
عن عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: سورة تبارك، هي المانعة من عذاب القبر (الجامع الصحیح للسنن و المسانید)
اس کی تشریح التیسیر شرح جامع الصغیر میں قاری پر محمول کرنے کے الفاظ یہ ہیں:
(سورة تبارك هي المانعة من عذاب القبر) أي الكافة له عن قارئها إذا مات و وضع في قبره فلا يعذب فيه
ترجمہ: (عذابِ قبر سے روکنے والی ہے) یعنی اپنے قاری سے عذابِ قبر کو روکنے میں کافی ہے۔ جب سورۂ ملک کی تلاوت کرنے والا انتقال کرے گا اور اسے قبر میں رکھا جائے گا، تو اسے (سورۂ ملک پڑھنے کی وجہ سے) عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (التيسير، جلد 2، صفحہ 62، مطبوعہ مکتبۃ الامام الشافعی، ریاض)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سورۂ ملک کے متعلق عذابِ قبر وغیرہ سے نجات کی جو خاص فضیلت احادیثِ طیبہ میں بیان ہوئی ہے، وہ قراءت کرنے یعنی پڑھنے والے سے متعلق ہے، صرف سننے والے کے لیے اس فضیلت کا حصول احادیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی بھی حصے کی تلاوت سننے کا کوئی معمول ہے تو اسے جاری رکھا جائے لیکن یہ ضرور ذہن میں رہے کہ قراءت کے متعلق وارد خاص فضیلت سننے والے کو حاصل نہیں ہوگی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-8745
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1445ھ / 22 جنوری 2024ء