logo logo
AI Search

ہر شے مجھ پر روشن ہوگئی حدیث پاک کی وضاحت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حدیث پاک :"ہر شے مجھ پر روشن ہوگئی" کی وضاحت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ ہر شے مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے جان لیا، اس سے کیا مراد ہے؟

جواب

حدیث پاک میں الفاظ یوں ہیں: ”مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لیا“ اس حدیثِ مبارک کے ان الفاظ کی شرح یہ ہے کہ:

"عالمِ علوی ہو، یاسفلی، غیب ہو یا شہادت، ان کا ہرہرذرہ مجھ پرنہ فقط ظاہر ہوا، بلکہ میں نے ہر ایک کو الگ الگ پہچان بھی لیا۔"

 علم اور معرفت میں یہی فرق ہے کہ کسی مجمع کو دیکھ کر یہ جان لینا کہ یہاں دو لاکھ آدمی بیٹھے ہیں، یہ علم ہے اور ان دو لاکھ میں سے ہر شخص کی الگ الگ حالت اور تفصیل جان لینا، یہ معرفت ہے۔

نیز یہ واقعہ بھی حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے علم کا ایک سبب بنا کہ اس واقعہ سے پہلے جن بعض چیزوں کا علم نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان سب چیزوں کا بھی علم عطا فرما دیا۔یہی مفہوم قرآن کریم کی آیات اور دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا علم نہ تھا، وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو عطا فرمادیا گیا۔ اور یقینا یہ کیفیت بعد میں بھی برقرار رہی۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: (وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ) ترجمہ کنز العرفان: اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے۔ (القرآن، پارہ 5، سورۃ النساء، آیت: 113)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”یہ آیتِ مبارکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظیم مدح پر مشتمل ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے۔“ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 304، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ہر چیز روشن ہوجانے کے متعلق حدیثِ مبارک میں ہے:

”فإذا أنا بربي تبارك وتعالى في أحسن صورة۔۔۔ فرأيته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد أنامله بين ثديي، فتجلى لي كل شيء وعرفت“

ترجمہ: میں نے اپنے رب تبارک و تعالی کو (اس کی شان کے لائق) بہترین صورت میں دیکھا، میں نے دیکھا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی اور پھر مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لیا۔ (سنن الترمذی، صفحہ 1184، حدیث: 3235، دار ابن کثیر)

مذکورہ بالا حدیثِ مبارک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے

”(فتجلى)، أي: انكشف وظهر (لي كل شيء)، أي: مما أذن الله في ظهوره لي من العوالم العلوية والسفلية مطلقا“

ترجمہ: مجھ پر ہر چیز روشن ہوگئی یعنی عالم علوی و سفلی میں سے مطلقا ہروہ چیز کہ جس کے ظاہر ہونے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی، وہ سب میرے لیے واضح اور روشن ہوگئی۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 2، صفحہ 626، مطبوعہ: بیروت)

یونہی مراۃ المناجیح میں ہے"یعنی علوی اورسفلی عالم غیب وشہادت کا ہرذرہ مجھ پرفقط منکشف ہی نہ ہوا بلکہ میں نے ہر ایک کو الگ الگ پہچان لیا۔ علم اور معرفت میں بڑا فرق ہے، مجمع پر نظرڈال کر جان لینا کہ یہاں دو لاکھ آدمی بیٹھے ہیں یہ علم ہے اور ان میں سے ہر ایک کے سارے حالات معلوم کرلینا معرفت۔ " (مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 460، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

یہ واقعہ بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علم میں اضافے کا ایک سبب بنا، چنانچہ اسی مفہوم کی ایک حدیثِ مبارک کے تحت علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 911ھ/1505ء) لکھتےہیں:

”يدل على أن وصول ذلك الفيض صار سببا لعلمه“

  ترجمہ: یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ فیض پہنچنا، حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علم کا سبب بنا۔ (قوت المغتذی على جامع الترمذی، جلد 2، صفحہ 798، مطبوعہ: المکۃ المکرمۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4677
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447 ھ/21 جنوری 2026ء