logo logo
AI Search

شمالی ہوا کے حکم نہ ماننے کی تحقیق اور اعتراض کا جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

غزوہ احزاب کے موقع پر شمالی ہوا کے حکم نہ ماننے کی تحقیق

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ملفوظات اعلی حضرت میں ہے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر شمالی ہوا نے حکم نہیں مانا، تو اللہ نے اسے بانجھ کردیا، کیا یہ واقعہ درست ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہوا پر اللہ کا حکم نہ چلا ہو؟

جواب

مذکورہ اعتراض معمولی عقل، ادنی فہم، چرب زبانی اور سستی کامیڈی کا ایک  گھٹیا نمونہ ہے۔ سوال میں ”ملفوظات اعلی حضرت“ کے حوالے سے بیان کیا گیا واقعہ بالکل درست ہے۔ اس حوالے سے اولاً یہ ذہن نشین رہے کہ اس واقعہ کو محض ”ملفوظات اعلی حضرت“ میں نہیں، بلکہ تفسیر و سیرت کی مختلف کتب (جیسے تفسیر طبری، تفسیر خازن، تفسیر قرطبی، تفسیر بغوی، تفسیر درمنثور، تفسیر معالم التنزیل، تفسیر ابن کثیر، تفسیر امام ابن ابی حاتم الرازی، الھدایہ الی بلوغ النھایہ، مسند امام بزار، ارشاد الساری شرح صحیح بخاری، فیض القدیر، البدایہ والنہایہ، میزان الاعتدال، الخصائص الکبری، عیون الاخبار، مجمع الزوائد، شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ، مدارج النبوۃ وغیرہ) میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، لہذا یہ اعتراض محض امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ پر نہیں، بلکہ مذکورہ تمام کتب کے مؤلفين پر ہوگا، جوکہ درست نہیں۔

غزوہ احزاب میں بھیجی گئی ہوا کے متعلق اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر کچھ لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے اور الله تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ (القرآن، پارہ21، سورۃ الاحزاب، آیت9)

اس آیت کے تحت تفسیر طبری و دیگر کتبِ تفاسیر میں ہے:

”عن عكرمة، قال: قالت الجنوب للشمال ليلة الأحزاب: انطلقي ننصر رسول اللہ صلي اللہ تعالى عليه وآلہ وسلم فقالت الشمال: إن الحرة لا تسرى بالليل. قال: فكانت الريح التي أرسلت عليهم الصبا“

ترجمہ: عکرمہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احزاب کی رات جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے کہا: آؤ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں، تو شمالی ہوا نے کہا: آزاد عورت رات کے وقت سفر نہیں کرتی۔ پس ان (کفار) پر صَبا بھیجی گئی۔ (تفسیر طبری، جلد 19، صفحہ 25، مطبوعہ دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان، القاهرة)

اسی طرح شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ میں ہے:

”روی ابن مردویہ والبزار وغیرھما برجال الصحیح، عن ابن عباس قال: لما کانت لیلۃ الاحزاب قالت الصبا للشمال: اذھبی بنا ننصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فقالت: ان الحرائر لاتھب باللیل، فغضب اللہ علیھا، فجعلھا عقیما وارسل الصبا، فاطفأت نیرانھم وقطعت اطنابھم فقال: صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصرت بالصبا واھلکت عاد بالدبور“

ترجمہ: ابنِ مردویہ، بزار اور دیگر محدثین نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: جب غزوۂ احزاب کی رات آئی تو صَبانے شمالی ہوا سے کہا: آؤ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں، تو شمالی ہوا نے کہا: آزاد عورتیں رات کو نہیں چلتیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس پر غضب فرمایا اور اسے بانجھ (بے اثر) بنا دیا، اور صَبا کو بھیج دیا۔ پس اس نے ان کی آگیں بجھا دیں اور ان کے خیموں کی رسیاں کاٹ دیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری صَبا ہوا کے ذریعے مدد دی گئی، اور قومِ عاد کو دَبور ہوا کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، جلد 3، صفحہ 55، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

مذکورہ روایت اور اعلیٰ حضرت کے کلام کی تشریح:

اعلی حضرت علیہ الرحمۃ نے یہ (شمالی ہوا کی نافرمانی اور اس کی سزایابی کا) واقعہ حیوانات، نباتات اور جمادات میں مادہ معصیت (یعنی نا فرمانی کا عنصر) پائے جانے اور اس کی وجہ سے سزا یاب ہونے کے استشہاد میں بیان فرمایا ہے اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جن و انس کے علاوہ حیوانات وغیرہ بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی سزا پاتے ہیں، جیسا کہ (١) نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے گرگٹ کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے بھڑکائی گئی آگ کو تیز کرنے کے لئے اس پر پھونکتا تھا۔(٢) اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ جانور کا شکار کیا جانا اور درخت کا  کاٹا جانا، تسبیح کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے، پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بے ادبی کے سبب گرگٹ کے قتل کا حکم اور تسبیح ترک کرنے کے سبب جانوروں کا شکار ہونا اور درختوں کا کاٹا جانا، ان میں مادہ معصیت کے پائے جانے اور ان کو سزا دیے جانےکی واضح دلیل ہے، بالکل اسی طرح شمالی ہوا کو بھی حکم کی تعميل نہ کرنے کے سبب بانجھ کردیا گیا۔

چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث پاک میں ہے:

”والنظم للاول: عن أم شريك رضي اللہ عنها: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمر بقتل الوزغ. وقال: كان ينفخ على إبراهيم“

ترجمہ: حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرگٹ کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا وہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکتا تھا۔ (صحیح بخاری، جلد 4، صفحہ 141، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)

اسی طرح ایک اور روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

”ما صيد صيد ولا عضدت عضاة ولا قطعت شجرة إلا بقلة التسبيح“

یعنی جو جانور بھی شکار ہوتا ہے اور جو درخت بھی کاٹا جاتا ہے وہ تسبیح کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (کنزالعمال، جلد 1، صفحہ 445، مطبوعہ مؤسسة الرسالة)

فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”اعلی حضرت قدس سرہ نے اس ارشاد میں یہی افادہ فرمایا ہے کہ مادہ معصیت حیوانات، نباتات، جمادات میں بھی ہے۔۔۔احادیث و تفاسیر سے یہ بات ثابت ہے کہ جن و انس کے علاوہ حیوانات وغیرہ بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی سزا بھگتے ہیں۔“ (تحقیقات ملخصاً، صفحہ 120 تا 122، مطبوعہ فرید بک سٹال، لاہور)

حکم کی تعمیل نہ کرنے اور اپنی بات پورا نہ کروا سکنے میں فرق:

حکم کی تعمیل نہ کرنے اور حکم نہ چلنے یعنی کسی سے اپنی بات پورا نہ کروا سکنے میں فرق ہے، حکم نہ چلنا حاکم کے عاجز ہونے کی دلیل ہے اور کسی سرکش کا حکم کی تعمیل نہ کرنا، حاکم کے عاجز ہونے کی دلیل نہیں۔ ویسے یہ تو بات عقل کی بدیہیات میں سے ہے جیسے دنیا میں ہر انسان کو خدا نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے لیکن اس وقت چھ ارب سے زائد لوگ یہ حکم نہیں مان رہے اور کافر ہیں تو کیا لوگوں کے حکم نہ ماننے سے خدا کو عاجز کہیں گے اور وہ بھی معاذ اللہ چھ ارب لوگوں میں سے ہر ایک نے فردا فردا خدا کو عاجز کر دیا کہ انہوں نے خدا کے حکم کی تعمیل نہ کی؟ ہرگز نہیں، کیونکہ معمولی سی عقل رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ اسے لوگوں کی نافرمانی کہیں گے، خدا کا عاجز ہونا نہیں۔ اس قدر واضح ہونے کے باوجود کچھ لوگوں کی عقل حد سے زیادہ ناقص ہے، ان کے لئے کچھ نظائر قرآن و حدیث سے بیان کردیتے ہیں؛

(۱) شیطان کا اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کر تے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنا۔

(۲)جنوں اور انسانوں کی اکثریت کا نافرمان ہونا قرآن مجید میں مذکور ہے۔

(۳) مسلمانوں کی ایک تعداد کا شرعی احکام کی پابندی نہ کرنا اور منہی عنہ (یعنی جن چیزوں سے منع کیا گیا ہےان) سے نہ بچنا۔

اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ عزوجل کا ان پر حکم نہیں چلا، بلکہ اس کی صحیح تعبیر یہ ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے حکم کی نا فرمانی کی، بالکل اسی طرح  شمالی ہوا کو حکم ہوا کہ کافروں کو نیست و نابود کر، مگر اس نے نا فرمانی کی، اس کی بھی صحیح تعبیر یہ ہے کہ  اس نے حکم کی تعمیل نہیں کی اور اس نا فرمانی پر اسے بانجھ کر دیا گیا، لہذا مسئولہ واقعہ اپنی سند و معنی کے اعتبار سے بالکل درست ہے، اس پر کسی قسم کا کوئی کلام نہیں ہے ورنہ اگر ہوا کے بات نہ ماننے سے خدا کا عاجز ہونا ایک مرتبہ ثابت ہوتا ہے، معاذ اللہ، تو اربوں لوگوں کی مجموعی کھربوں نافرمانیاں تو اتنا زیادہ خدا کو معاذ اللہ عاجز قرار دینے کی دلیل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ عقل و ایمان کی ایسی خرابی اور بدبختی سے بچائے۔

شیطان کے سجدہ سے انکار کے متعلق اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

”وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ“

ترجمہ کنز العرفان: اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہو گیا۔ (القرآن، پارہ1، سورۃ البقرۃ، آیت34)

شمالی ہوا حکم کی تعمیل نہ کرنے سبب بانجھ ہوئی، یہ تعبیر ہرگز درست نہیں کہ اللہ کا حکم اس پر نہیں چلا، جیسا کہ فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”جو واقعات اعلی حضرت قدس سرہ نے بیان فرمائے ہیں ان سے ظاہر یہ ہے کہ شمالی ہوا نے حکم خداوندی کی تعمیل نہیں کی۔ تعمیل حکم نہ کرنے اور حکم نہ چلنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، مگر قران کریم کی تحریف لفظی و معنوی کے پرانے مجرموں سے اس کی کیا شکایت۔ حکم نہ چلنا حاکم کے عجز کی دلیل ہے اور کسی سرکش کا تعمیل حکم نہ کرنا اور تمرد و نافرمانی کی سزا پانا عجز کی دلیل نہیں۔۔۔یہاں دوسری صورت ہے پہلی نہیں۔۔۔ناظرین غور کریں اللہ عزوجل نے ابلیس لعین کو حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کر، اس نے سجدہ نہیں کیا۔ یہ شیطان کی سرکشی و نافرمانی ہے۔اس کی تعبیر یہ ہے کہ شیطان نے نافرمانی کی۔ یہ تعبیر غلط ہے کہ شیطان پر اللہ کا حکم نہیں چلا۔ اللہ نے جن و انس کو حکم دیا کہ ایمان لاؤ، اکثر نے نافرمانی کی۔ اس کی صحیح تعبیر یہی ہے کہ اکثر نے نافرمانی کی۔ یہ تعبیر غلط ہے کہ اللہ کا حکم نہیں چلا۔ اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اوامر شرعیہ کی پابندی کرو نواہی سے بچو۔ اکثر نے نافرمانی کی اس کی صحیح تعبیر یہی ہے کہ اکثر نے نافرمانی کی۔ یہ تعبیر غلط ہے کہ اللہ کا حکم نہیں چلا۔ اسی طرح باد شمال کو اللہ عزوجل کا حکم ہوا کہ کافروں کو نیست و نابود کر، اس نے نافرمانی کی اس کی بھی صحیح تعبیر یہی ہے کہ اس نے تعمیل حکم نہیں کی نافرمانی کی۔ اس کو بدل کر یوں کہنا کہ اس سے یہ لازم آیا ہے کہ اللہ عزوجل کا حکم باد شمال پر نہیں چلا، دنیائے صحافت کا بدترین جرم ہے۔“ (تحقیقات، صفحہ 118، 117، مطبوعہ فرید بک سٹال، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0187
تاریخ اجراء: 06 رجب المرجب1447ھ/27 دسمبر