بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن میں ہے: موت کا وقت مقرر ہے جس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی، جبکہ حدیث میں ہے کہ صدقہ عمر بڑھا دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت میں تعارض ہے؟ یا پھر کیا مراد ہے؟ درست تشریح بیان فرما دیں۔
اولاً یہ یاد رہے کہ قرآن اور احادیث صحیحہ میں تعارض نہیں ہوتا اور جہاں کہیں بظاہر تعارض نظر آتا ہے، وہاں پر علمائے محققین کی تفسیر و تطبیق پڑھنے سے بظاہر نظر آنے والا تعارض بالکل ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے کہ خدا تعالی فرماتا ہے کہ موت کا وقت متعین ہے جس میں تاخیر و تعجیل نہیں ہو سکتی، جبکہ رسولِ خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: صلۂ رحمی اور صدقہ عمر میں اضافہ کرتے ہیں، حالانکہ ان دونوں باتوں میں درحقیقت کوئی تعارض نہیں ہے اور جو بظاہر نظر آتا ہے، اس کے علمائے کرام نے متعدد جوابات دیے ہیں:
(1)حدیث میں عمر بڑھنے سے وقت کے اضافہ کے اعتبار سے عمر بڑھ جانا مراد نہیں ہے، بلکہ عمر میں خیر و برکت کا آ جانا ہے، یعنی صدقہ اور صلۂ رحمی کرنے سے صحت و عافیت کے ساتھ نیکیوں بھری زندگی گزرتی ہے جو کہ بیماری و مصیبت کے ساتھ گزری زندگی سے کئی درجے بہتر ہے۔
(2) عمر بڑھنے سے مراد ذکرِ خیر کا باقی رہنا ہے، یعنی غرباء پر صدقہ اور رشتے داروں سے صلۂ رحمی کرنے والے شخص کا فوت ہو جانے کے باوجود بھی لوگوں میں ذکرِ خیر باقی رہتا ہے، گمنام نہیں ہوتا، تو یوں ذکر کا جاری رہنا عمر بڑھنے سے کنایہ ہے۔
(3)عمر میں وقت کے اعتبار سے اضافہ مراد لیا جائے، تو یہ اضافہ فرشتوں کے علم کے اعتبار سے ہے، علمِ الٰہی کے اعتبار سے نہیں، یعنی ایک شخص کی عمر فرشتہ کے علم میں پچاس سال ہے اور اگر کوئی نیکی کرتا ہے، تو اس کی عمر دس سال مزید بڑھ کر ساٹھ سال ہو جائے گی، اب فرشتہ کے علم کے اعتبار سے پچاس سال سے ساٹھ سال کی طرف عمر بڑھی، لیکن علمِ الٰہی میں پہلے ہی موجود تھا کہ یہ شخص نیکی کرے گا اور اس کی عمر بڑھ کر ساٹھ سال ہو جائے گی، تو یوں موت کا وقت اللہ کے علم میں یقینی و حتمی رہا جس میں تاخیر و تعجیل ناممکن ہے اور یہی آیات ِکریمہ سے مراد ہے، جبکہ حدیث میں عمر بڑھنے کا ذکر فرشتوں کے علم کے اعتبار سے ہے اور فرشتوں کے علم میں موت کی تقدیم و تاخیر ممکن ہوتی ہے۔
موت کا وقت مقرر ہے:
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے، تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔ (القرآن الکریم، پارۃ8، سورۃ الاعراف، آیت 34)
صدقہ عمر میں اضافہ کرتا ہے:
المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:
”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن صدقة المسلم تزيد في العمر، وتمنع ميتة السوء ويذهب اللہ بها الكبر والفخر“
ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مسلمان کا صدقہ (خیرات) عمر میں اضافہ کرتا ہے، بُری موت سے بچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تکبّر اور فخر کو دور فرما دیتا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 17، صفحہ 22، مطبوعۃ القاهرة)
مذکورہ حدیث کی فنی حیثیت:
فتح القریب المجیب میں ہے:
”قد حسنها الترمذي وصححها ابن خزيمة“
ترجمہ: اس حدیث کو امام ترمذی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے صحیح کہا ہے۔ (فتح القريب المجيب، جلد 5، صفحہ 387، مطبوعۃ الرياض)
مذکورہ حدیث پاک کی وضاحت:
علامہ ملا علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
”ولا يزيد في العمر: بضم الميم وتسكن «إلا البر»: بكسر الباء وهو الاحسان والطاعة. قيل: يزاد حقيقة. قال تعالى: ﴿وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ﴾ وقال: ﴿یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴾ وذكر في الكشاف أنه لا يطول عمر إنسان ولا يقصر إلا في كتاب. وصورته: أن يكتب في اللوح إن لم يحج فلان أو يغز فعمره أربعون سنة، وإن حج وغزا فعمره ستون سنة، فإذا جمع بينهما فبلغ الستين فقد عمر، وإذا أفرد أحدهما فلم يتجاوز به الأربعين فقد نقص من عمره الذي هو الغاية وهو الستون، وذكر نحوه في معالم التنزيل، وقيل: معناه أنه إذا بر لا يضيع عمره فكأنه زاد، وقيل: قدر أعمال البر سببا لطول العمر، كما قدر الدعاء سببا لرد البلاء، فالدعاء للوالدين وبقية الأرحام يزيد في العمر، إما بمعنى أنه يبارك له في عمره فييسر له في الزمن القليل من الأعمال الصالحة ما لا يتيسر لغيره من العمل الكثير، فالزيادة مجازية، لأنه يستحيل في الآجال الزيادة الحقيقية قال الطيبي: اعلم أن اللہ تعالى إذا علم أن زيدا يموت سنة خمسمائة استحال أن يموت قبلها أو بعدها، فاستحال أن تكون الآجال التي عليها علم اللہ تزيد أو تنقص، فتعين تأويل الزيادة أنها بالنسبة إلى ملك الموت أو غيره ممن وكل بقبض الأرواح، وأمره بالقبض بعد آجال محدودة، فإنه تعالى بعد أن يأمره بذلك أو يثبت في اللوح المحفوظ ينقص منه أو يزيد على ما سبق علمه في كل شيء وهو بمعنى قوله تعالى: ﴿یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴾ وعلى ما ذكر يحمل قوله عز وجل: ﴿ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ﴾ فالإشارة بالأجل الأول إلى ما في اللوح المحفوظ، وما عند ملك الموت وأعوانه، وبالأجل الثاني إلى ما في قوله تعالى: ﴿وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴾ وقوله تعالى: ﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾ والحاصل أن القضاء المعلق يتغير، وأما القضاء المبرم فلا يبدل ولا يغير۔ (رواه الترمذي): وكذا ابن ماجه عن سلمان، وابن حبان، والحاكم وقال: صحيح الإسناد عن ثوبان، وفي روايتيهما: لا يرد القدر إلا الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر، وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يذنبه“
ترجمہ: اور عمر میں اضافہ نہیں ہوتا: "عمر" میں میم پر پیش ہے اور "البر" میں باء زیر کے ساتھ ہے، یعنی احسان اور اطاعت۔ بعض نے کہا کہ اس سے حقیقی اضافہ مراد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ اس کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر کتاب میں (لکھا ہوا ہوتا ہے)۔ اور فرمایا: اللہ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے ثابت رکھتا ہے، اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ کشاف میں لکھا ہے: کسی انسان کی عمر نہ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے مگر کتاب (لوحِ محفوظ) میں۔ اس کی صورت یوں ہے: لوح میں لکھا ہو کہ اگر فلاں حج یا جہاد نہ کرے، تو اس کی عمر چالیس سال ہے اور اگر حج اور جہاد کرے، تو اس کی عمر ساٹھ سال ہے، پھر اگر اس نے دونوں کیے اور عمر ساٹھ تک پہنچ گئی، تو یہ زیادہ ہوئی اور اگر ان میں سے ایک کیا اور چالیس سے آگے نہ بڑھا، تو یہ اس غایت(مقررہ حد) سے کم ہوئی جو ساٹھ تھی۔ معالم التنزیل میں بھی اسی کے قریب لکھا ہے۔ ایک قول یہ ہے: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی نیکی کرتا ہے تو اس کی عمر ضائع نہیں ہوتی، تو گویا اس میں اضافہ ہو گیا۔ بعض نے کہا کہ اللہ نے نیک اعمال کو طولِ عمر کا سبب بنایا ہے، جیسے اس نے دعا کو بلا کو ٹالنے کا سبب بنایا، لہٰذا والدین اور دیگر رشتہ داروں کے لیے دعا کرنا عمر میں اضافہ کرتا ہے، یعنی اس کے کم وقت میں ایسے نیک اعمال کی توفیق مل جاتی ہے، جو دوسروں کو زیادہ عمر میں بھی نصیب نہیں ہوتے۔ پس یہ اضافہ مجازاً ہے، کیونکہ حقیقی اضافہ اجل کے بارے میں عقلاً محال ہے۔ طِیبی نے کہا: جان لو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ ہو کہ زید کی موت سن 500 ہجری میں ہو گی، تو اِس کا اس سے پہلے یا بعد مرنا محال ہے، لہٰذا اللہ کے علم میں درج مدتوں میں اضافہ یا کمی ہونا محال ہے، لہٰذا عمر میں زیادتی کی تاویل یہ ہے کہ یہ اضافہ ملک الموت یا اس فرشتے کے علم کے اعتبار سے ہے جسے روح قبض کرنے پر مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں متعین مدتوں کے بعد روح قبض کرنے کا حکم دیتا ہے، پھر اللہ پاک اس حکم کے بعد یا لوحِ محفوظ میں درج مدت کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ فرمادیتا ہے، حالانکہ اللہ پاک کے علم میں ہر چیز پہلے سے موجود ہے اور یہی بات اللہ پاک کے اس فرمان کا مفہوم ہے: اللہ تعالی جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی اسی پر محمول کیا جائے: ﴿ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا-وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ﴾۔ پہلا اجل اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو لوحِ محفوظ میں فرشتوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور دوسرا اجل وہ ہے جو اللہ کے "امّ الکتاب" کے علم میں ہے اور یہ آیت: ﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾ اس قضاء مبرم کے متعلق ہے، جو نہ بدلی جاتی ہے نہ تبدیل ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے: قضاء معلّق بدل سکتی ہے اور قضاء مبرم کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ (ترمذی میں روایت ہے)؛ اور یونہی ابن ماجہ نے حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے اور ان دونوں کی روایتوں میں یہ الفاظ ہیں: تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز ٹال نہیں سکتی، عمر میں اضافہ نیکی ہی سے ہوتا ہے اور بندہ کبھی گناہ کر کے اپنے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1528، مطبوعہ دار الفكر، بيروت، لبنان)
السراج المنیر میں ہے:
”تكون سبا لصرفه في طاعة اللہ وقال المناوی لا ينافي زيادته في العمر ﴿ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ ﴾الآية لأن المقدر لكل شخص الأنفاس المعدودة لا الايام المحدودة ولا الاعوام الممدودة وما قدر من الانفاس يزيد وينقص بالصحة والمرض (وتمنع ميتة السوء) بكسر الميم وفتح السين أراد مالا تحمد عاقبته من الحالات الرديئة كالحرق والغرق“
ترجمہ: نیکی (صدقہ اور صلۂ رحمی) اللہ کی اطاعت میں انسان کی عمر کو خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ امام مناوی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے کہا: یہ بات کہ عمر میں اضافہ ہوتا ہے آیت ﴿وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ﴾کے خلاف نہیں، کیونکہ ہر شخص کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ گنتی کے لحاظ سے سانسوں کی تعداد ہے، نہ کہ محدود دن اور طویل سال۔ اور جو سانسیں مقرر کی گئی ہیں وہ صحت اور بیماری کی وجہ سے بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہیں۔(اور یہ نیکی) بُری موت سے بچاتی ہے یعنی ایسی موت سے جس کا انجام پسندیدہ نہ ہو، جیسے آگ میں جل کر مر جانا، یا پانی میں ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (السراج المنیر شرح الجامع الصغیر، جلد 3، صفحہ 257، مطبوعہ بیروت)
شارِح بخاری، امام احمد بن محمد قسطلانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں:
”وفي العمر حصول القوة في الجسد أو يبقى ثناؤه الجميل على الألسنة فكأنه لم يمت، وبأنه يجوز أن يكتب في بطن أمه إن وصل رحمه فرزقه وأجله كذا وإن لم يصل فكذا“
ترجمہ: عمر میں اضافہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کے جسم میں طاقت اور توانائی باقی رہتی ہے، یا اس کا ذکرِ خیر لوگوں کی زبانوں پر جاری رہتا ہے، گویا وہ مرا ہی نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جائے کہ اگر یہ صلۂ رحمی کرے گا، تو اس کا رزق اور اس کی عمر اتنی ہوگی، اور اگر صلۂ رحمی نہیں کرے گا، تو اتنی ہوگی۔ (ارشاد الساری الی صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ 17، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)
آیت مبارکہ اور حدیث پاک میں تطبیق:
شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں: ”﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾ قلت اجيب عن هذا بوجهين (احدهما) ان هذه الزيادة بالبركة في العمر بسبب التوفيق في الطاعات وصيانته عن الضياع وحاصله انها بحسب الكيف لا الكم (والثاني) أن الزيادة على حقيقتها وذلك بالنسبة إلى علم الملك الموكل بالعمر وإلى ما يظهر له في اللوح المحفوظ بالمحو والإثبات فيه ﴿یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ﴾ كما أن عمر فلان ستون سنة إلا أن يصل رحمه فإنه يزاد عليه عشرة وهو سبعون وقد علم اللہ عز وجل بما سيقع له من ذلك فبالنسبة إلى اللہ تعالى لا زيادة ولا نقصان ويقال له القضاء المبرم وإنما يتصور الزيادة بالنسبة إليهم ويسمى مثله بالقضاء المعلق ويقال المراد بقاء ذكره الجميل بعده فكأنه لم يمت وهو إما بالعلم الذی ينتفع به أو الصدقة الجارية أو الخلف الصالح“ ترجمہ: تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔ میں کہتا ہوں کہ اس (عمر میں اضافہ والی روایت) کا دو پہلو سے جواب دیا گیا ہے، (پہلا جواب): اس زیادتی سے مراد عمر میں برکت ہے جو نیک اعمال کی توفیق اور گناہوں سے بچاؤ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ اضافہ مقدار کے لحاظ سے نہیں بلکہ کیفیت کے لحاظ سے ہے۔(دوسرا جواب): اس سے حقیقی اضافہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے، مگر یہ اضافہ اس فرشتے کے علم کے مطابق ہے جو انسان کی عمر پر مقرر ہے اور اس بات کے مطابق ہے جو لوحِ محفوظ میں ظاہر ہوتا ہے جہاں محو اور اثبات ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔ مثلاً فلاں شخص کی عمر ساٹھ سال ہے، لیکن اگر وہ صلۂ رحمی کرے، تو اس میں دس سال کا اضافہ کر دیا جائے گا اور وہ ستر سال کی ہو جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، لہٰذا اللہ کے علم کے اعتبار سے نہ کوئی اضافہ ہے نہ کمی، اسے قضاء مبرم کہا جاتا ہے، جبکہ فرشتوں کے علم کے اعتبار سے اضافہ کا تصور ہوتا ہے اور اسے قضاء معلّق کہتے ہیں۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کا ذکرِ خیر اس کے بعد باقی رہتا ہے، گویا وہ زندہ ہی ہے۔ اور یہ یا تو اس علم کی وجہ سے ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، یا صدقۂ جاریہ یا نیک اولاد کی وجہ سے۔ (عمدۃ القاری، جلد 22، صفحہ 91، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:
”قال ابن التين: ظاهر الحديث يعارض قوله تعالى: ﴿ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴾ والجمع بينهما من وجهين: أحدهما: أن هذه الزيادة كناية عن البركة في العمر بسبب التوفيق إلى الطاعة، وعمارة وقته بما ينفعه في الآخرة، وصيانته عن تضييعه في غير ذلك. ومثل هذا ما جاء أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم تقاصر أعمار أمته بالنسبة لأعمار من مضى من الأمم فأعطاه اللہ ليلة القدر. وحاصله أن صلة الرحم تكون سببا للتوفيق للطاعة والصيانة عن المعصية فيبقى بعده الذكر الجميل، فكأنه لم يمت۔ ومن جملة ما يحصل له من التوفيق العلم الذی ينتفع به من بعده، والصدقة الجارية عليه، والخلف الصالح. وسيأتي مزيد لذلك في كتاب القدر إن شاء اللہ تعالى ثانيهما: أن الزيادة على حقيقتها، وذلك بالنسبة إلى علم الملك الموكل بالعمر، أما الأول الذي دلت عليه الآية فبالنسبة إلى علم اللہ تعالى، كأن يقال للملك مثلا: إن عمر فلان مائة مثلا إن وصل رحمه، وستون إن قطعها وقد سبق في علم اللہ أنه يصل أو يقطع، فالذی في علم اللہ لا يتقدم ولا يتأخر، والذی في علم الملك هو الذی يمكن فيه الزيادة والنقص وإليه الإشارة بقوله تعالى: ﴿یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴾ فالمحو والإثبات بالنسبة لما في علم الملك، وما في أم الكتاب هو الذی في علم اللہ تعالى فلا محو فيه ألبتة. ويقال له القضاء المبرم، ويقال للأول القضاء المعلق. والوجه الأول أليق بلفظ حديث الباب، فإن الأثر ما يتبع الشيء، فإذا أخر حسن أن يحمل على الذكر الحسن بعد فقد المذكور. وقال الطيبي: الوجه الأول أظهر، وإليه يشير كلام صاحب الفائق قال: ويجوز أن يكون المعنى أن اللہ يبقي أثر واصل الرحم في الدنيا طويلا فلا يضمحل سريعا كما يضمحل أثر قاطع الرحم. ولما أنشد أبو تمام قوله في بعض المراثي: توفيت الآمال بعد محمد۔۔۔ واصبح في شغل عن السفر السفرقال له أبو دلف: لم يمت من قيل فيه هذا الشعر. ومن هذه المادة قول الخليل عليه السلام: ﴿وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ﴾ وقد ورد في تفسيره وجه ثالث، فأخرج الطبراني في الصغير بسند ضعيف عن أبي الدرداء قال: ذكر عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من وصل رحمه أنسئ له في أجله، فقال: إنه ليس زيادة في عمره، قال اللہ تعالى: ﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ﴾ الآية ; ولكن الرجل تكون له الذرية الصالحة يدعون له من بعده. وله في الكبير من حديث أي مشجعة الجهني رفعه إن اللہ لا يؤخر نفسا إذا جاء أجلها، وإنما زيادة العمر ذرية صالحة الحديث. وجزم ابن فورك بأن المراد بزيادة العمر نفي الآفات عن صاحب البر في فهمه وعقله. وقال غيره في أعم من ذلك وفي وجود البركة في رزقه وعلمه ونحو ذلك“
ترجمہ: ابن التین نے کہا: بظاہر حدیث کا مفہوم اللہ پاک کے اس فرمان کے خلاف محسوس ہوتا ہے: تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے، لیکن ان دونوں میں تطبیق دو اعتبار سے ممکن ہے، پہلا قول: یہ اضافہ عمر میں برکت سے کنایہ ہے جو نیک اعمال کی توفیق، اپنے وقت کو آخرت کے فائدے کے لیے استعمال کرنے اور فضول و گناہ کے کاموں سے بچاؤ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح کی مثال یہ ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: پچھلی امتوں کے مقابلے میں میری امت کی عمریں کم ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شبِ قدر عطا کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ صلۂ رحمی بندے کے لیے طاعت کی توفیق اور معصیت سے حفاظت کا سبب بنتی ہے اور اس کے بعد اس کا ذکرِ خیر باقی رہتا ہے، گویا وہ مرا ہی نہیں۔ اور اس توفیق میں یہ چیزیں شامل ہیں: ایسا علم چھوڑ جانا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، اس کے لئے کیا جانے والا صدقۂ جاریہ اور نیک اولاد۔ مزید تفصیل کتاب القدر میں آئے گی، ان شاء اللہ۔ دوسرا قول: یہ اضافہ حقیقی بھی ہو سکتا ہے، لیکن یہ فرشتہ کے علم کے اعتبار سے ہے جو انسان کی عمر پر مقرر کیا گیا ہے، بہرحال قرآن کی آیت جس میں وقتِ اجل کے نہ بڑھنے گھٹنے کی بات ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے بارے میں ہے، مثلاً فرشتہ کو یہ حکم دیا جاتا ہے: فلاں شخص کی عمر سو سال ہے اگر وہ صلہ رحمی کرے اور ساٹھ سال ہے اگر وہ صلہ رحمی نہ کرے، اور اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے یہ درج ہوتا ہے کہ وہ صلۂ رحمی کرے گا یا نہیں، لہٰذا اللہ کے علم میں کوئی بڑھوتری یا کمی نہیں۔ اور فرشتہ کا علم جس میں زیادتی و کمی کا احتمال ہوتا ہے، اسی مفہوم کی طرف قرآن کی آیت اشارہ کرتی ہے: اللہ جو چاہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہے ثابت رکھتا ہے، اور اصل کتاب (امّ الکتاب) اسی کے پاس ہے۔ محو و اثبات فرشتوں کے علم میں ہوتا ہے اور جو کچھ امّ الکتاب میں ہے، وہ اللہ کے علم میں ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ پہلے کو قضا مبرم، جبکہ دوسرے کو قضا معلق کہا جاتا ہے۔ پہلا قول حدیث کے الفاظ کے زیادہ مطابق ہے، کیونکہ ”اثر“ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی کے بعد باقی رہے۔ تو"اثرِ حسن" سے مراد اچھا ذکر باقی رہنا ہے۔ طِیبی نے کہا: پہلا جواب زیادہ واضح ہے اور اس کی طرف صاحبِ فائق کا کلام بھی اشارہ کرتا ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ صلۂ رحمی کرنے والے کا اثر دنیا میں دیر تک باقی رکھتا ہے اور اس کا اثر جلد ختم نہیں ہوتا، جیسا کہ قاطعِ رحم کے اثرات جلد مٹ جاتے ہیں۔ جب ابوتمام نے مرثیہ میں کہا: محمد کے بعد تو امیدیں ہی فوت ہوگئیں۔۔۔اور سفر سے بھی لوگ بے نیاز ہوگئے، تو ابو دلف نے کہا: جس کے بارے میں ایسا شعر کہا جائے، وہ مرا نہیں کرتا۔ اسی معنی سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام کی یہ دعا بھی ہے: اور میرے لیے بعد والوں میں سچا اور اچھا ذکر باقی رکھ۔ کتبِ تفاسیر میں تیسرا قول بھی وارد ہوا ہے۔ طبرانی نے المعجم الصغیر میں کمزور سند کے ساتھ حضرت ابو الدرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے صلۂ رحمی کی وجہ سے عمر بڑھنے کا ذکر ہوا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: یہ عمر میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ﴾ بلکہ آدمی کے لیے نیک اولاد ہوتی ہے جو اس کے بعد اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے۔ اور المعجم الکبیر میں مشجعۃ الجہنی سے حدیث مرفوع آئی: اللہ جب کسی جان کا وقت آجائے، تو اسے مؤخر نہیں کرتا اور عمر میں اضافہ دراصل نیک اولاد ہے۔ ابن فورک کا قول: عمر میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ نیک آدمی کو اللہ تعالیٰ ذہن و سمجھ میں آفات سے محفوظ رکھتا ہے اور بعض علمائے کرام نے کہا: اس کا تعلق وسعتِ رزق، علم میں برکت اور دیگر نیکیوں سے ہے۔ (فتح الباری شرح صحیح بخاری، جلد 10، صفحہ 544، مطبوعہ دار المعرفۃ ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: عبدالرب شاکرعطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9646
تاریخ اجراء: 01 رجب المرجب1447 ھ/22 دسمبر 2025ء