logo logo
AI Search

ختم خواجگان میں بلند آواز سے قرآنی آیات پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ختم خواجگان میں بلند آواز میں مل کر قرآنی آیات پڑھنا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ختمِ خواجگان کو متعدد افراد کا مل کر یک زبان ہو کر بلند آواز سے پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ اس ختم میں درودِ پاک، دعائیہ کلمات کے ساتھ سورۃ الفاتحہ، سورۃ اَلَمْ نَشْرَحْ، سورۃ الاخلاص وغیرہ مخصوص سورتیں  ایک خاص تعداد میں پڑھنی ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ گھروں میں ختمِ خواجگان کرواتے ہیں اور تمام پڑھنے والے پورا ختم اجتماعی طور پر بلند آواز سے مل کر پڑھتے ہیں۔براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس عمل کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔

جواب

ختمِ خواجگان بزرگوں کے مجربات اور معمولات میں سے ہے۔ اس کا پڑھنا بلاشبہ باعثِ خیر و برکت و سعادت اور مصائب و مشکلات کے ازالے کے لیے نہایت مفید ہے۔ اسی وجہ سے اہلِ محبت اپنے گھروں میں اس کا اہتمام کرتے اور اس کے ذریعے برکتیں حاصل کرتے آئے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ کسی بھی ورد یا وظیفے سے کماحقہٗ اسی وقت خیر و برکت حاصل کی جا سکتی ہے، جب اسے شریعتِ مطہرہ کے بیان کردہ احکامات کی روشنی میں ادا کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ شریعت کے کسی حکم کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خیر و برکت تو دور، ثواب کے بجائے گناہ لازم آجائے۔

شریعتِ مطہرہ نے قرآنِ مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہنے اور غور سے سننے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ چونکہ چند افراد کے مل کر بلند آواز سے قرآنِ مجید پڑھنے کی صورت میں آوازیں باہم مختلط ہو جاتی ہیں، جس کے باعث الگ الگ سننا ممکن نہیں رہتا، لہٰذا اس صورت میں بغور سننے سے متعلق شرعی حکم پر عمل نہیں ہو پاتا۔ اس بنا پر قرآنِ مجید کو مل کر بلند آواز سے پڑھنے کی یہ تمام صورتیں ممنوع اور ناجائز ہیں۔ لہٰذا اگر چند اشخاص قرآن پڑھنے والے ہوں تو شرعی حکم یہ ہے کہ یا تو سب آہستہ آواز سے پڑھیں، یا ہر قاری کے پاس کوئی سننے والا موجود ہو اور ان کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ ایک کی آواز سے دوسرے کی توجہ نہ بٹے، یا پھر ایک شخص تلاوت کرے اور باقی سب بغور سنیں۔

لہٰذا ختمِ خواجگان شریف کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ اس میں شامل درودِ پاک، اشعار اور بزرگوں سے استمداد و استعانت پر مشتمل کلمات کو مل کر بلند آواز سے پڑھنا تو جائز ہے، لیکن اس میں شامل قرآنی سورتوں کو مل کر بلند آواز سے پڑھنا جائز نہیں۔ ایسی صورت میں سب آہستہ پڑھیں یا ایک شخص پڑھے اور باقی سب توجہ اور خاموشی کے ساتھ سنیں۔

 اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

”وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ“

ترجمہ کنز العرفان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (القرآن الکریم، پارہ 09، سورۃ الاعراف، آیت 204)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: ”چند شخصوں کا بیک وقت بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا سخت ممنوع ہے، جیسا کہ آج کل ختم وغیرہ پر حفاظ کرتے ہیں یا تو ایک صاحب پڑھیں باقی سنیں یا سب لوگ آہستہ پڑھیں، یہ فائدہ بھی ”فَاسْتَمِعُوْا“ اور ”اَنْصِتُوْا“ سے حاصل ہوا۔“ (تفسیر نعیمی، جلد 09، صفحہ 471، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ)

اسی آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: ’’یہاں ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ ختم شریف میں مل کر زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے۔“ (صراط الجنان، جلد 03، صفحہ 512، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

مؤطا امام مالک، مسند احمد، سنن کبرٰی للبیہقی اور کنز العمال کی حدیث شریف ہے،

واللفظ للمؤطا و البیھقی:’’ان المصلی یناجی ربہ فلینظر ما یناجیہ بہ ولا یجھر بعضکم علیٰ بعض بالقراءۃ

ترجمہ: نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے تو چاہیے کہ غور کرے کہ اس سے کیا مناجات کرتا ہے اور تم میں سے  بعض، بعض  پر قرآن اونچا نہ پڑھیں۔ (المؤطا، ج 01، ص 87، مؤسسة الرسالة) (السنن الکبرٰی للبیھقی، کتاب الصلوٰۃ، حدیث 4704، جلد 03، صفحہ 17، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حدیث مذکور کے متعلق المفاتیح للعلامۃ الزیدانی میں ہے:

”قوله: "ولا يجهر بعضكم على بعض"؛ يعني: ليقرأ كل واحد ما يقرأ من غير رفع صوت حتى لا يشوش القراءة على الآخرين، فإنهم لو رفعوا أصواتهم لا يدري كل واحد ما يقرأ، ولا يكون له حضور

ترجمہ: (حضور علیہ السلام کا فرمان: اور بعض بعض پر قرآن اونچا نہ پڑھے)یعنی ہر شخص اپنی قراءت اس طرح کرے کہ آواز بلند نہ کرے، تاکہ اس کی قراءت دوسروں کی قراءت میں خلل اور تشویش پیدا نہ کرے۔ کیونکہ اگر سب اپنی آوازیں بلند کر دیں تو نہ کسی کو یہ معلوم رہتا ہے کہ وہ خود کیا پڑھ رہا ہے اور نہ ہی دل کی حاضری باقی رہتی ہے۔ (المفاتیح شرح المصابیح، ج 02، ص 140، دار النوادر )

مذکورہ حدیث اپنے عموم پر ہے اور علاوہ نماز قرآن پڑھنے کو بھی شامل ہے، مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

”والنهي يتناول من هو داخل الصلاة وخارجها۔۔والبعض أعم من مصل أو نائم أو قارئ“

ترجمہ: یہ ممانعت نماز کے اندر والے اور نماز سے باہر والے، دونوں کو شامل ہے۔ اور لفظ بعض عام ہے، خواہ وہ نمازی ہو یا سونے والا یا قرآن پڑھنے والا۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 02، ص 702، دار الفکر، بیروت)

شیخ محقق علیہ الرحمۃ لمعات میں لکھتے ہیں:

”وقوله: (ولا يجهر بعضكم على بعض) أي: في الصلاة وغيرها، من المصلي والنائم والذاكر“

ترجمہ: (حضور علیہ السلام کا فرمان: اور بعض بعض پر قرآن اونچا نہ پڑھے) یعنی نماز میں بھی اور نماز کے علاوہ بھی، خواہ نمازی ہو یا سونے والا یا ذکر کرنے والا۔ (لمعات التنقیح، ج 02، ص 612، دار النوادر)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: ”یعنی چند مسلمان مل کر بلند آواز سے قرآن نہ پڑھیں یا ایک آدمی اونچی تلاوت کرے، باقی سنیں یا سب آہستہ پڑھیں۔ سب کے بلند آواز سے پڑھنے میں قرآن کریم کی بے ادبی ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، باب القراءۃ فی الصلوٰۃ، جلد 02، صفحہ  64، مطبوعہ قادری پبلشرز)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

”یکرہ للقوم أن یقرؤو ا القرآن جملۃ لتضمنھا ترک الاستماع والا نصات الما مور بھما“

ترجمہ: لوگوں کے لئے قرآن مجید کو مل کر پڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ نہ سننے اور خاموش نہ رہنے پر مشتمل ہے حالانکہ دونوں (سننے اور خاموش رہنے) کا حکم دیا گیا ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الکراھیۃ، الباب الثالث، جلد 05، صفحہ 317، مطبوعہ پشاور)

امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوٰی رضویہ میں فرماتے ہیں: ”بہر حال اس قدر میں شک نہیں کہ قرآن عظیم کا ادب و حفظ حرمت لازم اور اس میں لغو و لغط حرام و ناجائز، پس صورت اولٰی میں جہاں مقصود تلاوت و ختم قرآن ہے، نہ حاضرین کو سنانا اگر سب آہستہ پڑھیں کہ ایک کی آواز دوسرے کو نہ جائے تو عین ادب و احسن واحب ہے۔ اس کی خوبی میں کیا کلام، اور اگر چند آدمی بآواز پڑھ رہے ہیں یوں ہی قاری کے پاس ایک یا چند مسلمان بغور سن رہے ہیں اور ان میں باہم اتنا فاصلہ ہے کہ ایک کی آواز سے دوسرے کا دھیان نہیں بٹتا تو قول اوسع پر اس میں بھی حرج نہیں اور اگر کوئی سننے والا نہیں، یا بعض کی تلاوت بعض اشخاص سن رہے ہیں بعض کی کوئی نہیں سنتا یا قریب آوازیں مختلف و مختلط ہیں کہ جدا جدا سننا میسر ہی نہ رہا تو یہ صورتیں بالاتفاق ناجائز و گناہ ہیں۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 353، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”مجمع میں سب لوگ بلند آواز سے (قرآن) پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں“۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 03، صفحہ  552، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0717
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ/30 جنوری 2026 ء