بغیر درود دعا معلق رہتی ہے یہ کس کا فرمان ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جس دعا میں درودِ پاک شامل نہ ہو، وہ معلق رہتی ہے، یہ کس کا فرمان ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس دعا میں اوّل و آخر درود نہ پڑھا جائے وہ دعا زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے یہ کس کا قول ہے؟

جواب

یہ اسلام کے دوسرے خلیفہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے۔

چنانچہ سنن ترمذی میں ہےکہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْءٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ

یعنی دُعا زمین وآسمان کے دَرمیان روک دی جاتی ہے ، جب تک تُو اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر دُرُود نہ بھیجے ، بلند نہیں ہوپاتی۔ (ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی، حدیث: 486، ج 2، ص 29، دار الفکر، یروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2343

تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1447ھ / 16 جولائی 2025ء