ماشاء اللّٰہ والی پٹی بے وضو چھونا کیسا؟
بازو پر ماشاء اللہ والی باندھی جانے والی پٹی کو بے وضو چھونا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہمارے ہاں خواتین حجاب میں ایک پٹی استعمال کرتی ہیں، جس پر قرآنی کلمہ ”ماشاء اللہ“ لکھا ہوتا ہے، یونہی مردوں کے لیے بھی پٹی آتی ہے، جس کو بازو پر باندھا جاتا ہے، اس پر بھی ”ماشاء اللہ“ لکھا ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایسے کپڑے یا پٹی کو بے وضو چھو سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بیان کردہ صورت میں ایسی پٹی جس پر ”ماشاء اللہ“ کے کلمات لکھے ہوں، اُسے بے وضو چھو سکتے ہیں، شرعاً اس میں گناہ نہیں، کیونکہ عموماً اس طرح کی چیزوں پر یہ کلمات آیتِ قرآنی کی حکایت کے طور پر نہیں، بلکہ حصولِ برکت یا کسی اور مقصد،مثلاً نظرِ بد سے بچنے کے لیے لکھے جاتے ہیں، اس لیے ایسے کلمات جن کو ان مقاصد کے لیے لکھنے میں لوگوں کا تعامل ہو چکا،ان کو بے وضو حالت میں چھونا ، گناہ نہیں، ہاں وضو و طہارت کی حالت میں چھونا ، بہتر ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ انہیں پہنے ہوئے بیت الخلاء میں جانا منع ہے۔
اس کی فقہی اعتبار سےنظیر ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ ہے کہ ہمارے ہاں کتابوں یا تحریرات وغیرہ کے شروع میں لکھی جاتی ہے اور اس میں عموماً آیتِ قرآنی کی حکایت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقدس ناموں سے برکت لینا مقصود ہوتا ہے، اسی طرح کلمۂ استرجاع ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ کہ اس کو محض اظہارِ افسوس کے لیے یا خبرِ غم کے جواب میں یا مصیبت کے وقت اس جملے کو کہنے کی حدیثِ پاک میں بیان کردہ فضیلت پانے کی غرض سے لکھا و بولاجاتا ہے، ان دونوں کلمات کو دعا و ثنا و برکت وغیرہ کی نیّت سے لکھنے و بولنے میں تعاملِ ناس ہے کہ ہر خاص و عام کسی خاص موقع پر ان کلمات کو بطورِ دعا و ثنا یا تبرک کے طور پر لکھتا، بولتا ہے اور لکھتے، بولتے وقت حکایتِ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی، اسی طرح کلمۂ”ماشاء اللہ“ کو بھی حصولِ برکت یا نظرِ بد سے بچنے کے لیے لکھا جاتا ہے، اس لیے اس کلمہ کو بے وضو لکھنا اور چھونا، جائز ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) سے سوال ہوا کہ بعض استاد چارپائی وغیرہ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور طلبا نیچے کتابیں لے کر بیٹھتے ہیں اور بعض اوقات کتابوں کے شروع میں بسم اللہ شریف لکھی جاتی ہے، تو ایسا کرنا کیسا؟ کیا یہ بسم اللہ شریف لکھنا، کلام الناس کہلائے گا یا کلام اللہ؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اور بسم اللہ کہ شروع پرلکھتے ہیں، غالباً اس سے تبرک وافتتاحِ تحریر مراد ہوتا ہے، نہ کتابتِ آیاتِ قرآنیہ۔ اور ایسی جگہ تغییرِ قصد سے تغییرِ حکم ہوجاتا ہے و لہٰذا جنب کو آیات دعا وثنا نہ نیت قرآن بلکہ بہ نیت ذکر ودعا پڑھنا جائز ہے۔ فی الدر المختار: لو قصد الدعاء و الثناء او افتتاح امر حل فی الاصح حتی لو قصد بالفاتحۃ الثناء فی الجنازۃ لم یکرہ، الخ، ملخصا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 337، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-9583
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاولی 1447 ھ / 27 اکتوبر 2025 ء