logo logo
AI Search

دجال والی حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیوں ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

دجال سے ڈرانے والی حدیث میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کا بطورِ خاص ذکر کرنے کی وجہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اس کےدرج ذیل جوابات علماے کرام نے ذکر فرمائے ہیں:

(1) ایک جواب یہ ہے کہ: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے جن انبیاےکرام علیہم الصلوۃ والسلام نے دجال سے ڈرایا، ان کو کفار کی طرف نہیں بھیجاگیاتھا،بلکہ مسلمانوں کی طرف بھیجاگیاتھا، جبکہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام دجال سے ڈرانے والے ایسے پہلے رسول تھے، جنہیں کفار کی طرف بھیجاگیاتھا، لہٰذا اس خصوصی مناسبت کی وجہ سے روایت میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کا الگ سے ذکر کیا گیا۔

(2)  دوسرا جواب یہ ہے کہ: حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانے میں ایک عالمگیر طوفان آیا، جس کے نتیجے میں چند افراد اور بعض اشیا کے علاوہ تقریباً پوری دنیا کی مخلوق ہلاک ہوگئی، اس کے بعد عالمِ انسانیت کی نشاۃِ ثانیہ(نیاوجود) حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام ہی سے ہوئی، اسی وجہ سے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کو دوسرا ابو البشر بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا اس خصوصی مناسبت کی وجہ سے روایت میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا الگ سے ذکر کیا گیا۔

صحیح بخاری میں ہے ”و قال سالم: قال ابن عمر: ثم قام النبي صلی اللہ علیہ و سلم في الناس، فأثنى على اللہ بما هو أهله، ثم ذكر الدجال، فقال: إني أنذركموه، و ما من نبي إلا قد أنذره قومه، لقد أنذره نوح قومه، و لكن سأقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه: تعلمون أنه أعور، وأن اللہ ليس بأعور“ ترجمہ: حضرت سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس طرح حمد و ثنا بیان فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا:میں تمہیں اس (دجال) سے ڈراتا ہوں، اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ یقیناً حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔ لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی: تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ (صحیح البخاری ، ص 560،رقم الحدیث3057،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

متعدد شروحاتِ بخاری شریف میں ہے، (و اللفظ للمنحۃ): ”(أنذره نوح قومه) خصه بالذكر؛ لأنه أبو البشر الثاني أو أنه أول مشرع“ ترجمہ: (حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس (دجال) سے ڈرایا) آپ علیہ الصلوۃ و السلام کو خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ دوسرے ابو البشر ہیں، یا اس لیے کہ آپ سب سے پہلے نبی ہیں، جن کو باقاعدہ شریعت دی گئی۔ (منحۃ الباری بشرح البخاری، ج 06، ص 171، مطبوعه: رياض)

الکواکب الدراری شرح بخاری کے لفظ یہ ہیں ”فإن قلت ما وجه التخصيص به و قد عمم أولا حيث قال ما من نبي قلت لأنه أبو البشر الثاني و ذريته هم الباقون في الدنيا“ ترجمہ: اگر تم سوال کرو کہ جب پہلے عمومی طور پر یہ فرمایا گیا کہ "کوئی نبی علیہ الصلوۃ والسلام ایسا نہیں گزرا، جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو، تو پھر حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کو خاص طور پر ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام دوسرے ابو البشر ہیں، اور دنیا میں باقی رہنے والے تمام انسان انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ (الکواکب الدراری، ج 22، ص 39، 38،دار إحياء التراث العربي، بيروت)

ملفوظات  اعلیٰ حضرت میں ہے ”عرض: آدم علیہ السلام رسول بھی تھے؟ ارشاد: ہاں۔ عرض: نوح علیہ الالسلام کو اول الرسل کہا جاتا ہے، یہ کس وجہ سے؟ ارشاد: کافروں کی طرف جو رسول بھیجے گئے ہیں، ان میں سب سے اول حضرت نوح علیہ السلام ہیں، آپ سے پہلے جو نبی تشریف لائے وہ مسلمانوں کی طرف بھیجے جاتے تھے۔“ (ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص 421، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5325
تاریخ اجراء: 03 ربیع الاول 1448ھ / 17 اگست 2026ء