logo logo
AI Search

تلاوت کے دوران ذکر و درود کرنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

تلاوت کے دوران حاضرین کا درود پاک پڑھنا یا ذکر کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اولاً تلاوتِ قرآن سننے کا حکم ذہن نشین کر لیجئے کہ قرآن پاک کی تلاوت خاموشی کے ساتھ کان لگا کر سننا فرض ہے اور ہر وہ کام جو اس میں رکاوٹ کا باعث بنے،وہ ناجائز اور ممنوع ہے۔ پھر سماعتِ قرآن کا یہ حکم سب حاضرین کے لئے ہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بآوازِ بلند تلاوت سے مقصود حاضرین کو سنانا ہو، تو تلاوت سننے کی غرض سے جمع ہونے والے تمام افراد پر سماعتِ قرآن فرض ہے، البتہ اگر حاضرین کو سنانا مقصود نہ ہو،بلکہ خود تلاوت کرنا ہو، تو اس صورت میں حاضرین میں سے کسی ایک شخص کا بھی سن لینا کافی ہے، اگرچہ بقیہ افراد اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔

اب اس تفصیل سے سوال کا جواب بھی واضح ہو گیا اور وہ یہ کہ محافل وغیرہ میں بآوازِ بلند تلاوت سے مقصود حاضرین کو سنانا ہوتا ہے اور حاضرین بھی تلاوت سننے ہی کی غرض سے جمع ہوتے ہیں،لہذا ایسے تمام افراد پر خاموشی کے ساتھ کان لگا کر تلاوتِ قرآنِ مجید سننا فرض ہے اور درود شریف پڑھنا یا ذکر کرنا وغیرہ اگرچہ فی نفسہ مستحسن عمل ہے، لیکن دورانِ تلاوت ان میں مشغول ہونا سماعتِ قرآن والے فرض کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث ہے،لہذا اس کی اجازت نہیں۔

اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”اور جب قرآن پڑھا جائے، تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ (پ9، سورہ الاعراف، آیت 204)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں سماعتِ قرآن کی مختلف صورتوں کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’قرآن مجید پڑھا جائے، اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے ۔ ۔ ۔ علماء کو اختلاف ہے کہ یہ استماع وخاموشی فرضِ عین ہے، کہ جلسہ میں جس قدر حاضر ہوں، سب پر لازم ہے، ان میں جو کوئی اس کے خلاف کچھ بات کرے، مرتکبِ حرام وگنہگار ہوگا یا فرضِ کفایہ ہے، کہ اگر ایک شخص بغور متوجہ ہو کر خاموش بیٹھا سن رہا ہے، تو باقی پر سے فرضیت ساقط، ثانی اوسع اور اول احوط ہے۔

فی ردالمحتار: ”فی شرح المنیۃ:والاصل ان الاستماع للقرآن فرض کفایۃ،لانہ لاقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیر مضیع و ذلک یحصل بانصات البعض الخ، نقل الحموی عن استاذہ قاضی القضاۃ یحیی شھیربمنقاری زادہ ان لہ رسالۃ حقق فیھا ان استماع القرآن فرض عین‘‘ ترجمہ: رد المحتار میں شرح منیہ کے حوالے سے ہے: اصل یہ ہے کہ قرآن مجید کو سننا فرض کفایہ ہے، تاکہ اس کا حق قائم ہوجائے بایں طور کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو، اس حق کو ضائع نہ کرے اور بعض کے خاموش رہنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجائے گا الخ۔ علامہ حموی علیہ الرحمہ نے اپنے استاذ قاضی القضاۃ یحیٰ (جو منقاری زادہ کے نام سے مشہور ہیں، ان) سے نقل کیا ہے، انہوں نے اپنے رسالہ میں تحقیق فرمائی ہے کہ قرآن مجید کو سننا فرض عین ہے۔

اقول و باللہ التوفیق: ظاہر یہ ہے ’’و اللہ تعالی اعلم‘‘ کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے تلاوتِ قرآنِ عظیم بآواز کر رہا ہے اور باقی لوگ اس کے سننے کو جمع نہ ہوئے، بلکہ اپنے اغراضِ متفرقہ میں ہیں، تو ایک شخص تالی کے پاس بیٹھابغور سن رہاہے، ادائے حق ہوگیا، باقیوں پر کوئی لزوم نہیں اور اگر وہ سب اسی غرضِ واحد کے لئے ایک مجلس میں مجتمع ہیں، تو سب پر سننے کا لزوم چاہئے، جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان، کہ ہر شخص پر استماع وانصات جداگانہ فرض ہے یا جس طرح جلسہ خطبہ کہ ان میں ایک شخص مذکر اور باقیوں کو یہی حیثیتِ واحدہ تذکیر جامع ہے، تو بالاتفاق ان سب پر سننا فرض ہے، نہ یہ کہ استماعِ بعض کافی ہو، جب تذکیر میں کلامِ بشیر کا سننا سب حاضرین پر فرض عین ہوا، تو کلام الٰہی کاا ستماع بدرجہ اولی ۔ ۔ ۔ بہر حال اس قدر میں شک نہیں کہ قرآنِ عظیم کا ادب و حفظِ حرمت لازم اور اس میں لغو و لغط حرام و ناجائز، پس صورت اولیٰ میں جہاں مقصود تلاوت و ختم قرآن ہے، نہ حاضرین کو سنانا، اگر سب آہستہ پڑھیں کہ ایک کی آواز دوسرے کو نہ جائے، تو عین ادب و احسن واحب ہے، اس کی خوبی میں کیا کلام؟ ۔ ۔ ۔ اور صورت ثانیہ میں جہاں مقصود سنانا ہے، اگر قولِ احوط پر عمل کیجئے، تو چند آدمیوں کا معاً آواز سے پڑھنا صریح حرام ہے اور اگر توفیقِ مذکور پر نظر کی جائے، تو جب بھی یہ صورت سب پر لزومِ خاموشی کی ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 23، ص 352 تا 354 ملتقطاً، مطبوعہ رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتوی نمبر: PIN-7414
تاریخ اجراء: 18 شعبان المعظم 1445ھ / 29 فروری 2024ء