بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی تھی جس میں ایک آدمی کہہ رہا تھا کہ صرف اپنے لئے دعا مانگو، دوسروں کے لئے نہیں، کیا یہ بات درست ہے؟
یہ بات محض غلط وباطل ہے کہ "دعا صرف اپنے لیے مانگو دوسروں کے لیے صحیح نہیں ہے"۔ قرآن وحدیث میں ایسی کثیر دعاؤں کی تعلیم فرمائی گئی ہے جن میں اپنے ساتھ ساتھ دیگر مسلمانوں کے لیے بھی دعائیہ کلمات ہیں۔ خود نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کئی دفعہ اپنے لیے دوسروں سے دعا کرنے کا ارشاد فرمایا۔
مشہور ترین قرآنی دعا جسے عموما ہم اپنی ہر نماز میں کرتے ہیں، وہ یہ ہے:
رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ
ترجمہ: کنز العرفان: اے میرے رب! مجھے اور کچھ میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا رکھ، اے ہمارے رب اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا۔
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے دعا کے چند آداب معلوم ہوئے۔ (1) دعا اپنی ذات سے شروع کرے۔ (2) ماں باپ کو دعا میں شامل رکھا کرے۔ (3) ہر مسلمان کے حق میں دعائے خیر کرے۔ (4) آخرت کی دعا ضرور مانگے صرف دنیا کی حاجات پر قناعت نہ کرے۔ (تفسیر صراط الجنان، سورہ ابراھیم، تحت آیۃ 40، 41، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سنن ترمذی میں ہے:
عن عمر، أنه استأذن النبي صلى اللہ عليه وسلم في العمرة فقال: أي أخي أشركنا في دعائك ولا تنسنا
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی، تو آپ نے (اجازت دیتے ہوئے ) فرمایا: ”اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں!۔ (سنن الترمذي ج 5، ص 559، الناشر: مصر)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3454
تاریخ اجراء: 08رجب المرجب 1446ھ / 09 جنوری 2025ء