logo logo
AI Search

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی وضاحت

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرما دیجئے۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اللہ کریم کا پسندیدہ دین صرف اور صرف اسلام ہے، چونکہ یہ خالقِ کائنات کو پسند ہے اس لیے مالک کریم نے اس میں وہ جامعیّت، اَکملیت اور کمال و وُسعت رکھی ہے کہ جو صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے۔ اس کے اَحکام کا ہر زمانے، ہر خطّے، ہر عمر کے انسانوں کے لیے قابلِ عمل ہونا اسلام کی جامعیّت و معنویت اور اس کے مکمل ضابطۂ حیات (Code of life) ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسلام کے مکمّل ضابطۂ حیات ہونے کو آسان الفاظ میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ:

ضابطہ کامطلب ہے: قاعدہ، دستور، آئین، قانون، انتِظام۔اور حَیات کا مطلب ہے: " زندگی۔"

تو ضابطۂ حیات کا مطلب ہوا: ”زندگی گزارنے کاقانون، دستوروغیرہ“ اسے دَستورُ العمل بھی کہا جا سکتا ہے۔

جب، جہاں زندگی پائی جائے گی، وہیں اسلام کے احکام بھی موجود ہوں گے۔

اور اسلام صرف عبادات (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یعنی: عبادات کا طریقہ سکھاتا ہے۔ معاملات (تجارت، قرض، خرید و فروخت) کے اصول بتاتا ہے۔ اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے۔ معاشرت (ازدواجی زندگی، وراثت، رشتہ داروں کے حقوق) کا نظام دیتا ہے، یہاں تک کہ اسلام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق چلانے کا مکمل نظام پیش کرتا ہے۔ اور نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عبادات، تجارت، عدل، جنگ و امن، اخلاق، شادی، طلاق، وراثت، ہمسائیوں کے حقوق، نجی معاملات بجالانے کے آداب تک سکھائے۔

فیروز اللغات میں ہے ”ضابطہ: قاعدہ۔ قانون۔ دستور العمل۔ انتظام۔“ (فیروز اللغات، صفحہ919، فیروز سننز، لاہور)

اسلام ان تمام ضرورتوں سے متعلّق راہنمائی کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے۔ غذا ہی کو دیکھ لیجیے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

َ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ)

 ترجمۂ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ (القرآن، پارہ8، سورۃ الاعراف، آیت: 31)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) ترجمہ کنز العرفان: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا تو جو بھوک پیاس کی شدت میں مجبور ہواس حال میں کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو (تو وہ کھا سکتا ہے۔) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (القرآن، پارہ6، سورۃالمائدۃ، آیت: 3)

تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت سے کئی احکام معلوم ہوئے: پہلا یہ کہ صرف اسلام اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔ تیسرا یہ کہ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی۔ اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے۔ چوتھا یہ کہ سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا کیونکہ دین کامل ہو چکا، سورج نکل آنے پر چراغ کی ضرورت نہیں، لہٰذا قادیانی جھوٹے، بے دین اور خدا عَزَّوَجَلَّ کے کلام اور دین کو ناقص سمجھنے والے ہیں۔ پانچواں یہ کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی لاکھوں نیکیاں کرے خدا عَزَّوَجَلَّ کو پیارا نہیں کیونکہ اسلام جڑ ہے اور اعمال شاخیں اور پتے اور جڑ کٹ جانے کے بعد شاخوں اور پتوں کو پانی دینا بے کار ہے۔“ (صراط الجنان، جلد2، صفحہ429، مکبۃ المدینہ، کراچی)

 نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک ذات ہر درجے اور ہر مرتبے کے انسان کے لئے نمونہ ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: بیشک تمہارے لئےاللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔(القرآن، پارہ21، سورۃ الاَحزاب، آیت: 21)

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللہ وَسُنَّةَ رَسُولِه

 ترجمہ: میں نے تم میں دو چیزیں وہ چھوڑی ہیں جب تک انہیں مضبوط تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔ (موطا مالک، جلد2، صفحہ899، کتاب القدر، حدیث: 3، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

السنن الکبری للبیہقی میں ہے

”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل الخلاء لبس حذاءه، وغطى رأسه“

 ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنے جوتے پہن لیتے اور اپنے سر کو ڈھانپ لیتے تھے۔“ (السنن الكبرى للبیھقی، جلد1، صفحہ155، حدیث: 456، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-4543

تاریخ اجراء:23 جمادی الثانی1447ھ/15دسمبر2025ء