مختلف افراد مختلف تیس پارے پڑھیں تو ختم قرآن ہو جائیگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا مختلف افراد کے تیس پارے پڑھنے سے مکمل ختم قرآن کا ثواب ملے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حدیث پاک کے مطابق قرآن مجید کے ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ کیا قرآن ختم کرنے پر یعنی پہلے پارے سے لے کر تیس پارے تک پڑھنے پر کوئی خاص فضیلت بھی ہے؟ نیز ہمارے جامعہ میں ناظم صاحب اعلان کر دیتے ہیں کہ جسے جو پارہ پڑھنا ہے پڑھ لے، اس طرح تیس پارے ہونے پر ایک قرآن کریم مان لیا جاتا ہے ، ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

قرآنِ کریم کی مکمل تلاوت یعنی ختمِ قرآن کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں بڑے عظیم فضائل بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص دن کے وقت قرآن پاک ختم کرتا ہے، اُس کے لیے شام تک فرشتے دعا و استغفار کرتے رہتے ہیں، اور جو رات میں ختم کرتا ہے، اُس کے لیے صبح تک فرشتوں کی دعائیں جاری رہتی ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ میں یہ فضیلت بھی آئی ہے کہ جب کوئی ختمِ قرآن کے بعد دعا کرتا ہے تو اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔ ایک حدیث پاک کے مطابق ختمِ قرآن کے موقع پر مانگی گئی ایک دعا ضرور مقبول کی جاتی ہے۔یہ سب ختم قرآن کے فضائل ہیں جو اس کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔

باقی رہا یہ سوال کہ صرف تعداد کے اعتبار سے تیس پارے ہو جانے سے ختمِ قرآن ہوجائے گا یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم کا ختم اُسی وقت معتبر ہوگا کہ جب ابتدا سے انتہا تک پورے تیس پاروں کی تلاوت مکمل کی جائے۔ اب یہ چاہے ایک ہی شخص پڑھے یا کئی افراد مل کر پڑھیں، بہرحال ختم تبھی شمار ہوگا جب پورے قرآن کی تلاوت ہو جائے۔ اس کے برخلاف اگر صرف تعداد کے اعتبار سے تیس پارے پڑھ لیے جائیں اور اول تا آخر پورے قرآن کی تکمیل کی رعایت نہ رکھی جائے، جیسا کہ سوال میں ذکر ہے، تو ایسی صورت میں جو پڑھا گیا ہے اُس پر ثواب تو ملے گا، لیکن اِسے ختمِ قرآن نہیں کہا جا سکتا۔

سنن دارمی کی حدیث پاک ہے:

’’عن عبدة، قال: «‌إذا ‌ختم ‌الرجل ‌القرآن ‌بنهار، صلت عليه الملائكة حتى يمسي، وإن فرغ منه ليلا، صلت عليه الملائكة حتى يصبح»‘‘

ترجمہ: حضرت عبدہ سے روایت ہے فرمایا کہ جب آدمی دن میں قرآن ختم کرتا ہے تو فرشتے شام تک اس کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں، اور اگر رات میں ختم قرآن کرے تو فرشتے صبح تک اس کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ (سنن دارمی، جلد4، صفحہ2184، رقم الحدیث: 3526، المملكة العربية السعودية)

سنن دارمی اور روح البیان میں حضرت حمید بن اعرج رحمۃ للہ علیہ سے مروی حدیث ہے:

’’واللفظ للثانی: من قرأ القرآن وختمه ثم دعا أمن على دعائه ‌اربعة ‌آلاف ‌ملك‘‘

 ترجمہ: جو شخص قرآن پڑھ کر ختم کرے اور پھر دعا کرے، تو اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔ (روح البیان، جلد3، صفحہ66، دار الفكر، بيروت)

مجمع الزوائد، جمع الجوامع اور کنزالعمال کی حدیث مبارکہ ہے:

’’واللفظ للاول: عن العرباض بن سارية قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى صلاة فريضة ‌فله ‌دعوة ‌مستجابة، ومن ختم القرآن ‌فله ‌دعوة ‌مستجابة»‘‘

 ترجمہ: حضرت عِرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص فرض نماز پڑھتا ہے، اس کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے، اور جو قرآن ختم کرتا ہے، اس کے لیے بھی ایک دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے۔ (مجمع الزوائد، جلد7، صفحہ172، رقم الحدیث: 11712، مطبوعہ قاھرۃ)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’واردہُوا کہ ہر ختم ِ قرآن پر ایک دُعا مقبول ہے۔ بیہقی و خطیب و ابو نعیم و ابن عساکر انس رضی تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سیّد عالم صلی ا تعالٰی علیہ و سلم فرماتے ہیں: ’’مع کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ‘‘ ہر ختم کے ساتھ ایک دعا مستجاب ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد8، صفحہ518، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

ختم قرآن اول تا آخر مکمل تیس پاروں کے پڑھنے سے ہی ہوگا، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مرآۃ المناجیح‘‘ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اگرچہ سارا قرآن شریف ہی کلام الٰہی ہے مگر اس کی سورتوں کی تاثیریں مختلف ہیں ایک بار سورہ یسین کی تلاوت دس۱۰ قرآن کا ثواب رکھتی ہے یہ اس کی بے مثال خصوصیت ہے۔ خیال رہے کہ دس۱۰ ختم قرآن کا ثواب ملنا اور ہے اور حقیقتاً دس ۱۰ قرآن کریم ختم کرنا کچھ اور۔ طبیب کہتے ہیں کہ ایک منقی گرم کرکے کھانے میں ایک روٹی کی طاقت ہے مگر پیٹ بھرے گا روٹی ہی کھانے سے، ختم قرآن ہوگا تیسوں پارے پڑھنے سے‘‘۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ272، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-982

تاریخ اجراء27 جمادی الاولی1447ھ/19 نومبر 2025ء