رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑھاپے سے پناہ مانگنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑھاپے سے پناہ مانگنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے کسی سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے سے پناہ مانگا کرتے تھے، کیا ایسا ہے؟

جواب

حدیث پاک میں یہ بات موجود ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ لیکن اس سے بڑھاپے کی وہ حالت مراد ہے "جب طاقت ختم ہو جائے اور انسان دوسروں پر بوجھ بن جائے" کیونکہ اس سے زندگی سے مقصود یعنی علم وعمل فوت ہوجاتا ہے۔

صحیح البخاری میں ہے

عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول: اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم

 یعنی: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم دعا مانگا کرتے تھے کہ الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے اور بڑھاپے سے۔ (صحیح البخاری، صفحہ1164، حدیث6368، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے

”(والهرم)۔۔۔أي: كبر السن المؤدي إلى تساقط بعض القوة وضعفها۔۔۔ لأنه يفوت فيه المقصود بالحياة من العلم والعمل

یعنی: وہ بڑھاپا جو طاقت کو ختم کرنے اور کمزوری کی طر ف لے کر جانے والا ہو، کیونکہ اس سے زندگی سے مقصود یعنی علم وعمل فوت ہوجاتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد4، صفحہ1651، مطبوعہ: بيروت)

مراۃ المناجیح میں ہے ”بڑھاپے سے وہ حالت مراد ہے جب انسان کی عقل کٹ جائے، قوتیں جواب دے جائیں، دوسروں پر بوجھ بن جائے۔“ (مراۃ المناجیح، جلد4، صفحہ57، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4576

تاریخ اجراء: 06رجب المرجب1447ھ/27دسمبر2025ء