logo logo
AI Search

کیا قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا قرآن کے الفاظ مخلوق ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا قرآن پاک کےالفاظ مخلوق ہیں؟

جواب

قرآنِ کریم اللہ پاک کا کلام اور اس کی صفت ہے اور اللہ پاک کی ذات کی طرح اس کی تمام صفات بھی قدیم ہیں، لہٰذا کلامِ الٰہی بھی قدیم ہے، حادث و مخلوق نہیں ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ اور دیگر ائمۂ کِرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ جو قرآنِ کریم کو مخلوق کہے، اس نے اللہ پاک کے ساتھ کفر کیا۔ البتہ قرآن پاک کے الفاظ اور ہمارا پڑھنا لکھنا حادث و مخلوق ہے، کیونکہ قرآن پاک جب جب نازل ہوتا، تو رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے پیارے صحابہ رضی اللہ عنہم سے لکھوا لیتے اور یوں قرآن پاک کی کتابت و لکھائی کا سلسلہ جاری ہوا۔ لہٰذا اللہ پاک کا کلام پہلے اور قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے، جبکہ اسے الفاظ و حروف میں لکھنا اور پڑھنا حادث یعنی بعد میں ہے۔ لہٰذا یہ بعد میں لکھے جانے والے الفاظ حادث ہیں، جو کہ اس قدیم کلام پر دلالت کرتے ہیں، اسی لیے یہ الفاظ مخلوق ہیں، خود کلامِ الٰہی مخلوق نہیں ہے۔
تنبیہ : ایسے گہرے مسائل علما کے لیے ہوتے ہیں، عوام کو ایسے پیچیدہ مسائل میں غور نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں کچھ کا کچھ سمجھ کر غلطی یا عقیدے کی خرابی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ لہٰذا عام لوگوں کو اللہ پاک کی ذات و صفات میں غور کرنے کی بجائے اس کی نعمتوں میں غور کرنا چاہیے ۔
حدیث شریف میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”تفكروا فی آلاء اللہ ولا تتفكروا فی اللہ “

ترجمہ : ”اللہ پاک کی نعمتوں میں غور و فکر کرو ، اللہ پاک کی ذات میں غور و فکر مت کرو۔“(المعجم الأوسط للطبرانی ، ج 6، ص 250، حدیث 6319، مطبوعہ دار الحرمين، القاهرة)
پارہ 15 سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ رب العٰلمین فرماتا ہے:

﴿وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ٘-فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا(89) ﴾

ترجمۂ کنز الایمان : ”اور بےشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مَثَل (مثالیں) طرح طرح بیان فرمائیں تو اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکر کرنا۔( سورۂ بنی اسرائیل، آیت 89)
اس کی تفسیر کرتے ہوئے شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں: ”قرآنِ مجید مخلوق نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات ازلی اور غیر مخلوق ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جو قرآن کریم کو مخلوق کہے یا اس کے بارے میں تَوَقُّف کرے یا اس کے بارے میں شک کرے تو اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔ نیز اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتاویٰ رضویہ کی 15 ویں جلد میں موجود اپنے رسالے ’’سُبْحٰنَ السُّبُّوْحْ عَنْ عَیْبِ کِذْبٍ مَقْبُوْحْ ‘‘  (جھوٹ جیسے بد ترین عیب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاک ہونے کا بیان) میں قرآن عظیم کے غیر مخلوق ہونے پر ائمۂ اسلام کے 32 ارشادات ذکر کئے ہیں اور ان میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ 9 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے تھے کہ جو قرآن کو مخلوق بتائے ، وہ کافر ہے۔  “(تفسیر صراط الجنان، جلد 5، صفحہ 513، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: ”مثل دیگر صفات کے (یعنی اللہ پاک کی دوسری صفات کی طرح اللہ پاک کا) کلام بھی قدیم (ہمیشہ سے) ہے، حادث (بعد میں ہونے والی چیز) و مخلوق نہیں، جو قرآنِ عظیم کو مخلوق مانے ، ہمارے امامِ اعظم و دیگر ائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اُسے کافر کہا، بلکہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اُس کی تکفیر ثابت ہے۔ اُس کا کلام آواز سے پاک ہے اور یہ قر آ نِ عظیم جس کو ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے، مَصاحِف میں لکھتے ہیں، اُسی کا کلامِ قدیم بِلا صَوت (بغیر آواز کے قدیم کلام) ہے اور یہ ہمارا پڑھنا، لکھنا اور یہ (ہماری) آواز حادث، یعنی ہمارا پڑھنا حادث ہے اور جو ہم نے پڑھا قدیم اور ہمارا لکھنا حادث اور جو لکھا قدیم، ہمارا سننا حادث ہے اور جو ہم نے سنا قدیم، ہمارا حفظ کرنا حادث ہے اور جو ہم نے حفظ کیا قدیم، یعنی متجلّی قدیم ہے اور تجلّی حادث۔ (متجلّی یعنی کلامِ الٰہی قدیم ہے اور تجلّی یعنی ہمارا پڑھنا، سننا، لکھنا، یاد کرنا یہ سب حادث ہے)۔“ (بھار شریعت ، حصہ1 ، ج1 ، ص8۔10 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حذیفہ محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2234
تاریخ اجراء:12 شوال المکرم 1447ھ /01 اپریل 2026ء