بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
یہ کیسے پتہ چلتا تھا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم اپنی نوری زبان سے کب قرآن کی تلاوت فرماتے تھے اور کب حدیث؟
جب بھی قرآن پاک نازل ہوتا، نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کاتبینِ وحی میں سے کسی کو بلاتے اور فرماتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں لکھ دو، تو یوں اس کا کلام خدا ہونا، خود بیان فرماتے، جبکہ اس کے علاوہ کلام مبارک میں یہ کیفیت نہ ہوتی۔
مستدرک علی الصحیحین میں حدیثِ پاک ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
قلت لعثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ: ما حملكم على أن عمدتم إلى الأنفال و هي من المثاني، و إلى براءة، و هي من المئين، فقرنتم بينهما و لم تكتبوا بينهما سطر: بسم اللہ الرحمن الرحيم، و وضعتموها في السبع الطول، ما حملكم على ذلك؟ فقال عثمان: إن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كان يأتي عليه الزمان تنزل عليه السور ذوات عدد، فكان إذا نزل عليه الشيء يدعو بعض من كان يكتبه فيقول: ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا، و تنزل عليه الآية فيقول: ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا و كذا، فكانت الأنفال من أوائل ما أنزل بالمدينة، و براءة من آخر القرآن، فكانت قصتها شبيهة بقصتها، فقبض رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم و لم يبين لنا أنها منها، فمن ثم قرنت بينهما و لم أكتب بينهما سطر: بسم اللہ الرحمن الرحيم
ترجمہ: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: کیاوجہ بنی کہ تم نے سورۂ انفال کو جو مثانی میں سے ہے، سورہ براءت سے ملادیا، جو مائین میں سے ہے، اور بیچ میں بسم الله الرحمن الرحیم نہیں لکھی، اور تم نے اسے سات بڑی سورتوں میں رکھ دیا، اس کی وجہ کیا ہوئی؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پرایک وقت ایسا آتا تھا کہ آپ علیہ الصلوۃ و السلام پر متعدد سورتیں نازل ہوتی تھیں، پس جب بھی آپ علیہ الصلوۃ و السلام پر کوئی آیت اترتی، تو بعض کاتبین وحی کو بلاکر فرماتے: یہ آیتیں اس سورت میں رکھو، جس میں فلاں فلاں چیزوں کا ذکر ہے! اور جب آپ علیہ الصلوۃ والسلام پر کوئی آیت نازل ہوتی، تو فرماتے: اس آیت کو اس سورت میں رکھو، جس میں ایسا ایسا ذکر ہے، اور سورۂ انفال ان سورتوں میں سے ہے، جو مدینہ پاک میں شروع میں نازل ہوئیں، اور سورہ براءت نزول میں آخری قرآن ہے، اور اس کا قصہ سورۂ انفال کے قصے سے مشابہ تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی وفات ہوگئی، اور ہمارے سامنے یہ صراحۃً بیان نہ فرمایا کہ یہ سورۂ انفال کا جز ہے، اس لیے میں نے انہیں ملا تو دیا، مگر ان کے درمیا ن بسم الله الرحمن الرحیم کی سطر نہ لکھی۔ (المستدرک علی الصحیحین، جلد 2، صفحہ 241، حدیث: 2875، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مذکورہ حدیث پا ک کے اس حصے کے تحت
إن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كان يأتي عليه الزمان تنزل عليه السور ذوات عدد
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: یعنی کبھی تو عرصہ تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی وحی نہ آتی تھی اور کبھی مسلسل سورتیں آتی رہتی تھیں پھر آیات کے نزول کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سورۃ کی کوئی آیت آگئی اورکبھی دوسری سورۃ کی کوئی آیت، سورتوں کے نزول کا بھی یہ ہی حال تھا کہ کبھی پچھلی سورۃ پہلے آگئی اور کبھی اگلی سورۃ پیچھے نازل ہو گئی، کیونکہ سورتوں آیتوں کا نزول حسب ضرورت ہوتا تھا یہ ترتیب نزول کے مطابق نہیں بلکہ لوح محفوظ کی ترتیب کے لحاظ سے ہے یہ کلام جواب کے علاوہ ہے۔ اس حصے
فكان إذا نزل عليه الشيء يدعو بعض من كان يكتبه فيقول: ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا و كذا
کے تحت مزید فرماتے ہیں: یعنی جب کوئی آیت نازل ہوتی تو فرمادیتے کہ یہ آیت فلاں سورۃ کی فلاں آیت کی بعد رکھو، معلوم ہوا کہ ترتیب آیات توقیفی چیز ہے، جس میں عقل کو دخل نہیں، اسی لیے خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حکم اپنے اہتمام سے ترتیب دلائی، کیو نکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر لوح محفوظ پر تھی، دیکھتے تھے کہ وہاں کون سی آیت کس جگہ ہے، ادھر دیکھ کر ادھر ترتیب دیتے تھے۔ اس حصے
و تنزل عليه الآية فیقول: ضعوا هذه في السورة التي يذكر فيها كذا و كذا
کے تحت فرماتے ہیں: یہ دونوں جملے مکرر معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں فرق یہ ہے کہ وہاں شیئ فرمایا گیا جس سے چند آیتوں کا مجموعہ مراد ہے اور یہاں آیۃ ارشاد ہوا یعنی ایک آیت، مطلب یہ ہوا کہ اگر چند آیتیں ایک دم آتیں تو ان میں بھی سرکار خود ہی ترتیب دیتے تھے، اور اور اگر صرف ایک آیت آتی تب بھی ترتیب دیتے۔ خیال رہے کہ آیتوں کی ترتیب توبالاتفاق توقیفی ہے جس میں عقل کو دخل نہیں مگر سورتوں کی ترتیب میں اختلاف ہے بعض نے کہا وہ بھی توقیفی ہے بعض کے ہاں نہیں۔ (مراۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 289، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4582
تاریخ اجراء: 02 رجب المرجب 1447ھ / 23 دسمبر 2025ء