logo logo
AI Search

روزانہ پچیس مرتبہ مؤمنین کیلئے استغفار کرنے کا کیا اجر ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

روزانہ 25 مرتبہ مؤمنین کے لیے استغفار کرنے کا انعام

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

جی ہاں! یہ حدیث پاک موجود ہے۔ امام نور الدین ہیثمی علیہ الرحمہ نے مجمع الزوائد میں، امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے جمع الجوامع اور فتح الکبیرمیں، اور دیگر کئی محدثین کرام نے اس روایت کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل فرمایا ہے، لہذا مسلمانوں کے لئے بکثرت دعا کرنی چاہئے اور یہ نیکی کا کام عوام و خواص سب کر سکتے ہیں۔ رہی بات کسی کو بددعا دینے کی، تو کسی بھی مسلمان کو بلا وجہ شرعی بددعا دینے کی شرعااجازت نہیں، اور اگر کوئی بلاوجہ شرعی کسی کو بدعا دیتا ہے، تو وہ ان شاء اللہ قبول بھی نہیں ہوگی، کیونکہ دعا کی قبولیت کی بھی کچھ شرائط ہوتی ہیں۔

چنانچہ مجمع الزوائد وغیرہ کئی کتب حدیث میں روایت ہے ”عن ابي الدرداء قال: سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: من استغفر للمؤمنين و المؤمنات كل يوم سبعا و عشرين مرة، او خمسا و عشرين مرة، احد العددين، كان من الذين يستجاب لهم، و يرزق بهم اهل الارض“ ترجمہ: حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلى الله تعالی علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ہر روز مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے ستائیس مرتبہ یا پچیس مرتبہ استغفار کرے، ان دو عددوں میں سے کوئی ایک فرمایا، تو وہ ان لوگوں میں سے ہو جائے گا جن کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اہلِ زمین کو اس کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج 10، ص 210، رقم الحدیث 17600، دار الفکر، بیروت)

مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔ چنانچہ مسند الشامیین للطبرانی میں ہے ”عن عبادة بن الصامت، قال: سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: من استغفر للمؤمنين و المؤمنات كتب اللہ له بكل مؤمن ومؤمنة حسنة“ ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہو ئے سنا: جو مؤمنین و مؤمنات کے لئے مغفرت طلب کرے، اللہ عزوجل اس کے لئے ہر مؤمن اور مؤمنہ کے بدلے ایک نیکی لکھے گا۔ (مسند الشامیین، مسند یعلی عن ۔ ۔ ۔، ج 3، ص 234، مؤسسة الرسالة، بيروت)

جو شخص مظلوم نہ ہو اوردوسرے کے بارے میں بد دعا کرے، تو وہ مقبول نہیں، جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لا یزال یستجاب للعبد ما لم يدع باثم او قطيعة رحم‘‘ ترجمہ: ہمیشہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے، جبکہ وہ کسی گناہ یا رشتہ کاٹنے کی دعا نہ کرے۔ (صحیح مسلم، صفحہ 1050، رقم الحدیث 2735، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

اس کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے ’’و منه الدعاء على من لم يظلمه مطلقا‘‘ ترجمہ: (جو بد دعائیں قبول نہیں ہوتیں) ان میں ایسے شخص کے خلاف بد دعا کرنا بھی ہے، جس نے دعا کرنے والے پر کوئی ظلم نہ کیا ہو۔ ( مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1525، مطبوعہ: بیروت)

بلا وجہ شرعی بد دعا کرنا، جائز نہیں، جیساکہ فتاوی فیض الرسول میں ہے " ذاتی جھگڑے کی وجہ سے کسی مسلمان کے لیے بد دعا کرنا، جائز نہیں۔" (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 554، شبیر برادرز، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی 
فتوی نمبر: WAT-5327
تاریخ اجراء: 11 ربیع الاول 1448ھ / 25 اگست 2026ء