ذکر بالجہر کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا بلند آواز سے ذکر کرنا منع ہے ؟ حدیث پاک اور ہدایہ کی ایک عبارت کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ ذکر بالجہر ناجائز ہے اور دلیل یہ دیتا ہے کہ مشکاۃ شریف کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام نے بلند آواز سے ذکر کیا، تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو، تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے"۔ اور ہدایہ میں ہے: "ذکر بالجھر بدعة" یعنی ذکر بالجہر بدعت ہے۔ معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر ناجائز ہے۔ رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعی ذکر بالجہر بدعت اور ممنوع ہے ؟
جواب
قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر ذکر اللہ کی تعلیم دی گئی اور اس کے کثیر فضائل بھی بیان ہوئے اور یہ تمام نصوص جہری و سرّی دونوں طرح کے ذکر کو شامل ہیں، تو ذکر سرّی کیا جائے یا جہری دونوں ہی جائز اور موجبِ اجر و ثواب ہیں، تاہم افضل کون سا ہے ؟ یہ حکم موقع محل کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے، یعنی بعض صورتوں میں جہری ذکر افضل اور بعض میں سرّی ذکر افضل ہوگا۔ لہٰذا سرّی ذکر کے متعلق وارد ہونے والی کسی بھی دلیل کو بنیاد بنا کر جہری ذکر کو سرے سے ہی بدعت اور ناجائز قرار دینا شریعت پر افتراء باندھنا ہے جو ہرگز درست نہیں، نیز یہ قرآن و حدیث کے بعض حصے پر عمل کرنے اور بعض کو چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔
اوّلاً ذکر بالجہر کے جواز و استحباب کے دلائل ذکر کیے جائیں گے، اس کے بعد سوال میں بیان کردہ حدیث پاک اور عبارات فقہاء کا درست محمل اور مفہوم بیان کیا جائے گا۔
ذکر بالجہر کے تفصیلی دلائل سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ جہری ذکر دو طرح کا ہوتا ہے:
(1) ذکرِ مُتَوَسَّط: درمیانے درجہ کی آواز سے یوں ذکر کرنا کہ جو خود اپنی ذات یا دوسروں کے لیے تکلیف یا خلل کا باعث نہ ہو۔
(2)ذکرِ مُفْرَط: بہت بلند آواز سے ذکر کرنا کہ جو اپنے یا دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث ہو۔
ذکرِ جہرِ مفرط منع ہے، احادیث اور اقوالِ فقہاء میں اسی کی ممانعت مذکور ہے، لیکن ذکرِ جہرِ متوسط باتفاقِ علمائے کرام جائز و مستحب ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں کہ اس پر متعدد آیاتِ مبارکہ، کثیر احادیثِ طیبہ اور اقوالِ ائمہ و فقہاء موجود ہیں۔ چند ملاحظہ کیجیے:
آیاتِ مبارکہ:
الله رب العزت نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر کا عمومی حکم اور ترغیب ارشاد فرمائی، بعض آیات میں جہری کی تعلیم ارشاد فرمائی اور بعض جگہ مطلق حکم ارشاد فرمایا، اسے سری یا جہری کی قید سے مقید نہ فرمایا اور اہلِ علم پر یہ بات مخفی نہیں کہ نصوصِ مطلقہ کو ان کے عموم پر باقی رکھا جاتا ہے، دلیلِ شرعی کے بغیر مطلق کو مقید کرنا درست نہیں۔ چند آیاتِ قرآنیہ ملاحظہ کیجیے:
(1):﴿وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ یعنی: ”اور اللہ کو کثرت سے یادکرو، تاکہ فلاح پاؤ۔“ (سورۃ انفال، آیت 45)
(2):﴿یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا کَثِيْرًا﴾ یعنی: ”اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔“ (سورۃ احزاب آیت 41)
(3):﴿فَاذْکُرُوْنِيْٓ اَذْکُرْکُمْ﴾ یعنی: ”تو تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔“ (سورۃ بقرۃ، آیت 152)
(4): بلند آواز سے ذکر کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: ”پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرلو تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ (ذکر کرو)۔“ (سورۃ بقرۃ، آیت 200)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں کفار کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حج سے فارغ ہونے کے بعد بیت الله کے پاس کھڑے ہوکر اپنے باپ دادا کے کارناموں کو بلند آواز سے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور لوگوں کو سنایا کرتے تھے، ظہورِ اسلام کے بعد الله رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اپنے آباء و اجداد کے ذکر کی بجائے، الله کا ذکر کیا کرو اور جس طرح بلند آواز سے اپنے بڑوں کا ذکر کرتے تھے، اسی طرح ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اللہ کا ذکر کیا کرو۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ لوگوں کو سنانے کے لیے جو ذکر ہوگا وہ جہری ہی ہوگا، چنانچہ امام ابو محمد ابن عطیہ اندلسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وِصال: 542ھ) لکھتے ہیں: ”وكانت عادة العرب إذا قضت حجها تقف عند الجمرة فتتفاخر بالآباء وتذكر أيام أسلافها من بسالة و كرم وغير ذلك، فنزلت الآية ليلزموا أنفسهم ذكر اللہ تعالى أكثر من التزامهم ذكر آبائهم بأيام الجاهلية، هذا قول جمهور المفسرين“ترجمہ: عربوں کی عادت تھی کہ جب وہ اپنا حج مکمل کر لیتے تو جمرات کے پاس کھڑے ہو جاتے اور اپنے باپ دادا پر فخر کرتے اور ان کی بہادری، سخاوت، وغیرہ کارناموں کا ذکر کرتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، تاکہ یہ لوگ جس طرح زمانۂ جاہلیت میں اپنے آباء کا ذکر کیا کرتے تھے، اس سے زیادہ اللہ کے ذکر کا التزام کریں، یہی مفسرین کی اکثریت کا قول ہے۔ (تفسیر ابن عطیہ، ج 1، ص 276، مطبوعہ بیروت)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”دیگر آنکه جہرِ مذکور مشروع است بے شبہ... ازا ولہ آنست قول حق سبحانه و تعالى (كذكركم أبائکم)“ یعنی جان لو کہ ذکر بالجہر بلا شبہ جائز اور اس کے دلائل میں سے الله رب العزت کا فرمان ہے: (جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے)۔ (اشعّة اللمعات، جلد 2، ص 278، مطبوعہ مکتبہ نوریہ)
صراط الجنان فی تفسیر القرآن میں ہے: ”اس آیت سے بلند آواز سے ذکر کرنا اور لوگوں کا اکٹھے مل کر ذکر کرنا، دونوں ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ عرب لوگ اپنے باپ دادا کا ذکر بلند آواز سے کرتے تھے اور مجمع میں کرتے تھے۔“ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 319، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)
(5): ایک مقام پر ارشاد فرمایا:﴿فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ﴾ ترجمہ کنزالعرفان: ”پھر جب تم نماز پڑھ لو، تو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو۔“ (سورۃ نساء، آیت 103)
امام طبری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مذکورہ آیتِ مبارکہ کے تحت سید المفسرین حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی تفسیر نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”لا يفرض اللہ على عباده فريضة إلا جعل لها حدًّا معلوما... غيرَ الذكر، فإن اللہ لم يجعل له حدًا ينتهي إليه ...« فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ »، بالليل والنهار، في البر والبحر، وفي السفر والحضر، والغنى والفقر، والسقم والصحة، والسرِّ والعلانية، وعلى كل حالٍ“یعنی: اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد معیَّن فرمائی سوائے ذکر کے کہ اس کی کوئی حد نہ رکھی بلکہ فرمایا کہ ذکر کرو کھڑے بیٹھے، کروٹوں پر لیٹے، رات میں، دن میں، خشکی میں، تری میں، سفر میں، حضر میں، خوشحالی میں، محتاجی میں، تندرستی میں، بیماری میں، آہستہ آواز میں اور بلند آواز سے، ہر حال میں۔ (تفسیر طبری، جلد 9، صفحہ 164، مطبوعہ دارالتربیة والتراث)
(6) ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ﴾ یعنی: ”ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے، توان کے دل ڈر جاتے ہیں۔“ (سورۃ الانفال، آیت 2)
یہ آیت بھی ذکر بالجہر کے ثبوت کی واضح دلیل ہے ، کیونکہ دوسرے لوگ ذکراللہ اسی وقت سن پائیں گے جب بلند آواز سے کیا جائے گا، اگر آہستہ کیا جائے گا، تو دوسرے لوگ کیسے سن سکیں گے ؟
احادیثِ طیبہ:
ذکر بالجہر کے ثبوت پر بیسیوں احادیث اور آثارِ صحابہ موجود ہیں، اختصار کے پیشِ نظر چند ملاحظہ کیجیے، چنانچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو نماز میں آہستہ آواز میں تلاوت کرتے دیکھا، تو انہیں سرّ کی جگہ کچھ بلند آواز یعنی جہرِ متوسط کی تعلیم ارشاد فرمائی اور سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو زیادہ بلند آواز سے تلاوت کرتے دیکھا، تو انہیں بھی جہرِ متوسط یعنی پہلے کی بنسبت کچھ پست آواز کے ساتھ تلاوت کی تعلیم ارشاد فرمائی، جیساکہ سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، مستدرک للحاکم اور دیگر کتبِ احادیث میں ہے، واللفظ للاول: ”أن النبي صلى اللہ عليه وسلم خرج ليلة، فإذا هو بأبي بكر يصلي يخفض من صوته، قال: ومر بعمر بن الخطاب، وهو يصلي رافعا صوته، قال: فلما اجتمعا عند النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: يا أبا بكر مررت بك وأنت تصلي تخفض صوتك، قال: قد أسمعت من ناجيت يا رسول اللہ، قال: وقال لعمر: مررت بك، وأنت تصلي رافعا صوتك، قال: فقال: يا رسول اللہ، أوقظ الوسنان، وأطرد الشيطان، زاد الحسن في حديثه، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: يا أبا بكر، ارفع من صوتك شيئا، وقال لعمر: اخفض من صوتك شيئا“ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایک رات باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے، تو وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں، جب وہ دونوں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: میں تمہارے پاس سے گزرا اور تم آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں جس سے مناجات کر رہا تھا، اس کو سنا دیا (یعنی اللہ تعالیٰ کو)۔ اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: میں تمہارے پاس سے گزرا تھا اور تم بہت بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کی، یارسول اللہ! میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ حضرت حسن نے اپنی حدیث میں مزید یہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: تم اپنی آواز کچھ بلند کرو، اور حضرت عمر سے فرمایا: تم اپنی آواز کچھ پست رکھو۔ (سنن ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 509، مطبوعہ ھند)
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ جب ریا کاری یا کسی کی ایذاء وغیرہ کا خوف نہ ہو، تو جہر، سرّ سے افضل ہے کہ اس میں دوسروں کو بھی نفع ہوتا ہے، چنانچہ علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ/1451ء) لکھتےہیں:”وقال للصديق "ارفع من صوتك " حتى يقتدي بك من يسمعك، وهذا لخلوص نيته وسلامته عن الرياء“ یعنی: حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: "اپنی آواز کچھ بلند کرو"، تاکہ جو شخص تمہیں سنے وہ تمہاری پیروی کر سکے۔ یہ حکم اس لیے تھا کہ آپ کی نیت خالص تھی اور آپ ریا سے محفوظ تھے (لہٰذا جس کو ریا وغیرہ کا خوف نہ ہو، اس کے لیے ذکر بالجہر افضل ہے)۔ (شرح ابو داؤد للعینی، جلد 5، صفحہ 235، مطبوعہ ریاض)
اس حدیث پاک میں ذکر جہرِ متوسَط کی تعلیم دی گئی ہے، چنانچہ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1052ھ) لکھتےہیں:”هداية للطريق الوسط الذي هو خير الأمور“یعنی: یہاں متوازن اور متعدل راستے (جہر متوسط) کی رہنمائی کی گئی ہےاور یہی امور میں بہترین عمل ہے ۔ (لمعات التنقیح، جلد 3، صفحہ 319، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر کے بعد بلند آواز سے تسبیح پڑھا کرتے تھے، چنانچہ مصابیح السنۃ اور الترغیب والترہیب میں ہے، واللفظ للاول: ”كان رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم إذا سلّم من الوترِ قال: سبحانَ الملك القدّوس ثلاث مرات يرفع في الثالثة صوته“ ترجمہ: جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم وتر کا سلام پھیرتے، تو تین مرتبہ پڑھتے: ”سبحانَ الملك القُدُّوس“ اور تیسری مرتبہ اپنی آواز مبارک کو بلند فرماتے۔ (مصابيح السنة، جلد 1، صفحہ 445، مطبوعہ بیروت)
مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت ”المفاتيح في شرح المصابيح“ اور ”المفاتیح لابن ملک“ میں ہے، واللفظ للاوّل: ”هذا الحديث يدل على أن الذكر برفع الصوت جائز، بل مستحب إذا لم يكن فيه الرياء ليتعلمه الناس، لاظهار الدين ووصول بركة صوت الذكر إلى السامعين والدور والبيوت والحيوانات“ یعنی: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنا، نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں ریاکاری نہ ہو۔ اس طرح ذکر کرنے سے لوگ سیکھتے ہیں، دین کا اظہار ہوتا ہے اور ذکر کی برکت، سننے والوں، گھروں، مکانوں اور جانوروں تک پہنچتی ہے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، جلد 02، صفحہ 289، مطبوعہ شام)
ذکر بالجہر نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارکہ میں رائج تھا، چنانچہ بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیثِ پاک ہے:”أن ابن عباس رضی اللہ عنھما أخبرہ: أن رفع الصوت بالذکر حین ینصرف الناس من المکتوبۃ کان علی عھد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقال ابن عباس: کنت أعلم إذا انصرفوا بذلک إذا سمعتہ“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے غلام کو بتایا کہ لوگوں کا فرض نماز سے فارغ ہونے کے وقت بلند آواز سے ذکر کرنا، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں رائج تھا اور حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں (گھر میں) جب ذکر کی آواز سنتا تھا ، تو جان لیتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو چکے ہیں۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 168، مطبوعہ مصر)
اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں”استدل به بعض السلف على استحباب رفع الصوت بالتكبير والذكر عقيب المكتوبة“ یعنی: بعض سلف صالحین نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ فرض نماز کے بعد تکبیر اور اذکار بلند آواز سے پڑھنا مستحب ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 6، صفحہ 126، مطبوعہ بیروت)
اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”گفته اندکه مراد بتکبیر اینجا ذکر است چناں کہ در صحیحین از ابن عباس آمده است کہ رفع صوت بذکر وقت انصراف مردم از نمازِ فرض در زمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معهود بود گفت ابن عباس می شناختم من انقضاء صلوة را بداں پستر آوردہ است۔ بخاری ایں حدیث را پس معلوم شد کہ مراد بتکبیر مطلق ذکر است“ یعنی علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں تکبیر سے مراد مطلق ذکر ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نمازوں کے بعد ذکر بالجہر معروف تھا اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں اختتامِ نماز کو ذکر بالجہر سے پہچانتا تھا۔ اس کے بعد امام بخاری نے اس حدیث کو ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ یہاں تکبیر سے مراد مطلق ذکر ہے۔ (اشعّة اللمعات، جلد 1، صفحہ 418، مطبوعہ مکتبہ نوریہ)
ذکر اللہ اس طرح کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ اور منافق ریاکار کہیں، چنانچہ مسند احمد میں ہے: ”أكثروا ذكر اللہ حتى يقولوا: مجنون“یعنی: اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں۔ (مسند احمد، جزء 18، صفحہ 195، مطبوعہ بیروت )
اور معجم كبير میں ہے:”أذکروا ﷲ ذکرا يقول المنافقون إنکم تراؤون“ یعنی: اللہ کا ذکر اس طرح کرو کہ منافق تمہیں ریا کار کہیں۔ (المعجم الکبیر، جلد 12، صفحہ 169، مطبوعہ القاھرۃ)
ان احادیث میں بھی ذکر بالجہر کا واضح ثبوت موجود ہے، یوں کہ ذکر اللہ کی کثرت کرنے پر لوگ تبھی دیوانہ اور ریاکار کہیں گے، جب وہ سنیں گے اور سن اسی وقت سکتے ہیں جب ذکر بالجہر ہو گا، معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر ہر گز بدعت نہیں، بلکہ تعلیمِ نبوی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہے۔
عباراتِ فقہاء:
ہمیشہ سے متقد مین و متاخرین ائمۂ کرام و فقہائے عظام ذکر بالجہر کے جواز و استحباب کو بیان کرتے آئے ہیں، اختصار کے پیشِ نظر چند عبارات ملاحظہ کیجیے، چنانچہ علامہ اَحمد طَحْطاوی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1231ھ/1815ء) لکھتے ہیں:”الخلاف في استحباب الجهر وعدمه لا في كراهته وعدمها فعندهما يستحب وعنده الاخفاء أفضل وذلك لأن الجهر قد نقل عن كثير من السلف كابن عمر وعلي وأبي أمامة الباهلي والنخعي وابن جبير وعمر بن عبد العزيز وابن أبي ليلى وأبان بن عثمان والحكم وحماد ومالك والشافعي وأحمد وأبي ثوریعنی: فقہائے کرام کے درمیان فقط اس بات میں اختلاف ہے کہ ذکر بالجہر مستحب ہے یا نہیں، اس کے مکروہ ہونے کا قول کسی نے نہیں کیا، چنانچہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک بلند آواز سے ذکر کرنا مستحب ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک آہستہ ذکر کرنا افضل ہے۔ اور جہر کے مستحب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ کثیر سلف صالحین سے منقول ہے، جیسے حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت علی، حضرت ابو امامہ باہلی، امام نخعی، سعید بن جبیر، عمر بن عبدالعزیز، امام ابن ابی لیلیٰ، ابان بن عثمان، امام حکم، امام حماد، امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور امام ابو ثور، رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ (حاشية الطحطاوي على المراقي، صفحہ 531، مطبوعه بیروت)
علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:”ان الجهر أفضل لأنه اکثر عملاً ولتعدی فائدته الی السامعين ويوقط قلب الذاکر فيجمع همه الی الفکر و يصرف سمعه و بطرد النوم ويزيد النشاط ... وفي حاشية الحموي عن الامام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارى“ ترجمہ: بلند آواز سے ذکر افضل ہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے اور اس کا فائدہ سننے والوں تک پہنچتا ہے اور یہ ذکر کرنے والے کے دل کو بیدار کرتا ہے، اس کی توجہ کو یکسو کرکے فکر و تدبر کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کانوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے، نیز نیند بھگاتا اور چستی بڑھاتا ہے ۔اور حموی کے حاشیہ میں امام شعرانی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ سلف و خلف کے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ مساجد اور دیگر مقامات میں اجتماعی طور پر ذکر کرنامستحب ہے، بشرطیکہ اس سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے یا قرآن کی تلاوت کرنے والے کو تشویش نہ ہو۔ (ردالمختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 524، مطبوعہ کوئٹہ)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”ذکر جلی جائز ہے، حد معین یہ ہے کہ اتنی آواز نہ ہو جس سے اپنے آپ کو ایذا ہو یا کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو تکلیف پہنچے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 182، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
جہاں تک سوال میں بیان کردہ حدیثِ پاک یا اس مفہوم کی دیگر احادیثِ طیبہ یا اُن اقوالِ فقہائے کرام کا معاملہ ہے کہ جن سے ذکر بالجہر کی ممانعت مفہوم ہوتی ہے، تو ان کا جواب یہ ہے کہ ان میں در حقیقت ذکر بالجہر سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ جہرِ مفرَط سے منع کیا گیا ہے، یعنی اس قدر بلند آواز سے ذکر کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ جس سے اپنی جان کو ایذا ہو یا کسی نمازی، مریض یا سونے والے کو تکلیف ہو اور اگر اس طرح کی کوئی صورت نہ ہو، تو بلند آواز سے ذکر یا تلاوت کرنا مستحب، بلکہ کئی حکمتوں کے پیشِ نظرافضل اور بہتر ہے اور خود نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے عمل شریف سے بھی ثابت ہے، جس کا بیان گزر چکا۔ بیان کردہ اس توجیہ پر بنیادی دلیل حدیثِ پاک ہی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایسے وقت میں بلند آواز سے تلاوت سے منع فرمایا جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو، چنانچہ مسند احمد میں ہے:”عن علي، قال: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وآلہ وسلم أن يرفع الرجل صوته بالقرآن قبل العشاء وبعدها، يغلط أصحابه وھم یصلون“ ترجمہ: حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے اور بعد ایسے وقت بلند آواز سے تلاوت کرے کہ جب اس کے ساتھی نماز پڑھ رہے ہو ں اور وہ مغالطے میں پڑیں۔ (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 90، مطبوعہ بیروت)
اب سوال میں بیان کردہ مکمل حدیثِ پاک اور اس کی شرح ملاحظہ کیجیے، صحیح بخاری میں ہے: ”عن أبي موسى الأشعري رضي اللہ عنه قال: كنا مع النبي صلى اللہ عليه وسلم في سفر، فكنا إذا أشرفنا على واد هَلَّلْنَا وكبَّرْنَا وارتفعت أصواتنا، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: «يا أيها الناس، اربعوا على أنفسكم، فإنكم لا تدعون أصمّ ولا غائبا، إنّه معكم، إنّه سميع قريب“ یعنی: حضرت ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم کسی وادی میں اترتے تو ”لا الہ الا اﷲ“ اور ”اﷲ اکبر“ کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے، بے شک وہ سننے والا اور بہت قریب ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ 57، مطبوعہ مصر)
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت معروف محدث و فقیہ علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں: ”أي: ارفعوا ولا تبالغوا في الجهر“ یعنی: بلند آواز سے ذکر کرو، لیکن جہر میں مبالغہ نہ کرو (کہ جس سے اپنے آپ کو ہی تکلیف ہو)۔ (عمدة القاري، جلد 25، صفحہ 92، مطبوعہ بیروت)
ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں ہے: ”أي: ارفقوا بها، لا تبالغوا في رفع أصواتكم، أو لا تعجلوا“ مفہوم واضح ہے۔ (ارشاد الساری، جلد 10، صفحه 371، مطبوعہ مصر)
محقق علی الاطلاق، شاہ عبد الحق محدث دہلوی حنفی بخاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”ومضمون (اربعوا) يدل على أن المنع للشفقة عليهم لا لعدم الجواز، وقد جهر صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم بأذكار وأدعية في مواطن جمة وكذا السلف وكل هذه دالة على الجهر والجمع“ یعنی: "اربعوا" (اپنے اوپر نرمی کرو) کا مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام پرشفقت کی وجہ سے انہیں بلند آواز سے ذکر کرنے سے منع فرمایا تھا، عدمِ جواز (ناجائز ہونے) کی وجہ سے نہیں، کیونکہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے متعدد مواقع پر اذکار اور دعائیں جہر یعنی بلند آواز سے فرمائیں، اسی طرح سلف صالحین کا بھی یہی معمول رہا۔ ان سب میں اس بات پر دلیل ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنا اور اجتماعی طور پر کرنا، جائز ہے۔ (لمعات التنقيح، جلد 5، صفحہ 29، مطبوعہ دارالنوادر، دمشق)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1176ھ) لکھتے ہیں:”فاوّل ما یلقنو الہ الجھر بذکر اللہ تعالیٰ، والمراد بھذا الجھر ھو غیر المفرط فلا منافاۃ بینہ وبین مانھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حیث قال: اربعوا علی انفسکم فانکم لا تدعون اصماً ولا غائباً (الحدیث)“ یعنی: سب سے پہلا عمل جس کی مشائخ قادریہ تلقین کرتے ہیں وہ بلند آواز سے ذکر اللہ کرنا ہے اور اس جہر سے مراد جہر غیر مفرط ہے۔ اس ذکر بالجہر میں اور اس کے متعلق اس ممانعت میں کوئی منافات اور تضاد نہیں ہے جو رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے منع فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ”اپنے اوپر نرمی کرو، بیشک تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں سنا رہے۔“ (القول الجمیل مع ترجمہ شفاء العلیل صفحہ 47، 48، مطبوعہ سعید کمپنی، کراچی)
معلوم ہوا کہ حدیثِ پاک میں علی الاطلاق ذکر بالجہر سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ ذکر میں فقط جہرِ مفرَط سے منع کیا گیا ہے ۔
اسی طرح جن عباراتِ فقہاء میں ذکر بالجہر کو بدعت یا ممنوع کہا گیا، ان کا بھی یہی جواب ہے کہ یہاں ”جہرِ مفرط“ مراد ہے، کیونکہ کثیر احادیثِ طیبہ اور فقہ حنفی ہی کی مستند کتب میں ذکر بالجہر کو مستحب اور کئی صورتوں میں افضل قرار دیا گیا ہے، لہٰذا جن کتابوں میں ذکر بالجہر کو ممنوع کہا گیا، وہ بھی ”جہر مفرط“ پر محمول ہیں۔
چنانچہ علامہ خیر الدین رملی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1081ھ) لکھتے ہیں:”فان قلت صرح في الخانية بأن رفع الصوت بالذكر حرام ... محمول على الجهر الفاحش المضر“ ترجمہ: اگر تو یہ کہے کہ خانیہ میں صراحت ہے کہ ذکر بالجہر حرام ہے، تو جواب یہ ہے کہ یہ ایسے جہر پر محمول ہے جو بہت بلند اور مضر ہو (یعنی جہرِ مفرط ہو )۔ (الفتاوی الخیریۃ، جلد 2، صفحہ 181، مطبوعہ المطبعۃ الکبری، مصر)
اور علامہ عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ذکر بالجہر کے ثبوت پر تفصیلی رسالہ، بنام "سباحۃ الفکر فی الجہر بالذکر" لکھا، جس میں آپ نے ذکر بالجہر کے ثبوت پر 50 سے زائد احادیث پیش کیں اور منکرین کے دلائل کے مدلل و تفصیلی جوابات بھی تحریر فرمائے، چنانچہ ناجائز و بدعت کہنے والوں کو متعدد دلائل دینے کے بعد خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”وخلاصۃ المرام فی ھذا المقام: ... لا ریب فی کون الجھر المفرط ممنوعاً لحدیث: "اربعوا علی انفسکم" اما الجھر الغیر المفرط فالاحادیث متظاھرۃ ، والآثار متوافقۃ علی جوازہ ، ولم نجد دلیلاً یدل صراحۃ علی حرمۃ او کراھۃ ...والظاهر ان مراد من قال: الجهر حرام، هو الجهر المفرط بدليل يستدلون عليه بقوله عليه الصلاة والسلام: "اربعوا علي انفسكم" الحديث. وقد عرفت في شان وروده انّ وروده انما كان في الجهر المفرط، لا في الجهر مطلقا، مع انه كيف تثبت الحرمة الحقيقية بخبر الاحاد الذي هو من الادلة الظنية. ومن قال: إنه بدعة أراد به أن إيقاعه علي وجه مخصوص والتزام ملتزم لم يعهد في الشرع، بدليل أنهم أطلقوا البدعة عليه في بحث التكبير في طريق صلاة عيد الفطر و قالوا الجهر به في الطريق علي الوجه المخصوص إنما ورد في عيد الأضحي وأما في عيد الفطر فهو بدعة“.
یعنی: اس مقام پر حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حد سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ ذکر کرنا ممنوع ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اپنے اوپر نرمی کرو "۔ بہر حال جہرِ غیرِ مفرط، تو احادیث اس کی تائید کرتی ہیں اور آثار بھی اس کے جواز کے موافق ہیں۔ مزید یہ کہ ہمیں کوئی بھی ایسی صریح دلیل نہیں ملی جو اس کو حرام یا مکروہ قرار دیتی ہو۔ اور جن علماء نے بلند آواز سے ذکر کو حرام کہا ہے، ان کی مراد بھی جہرِ مفرط ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اسی فرمان: "اپنے اوپر نرمی کرو" سے استدلال کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ جان چکے ہیں کہ یہ حدیث جس موقع پر وارد ہوئی، وہاں مقصود صرف ضرورت سے زیادہ بلند آواز تھی، مطلق بلند آواز نہیں۔ نیز خبرِ واحد کہ جو ظنی دلائل میں سے ہے، اس سے حقیقی حرمت کیسے ثابت کی جا سکتی ہے؟ اور جن علمائے کرام نے اسے "بدعت" قرار دیا ہے، ان کی مراد (یہ نہیں کہ مطلقاً ذکر بالجہر بدعت ہے، بلکہ مراد) یہ ہے کہ کسی ایسے مخصوص طریقے کو لازم سمجھ لینا بدعت ہے جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ علماء نے عید الفطر کی نماز کے لیے جاتے ہوئے راستے میں تکبیر کہنے کی بحث میں بھی اسے بدعت قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ راستے میں مخصوص انداز سے بلند آواز کے ساتھ تکبیر کہنا صرف عید الاضحیٰ کے بارے میں منقول ہے، جبکہ عید الفطر میں اسی مخصوص ہیئت اور التزام کے ساتھ ایسا کرنا چونکہ منقول نہیں، تو یہ بدعت ہے۔ (سباحۃ الفکر، صفحہ 68، 69، مطبوعہ المطبوعات الاسلامية، حلب)
اسی تطبیق و توفیق کو بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اُس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہا تھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لیے آئے فوراً آہستہ ہو جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد، 8 ص 100، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”ہاں دوسرے مسلمانوں کی ایذاء نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے، سوتوں کی نیند میں خلل نہ ہو، نمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہو، کما نص علیہ فی بحر الرائق ورد المحتار وغیرھا۔ جب وقت لوگوں کی نیند کا ہو یا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو، مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختار مطلق ہو، کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق ”مجنون“ کہیں اور وہابی ”بدعت“۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 179، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)
حاصل یہ کہ ذکر بالجہر بلا شبہ جائز، مستحب اور کئی صورتوں میں افضل ہے اور جہاں اس کی ممانعت مذکور ہے، وہاں جہرِ مفرط مراد ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب:مفتی محمدقاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-10113
تاریخ اجراء: 10 صفر المظفر 1448ھ/25 جولائی 2026ء