logo logo
AI Search

مسافر دن میں مقیم ہو تو روزے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسافر دن میں مقیم ہوا تو اس دن کے روزے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

کوئی شخص صبحِ صادق کے وقت مسافر تھا پھر دن کے کسی حصے میں مقیم ہوا تواس کےلئے روزہ رکھنےکےحوالے سے کچھ تفصیل ہے:

(1) اگر وہ ضحوہ کبری کے بعد مقیم ہوا ہے تو اب روزے کی نیت نہیں کرسکتا کیونکہ رمضان کے ادا روزے کی نیت ضحوہ کبری سے پیشتر ہوسکتی ہے بشرطیکہ صبحِ صادق کےبعد کچھ کھایا پیا نہ ہو، اس صورت میں مسافر روزہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن اس پر واجب ہوگا کہ غروبِ آفتاب تک کا وقت روزہ دار کی طرح گزارے یعنی مقیم ہونے کے بعد اب کچھ کھا پی نہیں سکتا۔

(2) یونہی مسافر ضحوہ کبری سے پہلے مقیم ہوا لیکن وہ صبحِ صادق کے بعد کچھ کھا پی چکا تھا تو اب بھی روزہ نہیں رکھ سکتا اور اس صورت میں بھی اس پر واجب ہےکہ غروبِ آفتاب تک کا وقت روزہ دار کی طرح گزارے نیز ان دونوں صورتوں میں وہ بعد میں اس روزے کی قضا کرے گا۔

(3) اگر مسافر ضحوہ کبری سے پہلے مقیم ہوا اور صبحِ صادق کے بعد سے کچھ کھایا پیا نہیں تو اس پر روزے کی نیت کرلینا واجب ہے، اگر روزہ نہیں رکھتا تو گناہگار ہوگا اور بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔

جیساکہ علامہ ابو بکر حدادی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی: 800ھ) فرماتے ہیں: (قوله و اذا قدم المسافر او طهرت الحائض فی بعض النهار امسكا بقية يومهما) هذا اذا قدم المسافر بعد الزوال او قبله بعد الاكل اما اذا كان قبل الزوال و الاكل فعليه الصوم“ یعنی دن کے کچھ حصے میں مسافر مقیم ہوگیا یا حیض والی پاک ہوگئی توجو کچھ دن باقی رہ گیا ہے ،دونوں اس میں امساک کریں گے (یعنی روزے کے مثل گزاریں گے)۔ مسافر والا مسئلہ اس وقت ہے کہ جب وہ زوال کے بعدمقیم ہوا یا زوال سے پہلے مقیم ہوچکا تھا لیکن صبحِ صادق کے بعد کھا پی لیا تھا (تو وہ دن کا باقی حصہ روزہ دار کی طرح رہے گا)، اگر مسافر زوال سے پہلے مقیم ہوا اور صبحِ صادق سےکچھ کھایا پیا نہ ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج 1، ص 144، مطبوعہ مطبعہ خیریہ مصر)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسافر نے ضحوہ کبری سے پیشتر اقامت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تو روزہ کی نیت کرلینا واجب ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 05، ص 1003، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مسافرنے اقامت کی، حیض و نفاس والی پاک ہوگئی، مجنون کو ہوش ہوگیا، مریض تھاا چھا ہوگیا ۔ ۔ ۔ ان سب باتوں میں جو کچھ دن باقی رہ گیا ہے،اسے روزے کے مثل گزارنا واجب ہے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 05، ص 990، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Nor-13748
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1446ھ / 18 مارچ 2025ء