صوم دہر کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
صوم دہر کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ صوم دہر کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب
صوم دہر (یعنی ممنوعہ ایام کے سوا ہمیشہ روزے سے رہنے) مکروہ تنزیہی ہے۔
بخاری شریف کی حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ”قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: إنك لتصوم الدهر وتقوم الليل، فقلت: نعم، قال: إنك إذا فعلت ذلك هجمت له العين، ونفهت له النفس، لا صام من صام الدهر، صوم ثلاثة أيام صوم الدهر كله، قلت: فإني أطيق أكثر من ذلك، قال: فصم صوم داود عليه السلام، كان يصوم يوما ويفطر يوما، ولا يفر إذا لاقى“ ترجمہ: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور صوم دہر رکھتے ہو گے اور رات میں قیام کرتے ہو گے؟ میں نے عرض کی جی ہاں۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں (کمزوری سے) دھنس جائیں گی اور تمہارا نفس تھک جائے گا۔ جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے گویا روزے ہی نہیں رکھے۔ تین دن کے روزے پورے سال کے روزے رکھنے جیسا ہے۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ فرمایا: پس پھر تم صوم داؤدی رکھو۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہ پھیرتے۔ (صحيح البخاري، صفحہ 358، رقم الحدیث: 1979، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
فتح باب العنایہ میں ہے "یکرہ ۔۔۔صوم الدهر لأنه يضعفه أو يصير طبعا له، ومبنى العبادة على خلاف العادة" ترجمہ: صو دہر مکروہ ہے؛ کیونکہ یہ انسان کو کمزور کر دیتا ہے یا اس کی عادت بن جاتا ہے جبکہ عبادت، عادت کے برخلاف ہوتی ہے۔ (فتح باب العنایہ، جلد 1، صفحہ 582، مطبوعہ: کراچی)
در مختار میں ہے "المكروه ۔۔۔تنزيها ۔۔۔صوم دهره" ترجمہ: صوم دہر کا روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
رد المحتار میں ہے ”النهي عن صوم الدهر ليس لصوم هذه الأيام بل لما يضعفه عن الفرائض والواجبات والكسب الذي لا بد له منه“ ترجمہ: صوم دہر سے ممانعت ان ایام کے روزوں کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ مسلسل روزوں سے فرائض، واجبات اور ضروری کسب معاش کے معاملے میں کمزوری ہو جانے کی وجہ سے ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 03، صفحہ 391، 392، مطبوعہ:کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "(روزے کی ایک قسم) مکروہِ تنزیہی (ہے) جیسے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنا۔ نیروز و مہرگان کے دن روزہ۔ صومِ دہر (یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا) ۔" (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 05، صفحہ 966، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5258
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر1448ھ/28 جولائی 2026ء